لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

سوال نمبر 1:برائے کرم یہ بتائیں کہ اگر طلاق زبردستی دلوائی جائے یعنی مرد طلاق نہ دینا چاہتا ہو لیکن لڑکی کے خاندان والے اُسے دھمکیاں دیں اور اپنی زندگی بچانے کے لئے وہ طلاق کے کاغذات پر دستخط کردے تو کیا ایسی طلاق اسلام میں جائز ہوگی؟

سوال نمبر 2:کورٹ کی طرف سے خلع کی کیا حیثیت ہے ۔کیا یہ اسلام میں قابل قبول ہوگی؟

الجواب باسم ملهم الصواب

جواب نمبر 1:اگر جبر و اکراہ کر کے طلاق تحریر کرادی جائے اور زبان سے طلاق کے الفاظ ادا نہ کئے جائیں تو شرعاً ایسی تحریر سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔البتہ اگر زبان سے بھی طلاق کے الفاظ کہہ دیے توشرعا ً اس سے طلاق واقع ہوجائے گی۔

رجل أكره بالضرب والحبس علی أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته(فتاویٰ ھندیۃ،ص 379، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ – 1991م)۔۔۔( ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ) ( ولو عبدا أو مكرها ) فإن طلاقه صحيح(الدر المختار،ص235، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1386،مكان النشر بيروت)

جواب نمبر 2:واضح رہے کہ خلع بھی مالی معاملات کی طرح ایک معاملہ ہے جس میں فریقین کی باہمی رضامندی ضروری ہے ۔اس لئے کسی ایک فریق کی رضا مندی کے بغیر خلع کا وقوع نہیں ہوتا۔لہذا عدالت کا شوہر کی عدم موجودگی کی صورت میں یک طرفہ خلع کی ڈگری جاری کرنا علیحدگی کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ اگر عدالت نے شوہر کو بلایا اور شوہر نے اپنی رضامندی ظاہر کردی تو خلع ہوجائے گی۔

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول(بدائع الصنائع،کتاب الطلاق ،فصل فی شرائط رکن الطلاق)۔۔۔والخلع جائز عند السلطان وغيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي(المبسوط،کتاب الطلاق، باب الخلع)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل