لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

السلام علیکم!ميرا سوال transparent teeth braces کے حوالے سے ہے، میں طبی نقطہ نظر سے اس کا استعمال کرتا ہوں۔ یہ ایک خول کی مانند ہے۔ صرف اوپر والے جبڑے کے تمام دانتوں پر لگاتا ہوں اور کثرت استعمال کی وجہ سے اس میں باریک سوراخ و دراڑیں موجود ہیں اور اگر اس کو لگا کر کلی کی جائے تو پانی کے اس میں ٹھہرنے کے امکانات موجود ہیں جو بعد میں غیر محسوس طور سے رستے ہوئے حلق سے اتر سکتا ہےاور چونکہ یہ آسانی سے اتارا اور لگایا جا سکتا ہے تو کوشش یہی رہتی ہے کہ وضو و غسل میں اسے اتار دوں اور بعد میں لگا دوں۔ وضاحت کر دوں کہ اس کی عادت ہو چکی ہے یہاں تک کہ سونے کے دوران بھی یہ مستعمل رہتا ہے اور اس کے بغیر بولنے اور خصوصاً بغیر آواز کے پڑھنے جس طرح نماز و ذکر میں پڑھا جاتا ہے، دشواری رہتی ہے اور اسی کےلیے اس کا استعمال شروع کیا تھا تاکہ’’اوپر والے جبڑے‘‘ کو سپورٹ رہے اور جبڑا تھکنے نہ پائے۔ لیکن اب رمضان المبارک کا خیال کر کے یہ اشکال ذھن میں آتا ہے کہ اگر اس کو وضو سے قبل اتارا جائے گا تو جب تک یہ سوکھے گا نہیں اسے پہننا ٹھیک نہیں معلوم ہوتا، چنانچہ ظہر و عصر کی نماز میں دشواری رہے گی۔ اور اگر اسے لگا کر کلی کی جائے تو اس میں خلاء اور بعض باریک سوراخ بھی ہوتے ہیں جس سے وضو کا پانی اس میں ٹھہر کر آہستہ آہستہ رس کر حلق سے اتر سکنے کا غالب امکان ہے۔ ایک سلیقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے اتار کر وضو کر لیا جائے اور پھر کسی کپڑے یا ٹشو سے اچھی طرح صاف کر کے سکھا لیا جائے لیکن بہرحال اس میں بھی حرج معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ سے رہنمائی درکار ہے۔ ایک بات اور کہ ٹشو یا کپڑے سے سکھاتے ہوئے اس کے ٹوٹنے کا بھی اندیشہ رہتا ہے جبکہ یہ ایک مہنگی شے ہے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر اس میں ایسے سوراخ ہوں کہ اس میں جمع شدہ پانی تھوک کے بغیر حلق میں اتر جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اگر اتنا پانی نہ ہو کہ خالص پانی حلق میں اتر جائے بلکہ یہ تھوک کے ساتھ مل کر تری کی شکل میں حلق  سے اترنے کا امکان ہے تو تری کے ساتھ حلق سے اترنے سے روزہ فاسد نہ ہوگا، لہذا سوراخوں کی حالت دیکھ کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے، غسل واجب ہونے کی صورت میں دیکھا جائے کہ خول اتارے بغیر پانی دانت اور اس کی جڑوں تک پہنچتا ہے کہ نہیں۔ اگر پانی پہنچ جائے تو غسل میں اس کو اتارنے کی ضرورت نہیں۔ اگر پانی اندر تک نہ پہنچے تو غسل کے وقت اس کو اتار کر کلی کرنا ضروری ہے۔

(أو بقي بلل في فيه بعد المضمضة وابتلعه مع الريق…لم يفطر)، وقال الشامي تحته: (قوله: لأنه تبع لريقه) عبارة البحر؛ لأنه قليل لا يمكن الاحتراز عنه فجعل بمنزلة الريق. (رد المحتار مع تنوير الأبصار، كتاب الصوم)

(ومضغ العلك لا يفطر الصائم) لأنه لا يصل إلی جوفه…(إلا أنه يكره للصائم) لما فيه من تعريض الصوم للفساد. (الهداية علی هامش فتح القدير، كتاب الصوم)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4350 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل