لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

جناب میرے ایک جاننے والے نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تم نے یہ موبائل استعمال کیا یا اس کو چھوا  تو تمہیں تین طلاق ہے۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے وہ موبائل کسی اور کو بیچ دیا، پھر اس کے کہنے کے تقریبا پانچ سے چھ ماہ بعد وہ شخص، جس کو موبائل بیچا گیا تھا، اس کے گھر ملنے آیا تو اس کی بیوی نے یہ جانے بغیر کہ یہ وہی موبائل ہے، اس کو چھو لیا، تو اب کیا تین طلاق واقع ہوں گی یا نہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں  مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کو جو یہ کہا کہ اگر تم نےیہ موبائل استعمال کیا یا اس کو چھوا تو تمہیں تین طلاق، تو اس کے بعد انجانے میں اس شخص کی بیوی نے جب اس موبائل کو ہاتھ لگایا تو اس پرتین طلاقیں واقع ہو گئیں ۔ اب رجوع جائز نہیں، حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ مذکورہ شخص کی بیوی اپنی عدت طلاق پوری کرے پھر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور پھر دوسرا شخص ہمبستری کے بعد اس کو اپنے اختیار سے طلاق دے یا اس کا انتقال ہو جائے اور وہ عورت اپنی عدتِ طلاق یا عدت ِوفات گزار کر اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ۔

الفتاوی الهندية (1/ 420)

وإذا أضافه إلی الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق

الفتاوی الهندية (1/ 473)

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتی تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4507 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل