لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

کھانے پینے کی چیزوں پر کچھ پڑھ کر کھانا پینا کیا جائز ہے؟ ایسا بعض لوگ کہتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ یا اسی طرح کچھ اور آیات پڑھ کر پھونک دی جائیں تو اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

احادیث صحیحہ صریحہ سے دم کا ثبوت بے غبار ہے البتہ تعویذ کی مندرجہ ذیل صورتیں ناجائز ہیں:

1۔ ٹوٹکا، جو پیتل ، تانبے یا لوہے وغیرہ کے ٹکڑے کو باندھ کر کیا جاتا ہے 

2۔ایسا تعویذ جس میں اسماء اللہ تعالی ، آیات قرآنیہ، اور ادعیہ ماثورہ نہ ہوں بلکہ کلمات شرکیہ ہوں۔

3۔ تعویذ کو موثر بالذات سمجھا جائے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں تھا اور اب بھی بعض جہال یونہی سمجھتے ہیں۔ یہ صورتیں بلا شبہ ناجائز حرام اور شرک ہیں باقي جس دم یا تعویذ میں اسماء اللہ تعالی، آیات قرآنیہ اور ادعیہ ماثورہ ہوں تو یہ جائز اور ثابت ہے .

(أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً) : أَيْ: أَخَذْتُهَا عَلَاقَةً، وَالْمُرَادُ مِنَ التَّمِيمَةِ مَا كَانَ مِنْ تَمَائِمِ الْجَاهِلِيَّةِ وَرُقَاهَا، فَإِنَّ الْقِسْمَ الَّذِي اخْتَصَّ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَی وَكَلِمَاتِهِ غَيْرُ دَاخِلٍ فِي جُمْلَتِهِ، بَلْ هُوَ مُسْتَحَبٌّ مَرْجُوُّ الْبَرَكَةِ عُرِفَ ذَلِكَ مِنْ أَصْلِ السُّنَّةِ، وَقِيلَ: يُمْنَعُ إِذَا كَانَ هُنَاكَ نَوْعُ قَدْحٍ فِي التَّوَكُّلِ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، كِتَابُ الطِّبِّ وَالرُّقَی)

(وَعَقْدَ التَّمَائِمِ) : جَمْعُ تَمِيمَةٍ، وَالْمُرَادُ بِهَا التَّعَاوِيذُ الَّتِي تَحْتَوِي عَلَی رُقَی الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ أَسْمَاءِ الشَّيَاطِينِ وَأَلْفَاظٍ لَا يُعْرَفُ. مَعْنَاهَا، وَقِيلَ: التَّمَائِمُ خَرَزَاتٌ كَانَتِ الْعَرَبُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تُعَلِّقُهَا عَلَی أَوْلَادِهِمْ يَتَّقُونَ بِهَا الْعَيْنَ فِي زَعْمِهِمْ، فَأَبْطَلَهُ الْإِسْلَامُ لِأَنَّهُ لَا يَنْفَعُ وَلَا يَدْفَعُ إِلَّا اللَّهُ تَعَالَی (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ،كتاب اللباس، بَابُ الْخَاتَمِ)

ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالی، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث في عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدری ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به. (رد المحتار،کتاب الحظر والاباحة، فصل فی اللبس)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4197 :

لرننگ پورٹل