لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان / رجسٹر
بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

صوفی جمیل الرحمٰن عباسی مدیر ماہ نامہ مفاہیم

یورپ شکست کھانے والا ہے !!

کچھ مسلمان پِٹ رہے ہیں اور باقی تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیل مارنے والا ہے اور یورپ اسلحہ فراہم کرنے والا ہے۔ ان یورپی درندوں میں اٹلی بھی شامل ہے لیکن اس حقیقت سے بے خبر کہ عن قریب یہ خود شکست کھا کر مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب ہونے والا ہے۔ دن، مہینا اور سال ہم بتا نہیں سکتے کہ یہ کچھ ہمیں بتایا نہیں گیا، لیکن اتنا ہم کہتے ہیں کہ یہ لازماً ہو کر رہے گا۔ اگر ہم قسم اٹھا کر کہیں تو یقینی بات ہے کہ ہماری قسم جھوٹی نہیں ہو گی۔ اس کا ہونا اتنا یقینی ہے کہ جتنا ہمارا لکھنا اور آپ کا پڑھنا !! اور یقین کیوں کر نہ ہو کہ اس کی خبر صحیح حدیث میں موجود ہے۔یہ حدیثِ پاک امام حاکم رحمہ اللہ نے مستدرک میں روایت کی اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا۔ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے سلسلة الأحاديث الصحيحة، میں چار نمبر کے تحت، بہت سی دوسری کتابوں کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے:حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی لکھی ہوئی احادیث میں سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺسے سوال کیا گیا:«أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوِ الرُّومِيَّةِ؟».’’قسطنطنیہ اور رومیہ، ان دو شہروں میں سے کون سا شہر پہلے فتح ہو گا؟‘‘، آپﷺنے فرمایا: «مَدِينَةُ هِرَقْلَ تُفْتَحُ أَوَّلًا».’’ہِرَقل کا شہر پہلے فتح ہو گا‘‘۔ ہم جانتے ہیں کہ ہِرَقل،رسول اللہﷺکا ہم عصر بازنطینی بادشاہ (قیصر) تھا۔ہرقل کے شہر سے مراد اس کا پاےتخت قسطنطنیہ ہے۔چنانچہ راویِ حدیث بیان کرتے ہوئے آخر میں یہ الفاظ بڑھاتے تھے:يَعْنِي الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ.’’شہر ہِرَقل سے آپﷺکی مراد قسطنطنیہ ہے‘‘۔ اس شہر کا ایک نام بیزنطہ بھی تھا اور مسلمانوں کے ہاتھوں فتح (857ھـ/ 1453ء)کے بعد اس کا نام استنبول رکھا گیا۔ رومیہ سے مراد شہر روم ہے جیسا کہ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ذیل میں لکھا ہے: ’’کتاب معجم البلدان کے مطابق رومیہ، شہرِ روم ہی کا ایک نام ہے جو آج کل اٹلی کا دار الحکومت ہے۔ پہلی یعنی شہر ہرقل یا قسطنطنیہ کی فتح عثمانی خلیفہ محمد الفاتح کے ہاتھوں ہوئی اور یہ واقعہ نبیِ اکرمﷺکے خبر دینے کے آٹھ سو سے زیادہ سال کے بعد پیش آیا اور دوسری فتح بھی اللہ کے حکم سے ظاہر ہو گی اور اس کا ظہور لازمی ہے‘‘۔نبیِ کریمﷺکی یہ پیش گوئی آپ کی دیگر پیش گوئیوں کی طرح لازماً پوری ہو گی۔ اگر چہ بظاہر حالات حوصلہ افزا نہیں لیکن قسطنطنیہ کی فتح کو یاد رکھیں اور سوچیں کہ جب مسلمان تاتاریوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن ہے تھے تو کون سوچ سکتا تھا کہ یہ امت دوبارہ سر اٹھانے کے قابل ہو کر ایک سپر پاور کے قدیمی پاے تخت کو فتح کر سکے گی لیکن چشمِ فلک نے دیکھا کہ ہمارے رسولﷺکی دی ہوئی خبر سچ ثابت ہوئی اور مسلمانوں نے شہرِ قیصر یعنی قسطنطنیہ فتح کر لیا۔ پس اسی طرح ایک دن آئے گا کہ اٹلی کا پاے تخت روم بھی مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہو گا۔ اب سوچیے کہ جب اٹلی فتح ہو گا تو کیا اس کا پڑوسی فرانس مسلمانوں کی قدم بوسی سے محروم رہنا گوارا کرے گا۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب ہو کر رہے گا اور اس طرح فتحِ روم پورے یورپ کی فتح کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔ اس بڑی فتح کی بشارت احادیث میں ایک دوسرے انداز سے بھی بیان کی گئی ہے، رسول اللہﷺفرماتے ہیں:«إِنَّ اللهَ زَوَى لِي الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا، وَإِنَّ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مُلْكُهَا مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا».(صحیح مسلم) ’’بے شک اللہ نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا، پس میں نے اس کے مشرق و مغرب دیکھ لیے۔اور بے شک میری امت کی حکومت ان تمام علاقوں پر قائم ہو گی جو مجھے لپیٹ کر دکھائے گئے‘‘۔ایک دوسری حدیث میں آتا ہے:«لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَلَا يبقى بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدّينَ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلّ ذَلِيلٍ عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَذُلّا يُذِلُّ بِهِ الْكُفْرَ». (مسند ِاحمد) ’’جہاں بھی رات و دن کا سلسلہ قائم ہے وہاں تک یہ دین پہنچے گا۔ نہ اینٹ گارے کا کوئی مکان بچے گا اور نہ اونٹ کے بالوں کا خیمہ مگر اللہ اس میں اپنے دین کو داخل کرے گا، چاہے کسی عزت والے کو عزت دے کر یا کسی ذلیل کی ذلت کے ساتھ، عزت وہ کہ جس کے ساتھ اللہ اسلام کو عزت دے گا اور ذلت وہ کہ جس کے ساتھ اللہ کفر (اور اہلِ کفر) کو ذلیل کرے گا‘‘۔ موجودہ مشکل حالات میں نبیِ کریمﷺکی یہ احادیث ہماری حوصلہ افزائی کا سامان ہیں کہ لا محالہ فتح اسلام اور اہلِ اسلام کی ہو گی۔ ہاں اس سے پہلے آزمائشوں کا ایک دور ہے کہ جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ ان حالات میں ہمیں نہ صرف دین کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہیے بلکہ جہاں جہاں ممکن ہو ہم فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت و نصرت کریں۔

لرننگ پورٹل