لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: 

1۔ ایک مسلمان پر کیا کیا چیزیں فرض ہیں جن کے بارے میں سوال ہوگا؟ نماز، روزہ، زکوۃ، حج، قربانی، شرعی لباس، حقوق العباد کی ادائیگی اور تمام گناہوں سے بچنا۔ ان کے علاوہ ایسی کونسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں سوال ہوگا؟

2۔ قرآن کریم پڑھنا سمجھنا فرض عین ہے؟

3۔ کون سا علم حاصل کرنا فرض عین ہے؟ اور عقائد کا علم کس حد تک واجب ہے اور کیا کیا چیزیں عقائد میں ضروری ہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

1۔ ایمانیات یعنی عقائد کا علم حاصل کرنا ہر عاقل بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض عین ہے۔ عبادات یعنی نماز، زکوۃ، روزہ، حج میں سے جو جو فرض ہوتا جائے اس کے فرائض کا علم سیکھنا فرض، واجبات کا واجب سنن کا سنت ہے۔ معاملات یعنی بیع و شرا، نکاح وغیرہ میں سے جس کام کی انجام دہی کا ارادہ ہو تو پہلے اس معاملہ سے متعلق شرعی احکام سیکھنا فرض ہے تاکہ حلال و حرام میں تمیز ہو سکے۔ اخلاقیات کا علم بھی حاصل کرنا چاہیے۔سلوک و احسان یعنی کسی اللہ والے کی صحبت میں رہ کر اپنے نفس کا تزکیہ کرانا اور نفس کو رذائل سے پاک کر کے اخلاق حمیدہ سے آراستہ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ تکبر اور حسد یا ریاکاری جیسی روحانی بیماریوں کے باعث عبادات ضائع ہونے سے بچ سکیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 42)

(قوله: واعلم أن تعلم العلم إلخ) أي العلم الموصل إلى الآخرة أو الأعم منه. قال العلامي في فصوله: من فرائض الإسلام تعلمه ما يحتاج إليه العبد في إقامة دينه وإخلاص عمله لله تعالى ومعاشرة عباده. وفرض على كل مكلف ومكلفة بعد تعلمه علم الدين والهداية تعلم علم الوضوء والغسل والصلاة والصوم، وعلم الزكاة لمن له نصاب، والحج لمن وجب عليه والبيوع على التجار ليحترزوا عن الشبهات والمكروهات في سائر المعاملات. وكذا أهل الحرف، وكل من اشتغل بشيء يفرض عليه علمه وحكمه ليمتنع عن الحرام فيه اهـ. مطلب في فرض الكفاية وفرض العين.

وفي تبيين المحارم: لا شك في فرضية علم الفرائض الخمس وعلم الإخلاص؛ لأن صحة العمل موقوفة عليه وعلم الحلال والحرام وعلم الرياء؛ لأن العابد محروم من ثواب عمله بالرياء، وعلم الحسد والعجب إذ هما يأكلان العمل كما تأكل النار الحطب، وعلم البيع والشراء والنكاح والطلاق لمن أراد الدخول في هذه الأشياء وعلم الألفاظ المحرمة أو المكفرة، ولعمري هذا من أهم المهمات في هذا الزمان؛ لأنك تسمع كثيرا من العوام يتكلمون بما يكفر وهم عنها غافلون، والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرة أو مرتين، إذ الخطأ وإن لم يصدرمن الرجل فهو من النساء كثير. (قوله: وفرض كفاية إلخ) عرفه في شرح التحرير بالمتحتم المقصود حصوله من غير نظر بالذات إلى فاعله. قال: فيتناول ما هو ديني كصلاة الجنازة، ودنيوي كالصنائع المحتاج إليها وخرج المسنون؛ لأنه غير متحتم، وفرض العين لأنه منظور بالذات إلى فاعله. اهـ. قال في تبيين المحارم: وأما فرض الكفاية من العلم، فهو كل علم لا يستغنى عنه في قوام أمور الدنيا كالطب والحساب والنحو واللغة والكلام والقراءات وأسانيد الحديث وقسمة الوصايا والمواريث والكتابة والمعاني والبديع والبيان والأصول ومعرفة الناسخ والمنسوخ والعام والخاص والنص والظاهر وكل هذه آلة لعلم التفسير والحديث، وكذا علم الآثار والأخبار والعلم بالرجال وأساميهم وأسامي الصحابة وصفاتهم، والعلم بالعدالة في الرواية، والعلم بأحوالهم لتمييز الضعيف من القوي، والعلم بأعمارهم وأصول الصناعات والفلاحة كالحياكة والسياسة والحجامة.

2۔ نماز میں قرآن کریم پڑھنا فرض ہے نماز سے باہر فرض نہیں، البتہ نماز سے باہر فضیلت اور ثواب کا کام ہے اور بغیر سمجھے بھی قرآن کریم کا پڑھنا عبادت ہے، فرض نہیں۔ البتہ سمجھ کر پڑھنا بھی اچھا ہے، لیکن اس کے لئے کن کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے اس حوالے سے مولانا یوسف لدھیانوی صاحب فرماتے ہیں: ’’قرآن مجید سیکھنے کا یہ طریقہ نہیں کہ آپ اس کا ترجمہ بطور خود پڑھ لیا کریں، کیونکہ اوّل تو یہی معلوم نہیں کہ جو ترجمہ آپ کے زیرِ مطالعہ ہے، وہ کسی دیندار آدمی کا ہے یا کسی بے دین کا، موٴمن کا ہے یا کافر کا؟ اور یہ کہ اس نے منشائے الٰہی کو ٹھیک سمجھا بھی ہے یا نہیں؟ سمجھا ہے تو اسے ٹھیک طریقے سے تعبیر بھی کرپایا ہے یا نہیں؟ اور پھر یہ کہ ترجمہ پڑھ کر آپ صحیح بات سمجھ سکیں گے؟ کہیں فہم میں کوئی لغزش تو نہیں ہوگی؟ اس کے اطمینان کا آپ کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہوگا، اور خدانخواستہ غلط مفہوم سمجھ کر اسے دُوسروں کو بتائیں گے، تو افتراء علی اللہ کا اندیشہ ہے۔ شاہی فرامین کی ترجمانی کے لئے کیسے کیسے ماہرین رکھے جاتے ہیں، بڑا ظلم ہوگا اگر ہم قرآن فہمی کے لئے کسی استعداد و مہارت کی ضرورت ہی نہ سمجھیں، اور محض ترجمہ خوانی کا نام قرآن فہمی رکھ لیں۔ الغرض قرآن فہمی کا طریقہ یہ نہیں کہ محض اُردو ترجمہ پڑھ لینے کو کافی سمجھ لیا جائے، بلکہ اگر یہ شوق ہو تو کسی محقق عالم کی صحبت میں قرآنِ کریم پڑھا جائے اور اس کے لئے ضروری استعداد پیدا کی جائے‘‘۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل )

3۔ عقائد میں بنیادی طور پر چھ چیزوں کا اجمالی علم اور ایمان ہونا ضروری ہے۔

۱۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ذات و صفات میں یکتا سمجھے، وہ اپنے وجود اور اپنی ذات و صفات میں ہر نقص اور عیب سے پاک اور تمام کمالات سے متصف ہے، کائنات کی ہر چیز اسی کے ارادہ و مشیت کی تابع ہے، سب اسی کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں، کائنات کے سارے تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں، اس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔

۲۔ فرشتوں پر ایمان یہ کہ فرشتے، اللہ تعالیٰ کی ایک مستقل نورانی مخلوق ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم ہو، بجا لاتے ہیں، اور جس کو جس کام پر اللہ تعالیٰ نے مقرر کردیا ہے وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں کوتاہی نہیں کرتا۔

۳۔ رسولوں پر ایمان یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت اور انہیں اپنی رضامندی اور ناراضی کے کاموں سے آگاہ کرنے کے لئے کچھ برگزیدہ انسانوں کو چن لیا، انہیں رسول اور نبی کہتے ہیں۔ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی خبریں رسولوں کے ذریعے ہی پہنچتی ہیں، سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام تھے، اور سب سے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک کسی کو نبوت نہی ملے گی، بلکہ آپ ہی کا لایا ہوا دین قیامت تک رہےگا۔

۴۔ کتابوں پر ایمان یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی معرفت بندوں کی ہدایت کے لئے بہت سے آسمانی ہدایت نامے عطا کئے، ان میں چار زیادہ مشہور ہیں: تورات، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاری گئی، زبور جو حضرت داوٴد علیہ السلام پر نازل کی گئی، انجیل جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی اور قرآن مجید جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ یہ آخری ہدایت نامہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے پاس بھیجا گیا، اب اس کی پیروی سارے انسانوں پر لازم ہے اور اس میں ساری انسانیت کی نجات ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس آخری کتاب سے روگردانی کرے گا وہ ناکام اور نامراد ہوگا۔

۵۔ قیامت پر ایمان یہ کہ ایک وقت آئے گا کہ ساری دنیا ختم ہوجائے گی زمین و آسمان فنا ہوجائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کرے گا اور اس دنیا میں لوگوں نے جو نیک یا برے عمل کئے ہیں، سب کا حساب و کتاب ہوگا۔ میزانِ عدالت قائم ہوگی اور ہر شخص کی نیکیاں اور بدیاں اس میں تولی جائیں گی، جس شخص کے نیک عملوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا پروانہ ملے گا اور وہ ہمیشہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کے مقام میں رہے گا جس کو ’’جنت‘‘ کہتے ہیں، اور جس شخص کی برائیوں کا پلہ بھاری ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا پروانہ ملے گا اور وہ گرفتار ہوکر خدائی قیدخانے میں جس کا نام ’’جہنم‘‘ ہے، سزا پائے گا، اور کافر اور بے ایمان لوگ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے۔ دنیا میں جس شخص نے کسی دوسرے پر ظلم کیا ہوگا، اس سے رشوت لی ہوگی، اس کا مال ناحق کھایا ہوگا، اس کے ساتھ بدزبانی کی ہوگی یا اس کی بے آبروئی کی ہوگی، قیامت کے دن اس کا بھی حساب ہوگا، اور مظلوم کو ظالم سے پورا پورا بدلا دلایا جائے گا۔ الغرض خدا تعالیٰ کے انصاف کے دن کا نام “قیامت” ہے، جس میں نیک و بد کو چھانٹ دیا جائے گا، ہر شخص کو اپنی پوری زندگی کا حساب چکانا ہوگا اور کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔

۶۔ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کارخانہٴ عالم آپ سے آپ نہیں چل رہا، بلکہ ایک علیم و حکیم ہستی اس کو چلا رہی ہے۔ اس کائنات میں جو خوشگوار یا ناگوار واقعات پیش آتے ہیں وہ سب اس کے ارادہ و مشیت اور قدرت و حکمت سے پیش آتے ہیں۔ کائنات کے ذرہ ذرہ کے تمام حالات اس علیم و خبیر کے علم میں ہیں اور کائنات کی تخلیق سے قبل اللہ تعالیٰ نے ان تمام حالات کو، جو پیش آنے والے تھے، ’’لوحِ محفوظ‘‘ میں لکھ لیا تھا۔ بس اس کائنات میں جو کچھ بھی وقوع میں آرہا ہے وہ اسی علم ازلی کے مطابق پیش آرہا ہے، نیز اسی کی قدرت اور اسی کی مشیت سے پیش آرہا ہے۔ الغرض کائنات کا جو نظام حق تعالیٰ شانہ نے ازل ہی سے تجویز کر رکھا تھا، یہ کائنات اس طے شدہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4459 :

لرننگ پورٹل