لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

لاگ ان / رجسٹر
بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

بدھ 18 محرم 1446 بہ مطابق 24 جولائی 2024

فیض الدین احمد

قضیۂ فلسطین اور فیض احمد فیضؔ

عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کی شکست اور جمال عبد الناصر کے ہاتھوں شہنشاہیت کے خاتمے کے بعد عرب دنیا میں تبدیلی کی جو لہر اُٹھی، اس سے ترقی پسند شعرا بھی بے حد متاثر ہوئے۔ اقبالؔ اور اس مکتبِ فکر کے ہاں مسئلہ فلسطین، امتِ مسلمہ کا مسئلہ ٹھہرا جس میں مذہبی عنصر سب سے مقدّم اور لازمی شے تھی جب کہ ترقی پسندوں کے نزدیک یہ یقیناً انسانی مسئلہ تھا۔ لہٰذا اس انسانی مسئلے کو بہت سے ترقی پسند شعرا نے اپنے احساسات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ فیضؔ کے ہاں بھی مسئلۂ فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر متعدد نظمیں ملتی ہیں۔ یہ نظمیں انسانی دردمندی کے جذبے سے سرشار ہیں۔ یہ نظمیں فیضؔ نے اپنے جلا وطنی کے زمانے میں کہیں۔ فیضؔ کے لیے لوٹس[1] کی ادارت کی پیش کش انگولا میں منعقدہ ایفرو ایشیائی ادیبوں کے اجتماع میں یاسر عرفات کے مشیرِ ثقافت اور معروف شاعر معین بسیسو لائے ”جن سے فیضؔ کی پرانی یاد اللہ تھی‘‘ نے کی تھی، لیکن فیضؔ نے اس دعوت کو یاسر عرفات کی جانب سے باقاعدہ پیش کش اور ملاقات کے بعد قبول کیا۔ اس کے بعد وہ بیروت میں اس وقت تک قیام پذیر رہے جب تک ان کا مکان بم باری سے تباہ نہ ہو گیا۔ اس دوران فیضؔ کے کئی ممتاز شخصیات سے قریبی مراسم رہے۔ فلسطینی تحریکِ آزادی سے وابستگی کے دنوں میں معین بسیسو اور محمود درویشؔ جیسی شخصیات سے فیضؔ کے دوستانہ تعلقات تھے۔ فیضؔ کے قیامِ بیروت کے زمانے کی تخلیقات میں بالواسطہ اور بلا واسطہ فلسطینی حالات کی سنگینی کا ذکر موجود ہے۔ اس دور کی شاعری وہاں کی مقامی اور عالمی حالات سے بہت زیادہ متاثر ہے۔ فیضؔ اس وجہ سے عربی لب و لہجے اور عربی لفاظی میں کشش محسوس کرتے تھے۔ ان کے ہاں ’’حقا‘‘، ’’بفضلِ خدا‘‘ اور ’’فرمودۂ ربِ اکبر“ وغیرہ جیسے الفاظ و تراکیب اس زمانے کی شاعری میں زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے عزیز حامد مدنی کا کہنا تھا کہ یہ کاوش اس لیے تھی کہ ان کے کلام کا بآ سانی عربی ترجمہ ممکن ہو۔ ان کے پانچویں مجموعہ کلام سر ِوادیِ سینا کی بیش تر شاعری ان ہی موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ مجموعہ فیضؔ کے قیامِ کراچی کے دوران مرتب ہوا۔ جیسا کہ اس مجموعے میں شامل نظم سر ِوادیِ سینا کے نام ہی سے ظاہر ہے کہ عرب اسرائیل جنگ کا گہرا اثر اس میں موجود ہے۔ مجموعے میں شامل دیگر کئی نظمیں بھی اسی رنگ میں رنگی ہوئی ہیں۔ اپنے عہد کے بعض انتہائی اہم اور سنگین واقعات جن کا تعلق اقوامِ عالم سے تھا، فیضؔ نے ان موضوعات پر بے مثال نظمیں لکھیں۔ عرب اسرائیل جنگ اور فلسطینیوں کی جد وجہدِ آزادی کو انھوں نے ظالم و مظلوم کی آویزش قرار دیتے ہوئے ان حالات کو معروضی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی۔

فیضؔ نے ہمیشہ امن کی ضرورت پر زور دیا، لیکن امن جب محض خواب رہ جائے اور خواب دیکھنے والی آنکھوں میں میزائلوں کا زہر اور آتش زدہ انسانی بستیوں کا دھواں نشتر زنی کرنے لگے تو فیضؔ بھی یہ کہنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں کہ ’’لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے‘‘ عرب اسرائیل کشمش ظاہر سی بات ہے کہ ہمارے عہد کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو ہمارے ہاں مختلف زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ فیضؔ کو بھی عرب کاز سے گہرا لگاؤ تھا۔ اس زمانے میں نزار قبانی کو بڑی شہرت حاصل تھی۔ انھوں نے اپنی کتاب ’’پسپائی کے حاشیے‘‘ کے عنوان سے جون ۱۹۶۷ء کے المیے پر ایک نہایت مؤثر اور باغیانہ نظم لکھی۔ اگست ۱۹۶۷ء میں اس نظم کے شائع ہوتے ہی عرب دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ کئی ممالک میں تو اس نظم کی اشاعت ممنوع قرار دی گئی۔ واقعہ چونکہ سنگین تھا اور عرب شعرا نے اس کو نزار قبانی کی طرح نہ صرف محسوس کیا بلکہ اس طرز کی بے شمار نظمیں اس المیے پر لکھی گئیں۔ فیضؔ کی نظم سرِوادیِ سینا بھی ۱۹۶۷ ء ہی میں لکھی گئی تھی۔ اس نظم کو بھی عرب روایت کے مطابق حزیرانی ادب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ فیضؔ اس المیے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اس مجموعے کا نام بھی سرِوادیِ سینا رکھا۔ اس کا سرِورق میں جو ان کی بیٹی نے بنایا تھا، اس المیے کا عکس نمایاں ہے۔ اس نظم کا آغاز کچھ اس طرح ہوتا ہے:

پھر برق فروزاں ہے سرِ وادیِ سینا                              پھر رنگ پہ ہے شعلۂ رخسارِحقیقت

پیغامِ اجل دعوتِ دیدارِ حقیقت                            اے دیدۂ بینا

اسرائیلی جارحیت فیضؔ کو وادیِ سینا پر آتش و آہن کی بارش کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ ان کا دل فلسطینیوں کی حالتِ زار پر سخت مضطرب دکھائی دیتا ہے۔ نظم میں فیضؔ نے جارحیت کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ مفتیِ دین کی مصلحت کوشی پر بھی طنز کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ :

پھر دل کو مصفا کرو، اس لوح پہ شاید                 ما بینِ من و تو نیا پیماں کوئی اترے

اب رسمِ ستم حکمتِ خاصانِ زمیں ہے              تائیدِ ستم مصلحتِ مفتیِ دیں ہے

اب صدیوں کے اقرارِ اطاعت کو بدلنے            لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے

فیضؔ کے مزاحمتی اسلوب نے سانحۂ فلسطین کے بیان میں مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کے اس اسلوب اور رویے کو انسانی ہم دردی اور دردمندی کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی ضمیر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ان کے نزدیک حق و صداقت اور خیر کی ازلی قوتیں ہمیشہ فتح و نصرت سے ہم کنار ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے فیضؔ اپنی ایک نظم ’’ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے‘‘ میں کہتے ہیں کہ :

ہم جیتیں گے                                             حقا ہم اک دن جیتیں گے

بالآخر اک دن جیتیں گے                              کیا خوف ز یلغارِ اعدا

ہے سینہ سپر ہر غازی کا                                   کیا خوف ز یورشِ جیشِ قضا

صف بستہ ہیں ارواح ُالشہدا                             ڈر کاہے کا

فیضؔ کی شاعری فلسطین کے مظلوم مسلمانوں، مجاہدین کے نالہ و فریاد اور صہیونی مظالم کے خلاف ایک صداے احتجاج ہے۔ مذکورہ نظم بھی اسرائیل میں فلسطینی مسلمانوں کے قتلِ عام خصوصاً ’’صابرہ اور شتیلا‘‘ میں ستمبر ۱۹۸۲ء کے قتلِ عام کے دوران ۱۶ اور ۱۸ ستمبر کو جس بے دردی سے ۲۵۰۰ مسلمانوں کو ذبح کیا گیا اس پس منظر میں لکھی گئی تھی۔ ان کے مجموعۂ کلام’’مرے دل مرے مسافر‘‘ اور اس کے بعد جو کلام ’’غبار ِایّام‘‘ کے نام سے مرتب ہوا، وہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ ان نظموں کی تخلیق کا بیش تر حوالہ فلسطین اور اس میں رونما ہونے والے الم ناک واقعات ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے عرب کاز کو کافی تقویت پہنچائی۔ ان کے پیشِ نظر فلسطین کے حوالے سے عربی شاعری کا پوراذخیر ہ موجود تھا۔ اس کے علاوہ جلا وطنی کا وہ احساس جو اس دور کی شاعری میں دکھائی دیتا ہے، اسی دور کی نظمیں اور غزلیں ان حالات کی بھر پور عکاسی کرتی ہیں۔ غزلوں کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:

 اب کے برس دستورِ ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے
جو قاتل تھے مقتول ہوئے، جو صید تھے اب صیاد ہوئے
 پہلے بھی طوافِ شمع تھی رسم محبت والوں کی
ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے، فرہاد ہوئے

فلسطین کے حوالے سے سرِوادیِ سینا کے آخر میں انھوں نے واضح طور پر اس یقین کا اظہار کیا جو مظالم عربوں خصوصاً فلسطینیوں پر جاری ہیں، وہ اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ’’ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے‘‘ لہذا ان مظالم کے مٹنے کا وقت بہت قریب ہے۔ شورِ محشر اور یومِ حساب کی تراکیب استعمال کر کے وہ اپنی نظموں کی معنویت کو اور بڑھا دیتے ہیں۔ جیسے :

پڑیں گے دار و رسن کے لالے                        کوئی نہ ہوگا کہ جو بچا لے

جزا سزا سب یہیں پہ ہو گی                              یہیں عذاب و ثواب ہوگا

یہیں سے اٹھے گا شورِ محشر                               یہیں پہ روزِ حساب ہوگا

فیضؔ ایک صاحبِ بصیرت اور روحِ عصر کے نبض شناس دانش ور تھے۔ اس بحرانی دور کی صورتِ حال کے پیش نظر، زمینی حقائق کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے انھوں نے ہار نہ ماننے کا فیصلہ کیا۔ زمانے کے طول و عرض میں جو غبار اُڑ رہے تھے، اسے فیضؔ نے شیشہ ٔساعت سے لمحہ لمحہ گرتی ریت کی طرح دیکھا، محسوس کیا اور پھر شاعری کا لازمی حصہ بنایا۔ ۱۹۷۹ءمیں امریکا میں لکھی گئی اس نظم میں بھی وہ گونج اور تڑپ دکھائی دیتی ہے جس کی طرف مذکورہ صفحات میں اشارہ کیا گیا ہے :

ہم دیکھیں گے                                             لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے                               جو لوحِ ازل میں لکھا ہے

جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں                             روئی کی طرح اڑ جائیں گے

ہم محکوموں کے پاؤں تلے                             جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑ کے گی

اور اہلِ حَکَم کے سر اوپر                                  جب بجلی کڑ کڑ کڑ کے گی

جب ارضِ خدا کے کعبے سے                           سب بت اٹھوائے جائیں گے

ہم اہلِ صفا مر دود ِحرم                                   مسند پہ بٹھائے جائیں گے

سب تاج اچھالے جائیں گے                        سب تخت گرائے جائیں گے

قیامِ بیروت کے زمانے کی اکثر نظمیں بیروت اور اہلِ فلسطین کو مخاطب کر کے لکھی گئی ہیں۔ بیروت کی تباہی اور فلسطینیوں کے انخلا پر ان کی نظم ’’عشق اپنے مجرموں کو پابہ جولاں لے چلا‘‘ گہرا حزنیہ تاثر چھوڑتی ہے:

لوٹ کے آکے دیکھا تو پھولوں کا رنگ              جو کبھی سرخ تھا، زرد ہی زرد ہے

 اپنا پہلو ٹٹولا تو ایسا لگا                                      دل جہاں تھا وہاں درد ہی درد ہے

گلو میں کبھی طوق کا واہمہ                                کبھی پانو میں رقِص زنجیر

اور پھر ایک دن عشق انھی کی طرح                    رسن در گلو، پابجولاں ہمیں

اس قافلے میں کشاں لے چلا

اس دور کی پوری شاعری اس فضا سے بہت قریب ہے جو عرب شعرا کی مزاحمتی شاعری کا خاصہ ہے۔ قیامِ بیروت نے فیضؔ کو فلسطینیوں کے معاملات و مسائل سے بہت قریب کر دیا۔ خود بیروت کے بارے میں ان کی نظم پڑھ کے اس شہر سے ان کی جذباتی وابستگی کا انداز ہ لگا یا جاسکتا ہے :

بیروت نگار ِبزم جہاں                                   بیر وت بدیل باغِ جناں

بچوں کی ہنستی آنکھوں کے                              جو آئینے چکنا چور ہوئے

اب ان کے ستاروں کی لو سے                         اس شہر کی راتیں روشن ہیں

اور رخشاں ہے ارضِ لبنان

قیامِ بیروت کے زمانے میں فیضؔ نے زندگی کی حقیقی جد وجہد کا ذائقہ اپنے سارے وجود میں محسوس کیا۔ اس بات کی گواہی ان کی وہ نظمیں اور غزلیں ہیں جو انھوں نے فلسطین کی جد وجہدِ آزادی کے نتیجے میں بے مثال قربانیوں کے حوالے سے لکھیں۔ جون ۱۹۸۲ء میں اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر کے بیروت پر قبضہ کر لیا تو پی۔ ایل۔ او کو بیروت سے اپنا مستقر ہٹانا پڑا۔ خزیران کا تجربہ ۱۹۶۷ء سے ۱۹۸۲ء تک رہا۔ اس کے بعد کی شاعری فلسطینی مفاہمت اور المیۂ بیروت کے پس منظر میں ایک نئے رخ کو پیش کرتی ہے۔ اس دور کے کلام میں تلخی بھی ہے اور شکایتی لب ولہجہ بھی۔ ۱۹۸۰ء کی تخلیق کردہ ایک نظم ’’کیا کریں‘‘ میں شاعر نہ صرف غم زدہ نظر آتا ہے بلکہ اس غم میں بظاہر فطرت بھی اسے لہولہو دکھائی دیتی ہے۔ نظم کے آخر میں شاعر کی بے بسی اپنے نقطہ ٔعروج پر دکھائی دیتی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

کسی پہ راکھ چاند کی                                                          کسی پہ اوس کا لہو

یہ ہے بھی یا نہیں، بتا                                     یہ ہے، کہ محض جال ہے

مرے تمھارے عنکبوتِ وہم کا بنا ہوا                جو ہے تو اس کو کیا کریں

نہیں ہے تو بھی کیا کریں                                   بتا، بتا

ایک اور نظم ’’فلسطینی شہدا جو پر دیس میں کام آئے‘‘ میں بھی رجائی عناصر کی فراوانی دکھائی دیتی ہے۔ نظم کے آخر میں شاعر سر زمینِ فلسطین سے براہِ راست مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے تو صرف ایک فلسطین کو برباد کیا مگر میرے دل میں جتنے زخم لگے ہیں وہ قلم کی نوک سے لہو بن کر ٹپک رہے ہیں اور ان قطروں سے کئی فلسطین جنم لیں گے:

جس زمیں پر بھی کھلا میرے لہو کا پرچم                       لہلہاتا ہے وہاں ارضِ فلسطیں کا علم

تیرے اعدا نے کیا ایک فلسطیں بر باد                         میرے زخموں نے کیے کتنے فلسطیں آباد

ایک اور نظم ’’فلسطینی بچے کے لیے لوری‘‘ میں فلسطین میں ہونے والی تباہ کاری کی منظر کشی کرتے ہوئے ان درد ناک مناظر کو بھی پیش کیا گیا جن سے معصوم دودھ پیتے بچے نہ صرف شہید ہوئے بلکہ ان کی بے گور و کفن نعشیں دنیا سے یہ سوال کرتی رہیں کہ ان کا کیا قصور تھا؟ انھیں کس جرم کی سزا ملی؟ اس رقصِ ابلیس اور شقی القلب دشمن کی طرف سے روا رکھے جانے والے مظالم اپنے پیاروں کی لاشوں پر آہ و زاری کرتے ہوئے معصوم تنہا بچے اور ان کی آہیں، سسکیاں۔ اس حوالے سے بچے کو تسلی دیتے ہوئے شاعر کا کہنا تھا کہ :

مت رو بچے!                                              تیرے آنگن میں

مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں           چندرما د فنا کے گئے ہیں

مت رو بچے !                              امی، ابا، باجی، بھائی

چاند اور سورج                               تو گر روئے گا تو سب

اور بھی تجھ کو رلوائیں گے               تو مسکائے گا تو شاید

سارے اک دن بھیس بدل کر        تجھ سے کھیلنے لوٹ آئیں گے

ایک اور نظم ’’ایک ترانہ مجاہدینِ فلسطین کے لیے‘‘ میں فیضؔ عدو کی یلغار کے سامنے سینہ سپر ہونے والے غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انھیں فتح و نصرت کی نوید بھی سناتے ہیں:

فرمودۂ ربِّ اکبر                            ہے جنت اپنے پاؤں تلے

اور سایۂ رحمت سر پر ہے               پھر کیا ڈر ہے

ہم جیتیں گے                            حقا کہ ہم اک دن جیتیں گے

بالآخر اک دن جیتیں گے

فیضؔ ان نظموں میں فلسطینی شعرا کے اسلوب سے خاصے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے ایک مضمون میں فلسطینی شعر اسے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :’’ان کا ادب ان کے ہم عصروں سے کہیں زیادہ جذباتی رنگ کا حامل ہے اور ان کی زبان و بیان بھی ان کے مقابلے میں شستہ اور مرجع ہے۔ یہ فلسطینی ادیبوں اور شاعروں کی اجتماعی کوششیں ہیں، جو جدید ادب کا ایک ضخیم ذخیر ہ وجود میں لانے کا سبب بنیں … اس اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطینی شعرانے آئیڈیل ازم اور حقائق کے درمیان خوب صورت توازن پیدا کیا ہے۔ فیضؔ آخری عہد تک اپنے مسلک پر قائم رہے۔ تحریکِ آزادیِ فلسطین کی بابت انھوں نے جہاد بالقلم کے ذریعے اپنا خوب حصہ ڈالا۔ ان کے جذبے کو سراہتے ہوئے یاسر عرفات کا کہنا تھا کہ ’’فیض احمد فیضؔ جیسا اردو کا سب سے بڑا اور عظیم شاعر بین الاقوامی شہرت کا پاکستانی انقلابی اور عالم اپنے ابدی خواب کی تکمیل کے لیے ہمارے درمیان آپہنچا تھا‘‘۔

فلسطین اور اہلِ فلسطین کے لیے کی گئی اقبالؔ اور فیضؔ کی شاعری نہ صرف اہلِ فلسطین بلکہ بر صغیر کی ملی تاریخ میں بھی اہمیت کی حامل ہے۔ یک جہتی کے اس عہد کی جو ابتداءً جنگِ بلقان سے ہوئی تھی وہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ اقبالؔ اور فیضؔ کی شاعری کے علاوہ اردو شاعری میں تذکر ۂ فلسطین ایک لازمی عنصر کے طور پر موجود رہا۔ خصوصاً ملیّ شاعری کا کوئی دور ایسا نہیں جس میں اردو شعرا نے قضیۂ فلسطین کو نظر انداز کیا ہو۔ عرب اسرائیل جنگ ۱۹۶۷ء اور نتیجے میں بیت المقدس کا سقوط اس کے علاوہ مسجدِ اقصیٰ میں ہونے والی آتش زدگی ۱۹۶۹ ء ایسے واقعات ہیں جنھوں نے پورے عالمِ اسلام کو ہلا کر رکھ دیا تھا، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود عرب اتحاد کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ نام نہاد غیر جانب داری کے اصول سے اعلانیہ بے تعلقی کا اظہار ہی دراصل موجود ہ صورت ِ حال میں عربوں کی اوّلین ضرورت ہے۔

 حقیقت یہ ہے کہ عرب اتحاد تو اسرائیلی جارحیت کا مؤثر جواب نہ دے سکی البتہ اسرائیل نے مزید فلسطینی علاقوں کو اپنے زیرِ تسلط ضرور کر لیا۔ مفتی ِاعظم فلسطین الحاج محمد امین الحسینی نے درست کہا کہ : اتحادِ عالمِ اسلامی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ استعمار اور اس کے جانشین ہیں،مغربی استعمار نے اپنے سامراجی مقاصد میں کامیابی ہی اس طرح حاصل کی کہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر انھیں کمزورکرڈالا۔فلسطین اور فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع کے سلسلے میں امریکی اور یورپی بہ شمول پاکستان یہودی لابی کے تابع ہیں۔ گویا انھوں نے نام نہاد امن کے قیام کے دعوے تو خوب کیے لیکن بقول نوم چومسکی : ’’سرکاری نظریہ یہی ہے کہ امریکا اور اسرائیلی لیبر پارٹی امن کی متلاشی ہیں جس کی راہ میں ہر جانب کہ انتہا پسندرکاوٹ ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ جھوٹ اب تک بلا خوفِ تردید زندہ ہے اس بات کا اور گواہ ہے کہ فلسطینی انتقاضہ سے ہمارے ہاتھ جو موقع آیا تھا، ان سے فائد ہ اٹھانے میں ہم کتنے ناکام رہے ہیں‘‘۔امریکا برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ خود عرب ممالک کے سربراہان اور اقوامِ متحدہ بھی بوجوہ فلسطین اور فلسطینی عوام کو انصاف نہیں دلاسکے۔ اس بے حسی کی فضا میں ہر طرف ایک عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ مشہور پاکستانی شاعر منیر نیازی نے ایک فلسطینی نظم کا اردو ترجمہ کیا وہ پوری طرح سے فلسطین کے عوام کے جذبات کی ترجمان ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا              اپنے ہتھیاروں کے ساتھ

میرے دشمن میرے ہتھیار مجھ سے چھین لیں گے    میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

اپنے ہاتھوں کے ساتھ                                        وہ میرے ہاتھ کاٹ دیں گے

میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا              اپنے بازوؤں کے ساتھ

وہ میرے بازو کاٹ دیں گے                                میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا

اپنے جسم کے ساتھ                                            وہ مجھے قتل کر دیں گے

میں اپنے باپ کے گھر کی مدافعت کروں گا              اپنی روح کے ساتھ

بلاشبہہ موجودہ عالمِ اسلام کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے جس پر آج بھی ہر مسلمان کا دل بے چین اور ہر آنکھ اشک بار ہے۔ ہمیں کھل کر اعتراف کرنا چاہیے کہ یہ ایک ایسی شکست ہے جس کی نظیر اسلام کی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ اسرائیل جو بین الاقوامی سازش کی پیداوار ہے ان ممالک کے عالم گیر اور وسیع ذرائع خبر رسانی، اس کی خدمت کے لیے ہر وقت کمربستہ ہیں۔ جب تک یہ صورتِ حال باقی ہے اسرائیل کو جنگی تیاری کے ذریعے ختم کرنے کی کوششیں بظاہر کام یاب نہیں ہوں گی۔ یہ مسئلہ جنگی سے زیادہ سیاسی ہے۔ لہٰذا اسے سیاسی طور پر ہی حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس طرح ہم متعلقہ فریقوں کے سوابقیہ دنیا کی ہم دردیاں ضرور حاصل کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مغربی دنیا کی اکثریت خصوصاً اس کے عوام کی کوئی جذباتی وابستگی اسرائیل کے ساتھ ہر گز نہیں ہے۔ اس شکست کے سائے گہرے ضرور ہیں لیکن اتنے بھی نہیں کہ آمدِ صبح کےآثار ہی پیدا نہ ہو سکیں۔ شعرا نے امید کے دامن کو اس ضمن میں کبھی بھی ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ شکست کے سائے میں جو فلسطین کی مسلح کش مکش اُبھری، وہ نہ صرف مقبوضہ فلسطین کے عربی شعرا کے خوابوں کی تفسیر بلکہ ان کی طویل جدوجہد کا ثمر تھی۔

*****

ماخذ:مقالہ ’’تاریخِ قضیۂ فلسطین: علامہ اقبالؔ، فیض احمد فیضؔ اور اقوامِ عالم‘‘، فیض الدین احمد، مشمولہ’’عصرِ حاضر میں اسلامی تہذیب کی علمی و ادبی جہتیں، اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی، دسمبر ۲۰۲۳ء،ص:۲۲۵ تا ۲۳۳

[1]Lotus ایک ثقافتی و سیاسی مجلہ تھا جس کا پہلا پرچہ یوسف سباعی کی ادارت میں  لبنان، تیونس اورمصر سے ۱۹۶۸ء میں جاری ہوا، ۱۹۷۸ء میں یوسف سباعی کی وفات کے بعد فیضؔ نے لوٹس کی ادارت سنبھالی اور تا حیات اس رسالے کے مدیر رہے۔

لرننگ پورٹل