لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

ضعیف الاسناد احادیث کیا نبی اکرمﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے الفاظ پر مشتمل ہوتی ہیں؟ اگر ہاں تو کیسے؟ اور اگر نہیں تو کیا ان سے شریعت اسلامیہ سے متعلق معاملات خواہ فضائل ہی کیوں نہ ہوں، اخذ کیے جاسکتے ہیں؟ محدثین کے اقوال کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال کے جواب سے پہلے چند تمہیدی باتیں ذہن نشین کرلیں:

1۔ حدیث ضعیف کی تعریف: محدثین کے مطابق حدیثِ ضعیف وہ ہے کہ جس میں صحیح اور حسن حدیث کی صفات نہ پائی جائیں۔ لیکن حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زیادہ بہتر تعریف یہ ہے: كل حديث لم تجتمع فيه صفات القبول. یعنی ہر وہ حدیث جس میں مقبول حدیث والی صفات نہ پائی جائیں۔ پھر حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے مقبول حدیث کی چھ صفات ذکر کی ہیں:

1۔ سند متصل ہو یعنی درمیان میں انقطاع نہ ہو۔

2۔تمام راوی عادل ہوں۔

3۔ تمام راویوں کا حافظہ اور ضبط صحیح ہو۔

4۔ اگر سند میں کوئی راوی مستور الحال ہو تو حدیث کسی دوسرے طریق سے بھی مروی ہو۔

5۔ حدیث شاذ نہ ہو۔

6۔ حدیث میں کوئی علتِ قادحہ نہ ہو۔ (النکت علیٰ کتاب ابن الصلاح)

چنانچہ اگر کسی روایت میں یہ تمام یا ان میں سے کوئی ایک صفت نہ پائی جائے تو وہ حدیث ضعیف کہلائے گی۔درج بالا تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ حدیث کے ضعیف ہونے کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں۔ ان اسباب کے بارے میں تفصیلی بحث کے لیے کتاب شرح نخبۃ الفکر ملاحظہ فرمائیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو حدیث ضعیف ہو اس پر عمل کرنے کا کیا حکم ہے؟ کیا اسے بالکل ہی رد کردیا جائے گا یا مطلقاً قبول کیا جائے گا یا صرف فضائل اور ترغیب و ترہیب میں قابلِ عمل سمجھا جائے گا۔ ضعیف احادیث کے بارے میں معتدل اور حق پر مبنی مسلک وہی ہے جسے ہمارے محدثین بیان کرتے ہیں کہ احادیثِ ضعیفہ دو قسم پر ہیں:

ایک وہ احادیث جن میں شدید قسم کا ضعف ہو۔دوسرے وہ احادیث جن میں شدید قسم کا ضعف نہ ہو۔ان دونوں قسموں پر ایک جیسا حکم نہیں لگایا جائے گا بلکہ عمل کے اعتبار سے ان دونوں کا حکم جدا ہوگا۔جہاں تک ان احادیث کا تعلق ہے جن میں شدید قسم کا ضعف پایا جائے تو ان پر عمل کرنا مطلقاً جائز نہیں اور نہ ہی یہ اعتقاد رکھنا درست ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔ کیوں کہ جب کسی راوی پر شدید قسم کا طعن ہو جیساکہ تہمتِ کذب یا فسق یا غلطیوں کی کثرت تو ایسی حدیث کے بارے میں قوی امکان یہی ہے کہ اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط کی گئی ہے اور جب کسی حدیث سے متعلق غلط نسبت کا امکان بہت زیادہ ہو اور امکانِ صحت بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہو تو اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث قرار دینا یا اس کے بارے میں ایسا اعتقاد رکھنا درست نہیں اور جب اعتقاد رکھنا درست نہیں تو اس پر عمل کرنا بھی جائز نہیں۔ ایسی حدیث حکم کے اعتبار سے موضوع حدیث کے زیادہ قریب ہوتی ہے اور اسی درجے کے کسی متابع یا شاہد سے بھی اس کا ضعف زائل نہیں ہوسکتا۔

حافظ ابنِ صلاح فرماتے ہیں:’’اگر کوئی سمجھدار ناقد یہ سوال کرے کہ جب ایک ضعیف حدیث متعدد طرق سے مروی ہو تو پھر بھی اسے حسن کیوں قرار نہیں دیا جاتا اور اس پر ضعف کا حکم کیوں لگایا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ ہر ضعیف حدیث ایسی نہیں ہوتی کہ متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے اس کا ضعف زائل ہوجائے، بلکہ ضعف کی دو اقسام ہیں: ایک ایسا ضعف جس کا ازالہ ہوسکتا ہے اور دوسرا وہ ضعف جس کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔

1۔ اگر راوی اہلِ صدق و دیانت میں سے ہو اور ضعف اس کے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے آیا ہو، ایسی صورت میں اگر روایت کسی اور طریق سے بھی مروی ہو تو اس کا ضعف زائل ہوجائے گا اور یہی سمجھا جائے گا کہ راوی نے حدیث کو یاد رکھا ہے اور اس کے حافظے کی کمزوری اس حدیث کو یاد رکھنے میں مخل نہیں ہوئی۔ اسی طرح اگر ضعف ارسال کی وجہ سے آیا ہو یعنی کسی معتبر امام و حافظ تابعی نے روایت کرتے ہوئے صحابی کا واسطہ ذکر نہ کیا ہو تو اس صورت میں بھی اس ضعف کا ازالہ اس جیسی دوسری مرسل روایت سے ہوسکتا ہے۔

2۔ اور اگر ضعف کی وجہ شدید ہو جیساکہ راوی پر تہمتِ کذب یا حدیث کا شاذ ہونا وغیرہ تو ایسی صورت میں اس جیسے متعدد طرق بھی حدیث کے ضعف کو زائل نہیں کرسکتے، کیونکہ حدیث میں ضعف شدید ہے اور اس شدت کا مقابلہ متعدد طرق مل کر بھی نہیں کرسکتے‘‘۔ (مقدمہ ابن الصلاح)

جن روایات میں شدید قسم کا ضعف نہ ہو بلکہ نسبتاً معمولی نوعیت کا ہو ان کے بارے میں معتدل اور حق پر مبنی مسلک یہ ہے کہ ایسی روایات کو احکام و عقائد کے باب میں قبول نہیں کیا جائے گا یعنی ایسی احادیث سے کوئی بھی حکمِ شرعی ثابت نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کوئی عقیدہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دین ان احکام و عقائد کا نام ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بذریعہ تواتر یا بذریعہ اخبارِ آحاد صحیح سند سے ثابت ہوں اور یہی دو اقسام ہیں جن سے علم مفید للعمل ثابت ہوتا ہے یعنی تواتر سے علمِ یقینی اور اخبار آحاد سے علمِ ظنی بمعنیٰ غلبۃ الظن۔ اس کے علاوہ جن روایات کی سند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ثابت نہ ہو یا اس میں ضعف ہو تو ان سے کسی بھی قسم کا علم حاصل نہیں ہوتا، نہ یقینی اور نہ ہی ظنی بمعنیٰ غلبۃ الظن۔ یہی وجہ ہے کہ ضعیف روایات سے کسی بھی قسم کا حکمِ شرعی ثابت نہیں کیا جاسکتا۔البتہ جمہور محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جن احادیث میں معمولی نوعیت کا ضعف ہو اور اس کا تعلق فضائل اور ترغیب و ترہیب جیسے ابواب سے ہو تو ایسی احادیث کو چند شرائط کے ساتھ قبول کیا جاسکتا ہے۔فضائل میں قبول کرنے کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ فضیلت یا ترغیب و ترہیب سے کوئی حکمِ شرعی ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی دین میں کسی چیز کا اضافہ ہوتا ہے، لہذا عمل کی غرض سے حدیثِ ضعیف میں تساہل کی گنجائش ہے۔

البتہ فضائل میں بھی ضعیف حدیث کی قبولیت کی چند شرائط ہیں: علامہ سیوطی حافظ ابنِ حجر رحمہما اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ اگر ضعیف حدیث فضائلِ اعمال، ترغیب و ترہیب یا رقائق و آداب سے متعلق ہو تو اسے تین شرائط کے ساتھ قبول کیا جاسکتا ہے:

1۔ پہلی شرط یہ ہے کہ اس حدیث میں ضعف شدید نہ ہو جیساکہ راوی پر کذب کی تہمت یا اس کا فاسق اور فاحش الغلط ہونا۔ اگر حدیث میں شدید قسم کا ضعف ہوا تو اسے فضائل میں بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

2۔ دوسری شرط یہ ہے کہ حدیثِ ضعیف کسی ایسے اصلِ عام کے تحت آتی ہو جو معمول بہ ہو یعنی شریعت کے جو اصول و ضوابط قرآن یا صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور معمول بہ ہیں اس حدیثِ ضعیف کا مضمون ان ثابت شدہ اصولوں میں سے کسی اصول کے تحت آتا ہو۔

3۔ تیسری شرط یہ ہے کہ ضعیف حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس کے ثبوت کا اعتقاد نہ رکھا جائے یعنی یہ نہ سمجھا جائے کہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور آپ نے واقعی ایسا فرمایا ہے، بلکہ ایسی حدیث کے بارے میں احتیاط کا اعتقاد رکھنا چاہیے کہ ہوسکتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ارشاد فرمایا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نہ فرمایا ہو۔

یہ شرائط بہت سے ائمہ محدثین سے مروی ہیں۔ ان میں سے پہلی شرط پر حافظ ابو سعید العلائی نے تمام محدثین کا اتفاق نقل کیا ہے۔ جبکہ دوسری اور تیسری شرط حافظ ابنِ حجر کے علاوہ حافظ عز بن عبد السلام اور حافظ ابنِ دقیق العید رحمہم اللہ سے بھی مروی ہیں۔ (تدریب الراوی)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4475 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل