لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

كیا فرماتے ہیں علماءِ دین اور مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں كہ ایك شخص نے نذر مانی كہ میں اللہ كے لیےایك دیگ میٹھے چاول كی پكاؤں گا۔ نذركو مد نظر ركھتے ہوئے ناذر نے میٹھی دیگ كے لیے سامان خرید لیا اور پكانے كا آرڈر بھی دے دیا۔ اب کچھ حضرات كے كہنے پر كہ ہم سادہ چاول كھانے كے عادی ہیں اور صرف سادے چاول ہم كھاسكتے ہیں، لیكن سادہ چاول كی طرح دلچسپی سے میٹھے چاول نہیں كھاسكتے، اب ان كی دلچسپی اور چاہت كو مدنظر ركھتے ہوئے سادہ چاول پكانے سے اس كی نذر مكمل ہوجائے گی یا نہیں؟ نیز یہ بھی واضح كریں كہ اگر دونوں جائز ہوں تو اس میں ناذر كی نیت كا اعتبار كرتے ہوئے میٹھے چاول پكانا افضل وبہتر ہے یا طلبہ وغیرہ كی چاہت ودلچسپی كو مد نظر ركھتے ہوئے سادہ چاول پكانا افضل وبہتر ہے، مكمل دلائل سے جواب عنایت فرماكر ممنون فرمادیں۔

اس استفتاء کے جواب كی اشد ضرورت ہے اصل مسئلہ اس میں یہ پوچھنا ہے کہ افضل کونسا ہے یا دونوں طریقے برابر ہیں؟ ناذر کی نیت کا اعتبار کرنا افضل ہے یا فقراء کا یا علی التسویہ ہے جو بھی ہو لیکن اس پر حوالہ اور دلیل مطلوب ہے، شکریہ ۔

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر نذر میں كوئی چیز متعین كی كہ فلاں چیز دوں گا تو بعینہ یہی چیزدینا لازم نہیں، بلكہ اس كی قیمت كے برابر نقدی یا كوئی دوسری چیز بھی دے سكتاہے، اس کی وجہ فقہاء رحمہ اللہ نے یہ ذکر فرمائی ہے كہ نذر كا مقصداللہ تعالی كا تقرب حاصل كرنا ہوتا ہے،اس لیے نذر میں صرف وہ چیز داخل ہوگی جوتقرب الی اللہ میں داخل ہےاور مکان، فقراء اور اشیاء کی تعیین کو تقرب الی اللہ میں کوئی دخل نہیں اس لیے کہ کسی بھی جگہ کے فقراء پر اور کوئی بھی چیز صدقہ کرنے سے تقرب الی اللہ حاصل ہوجاتا ہے، مخصوص فقراء پر خرچ کرنا یا مخصوص اشیاء خرچ کرنا یہ اللہ تعالی كے قرب میں زیادتی کا باعث نہیں، اس لیے  ان چیزوں کی تخصیص نذر کے تحت داخل نہیں ہوگی۔

لیكن نذر کو جگہ اور فقراء وغیرہ کے ساتھ خاص کرنے کی صورت میں نذر ماننے والے کے لیے مستحب واولی یہی ہے کہ جوچیز اور جو جگہ اس نے متعین کی ہے وہیں صدقہ کرے اور وہی چیز صدقہ کرے، جیسا کہ سنن أبی داؤد كی راویت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک آدمی نے بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی، تو آپﷺ نے ان  صاحب کو اسی جگہ اپنی نذر پوری کرنے کا حكم فرمایا۔

عن يحيی بن أبي كثير، حدثني أبو قلابةحدثني ثابت بن الضحاك، قال: نذر رجل علی عهد رسول الّله -صلی الّله عليه وسلم- أن ينحر إبلا ببوانة، فأتی رسول الّله -صلی الّله عليه وسلم -، فقال: إني نذرت أن أنحر إبلا ببوانة، فقال رسول الّله -صلی الّله عليه وسلم-: "هل كان فيها وثن من أوثان الجاهلية يعبد؟ " قالوا: لا، قال: "هل كان فيها عيد من أعيادهم؟ " قالوا:لا، قال رسول الّله -صلی الّله عليه وسلم-: "أوف بنذرك، فإنه لا وفاء لنذر في معصية الله، ولا فيما لا يملك ابن آدم" . سنن أبي داود ت الأرنؤوط (۵/ ۲۰۰)(قال الشيخ شعيب الأرنؤوط : إسناده صحيح)

ترجمہ: ”ثابت بن ضحاك فرماتے ہیں كہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں ایك شخص نے یہ نذر مانی كہ وہ بوانہ (شام كے قریب ایك  علاقہ) میں اونٹ ذبح كرے گا، تو وہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم كی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض كیا كہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح كرنے كی نذر مانی ہے، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا كہ كیا اس جگہ جاہلیت كے بتوں میں سے كسی  بت كی عبادت كی جاتی تھی؟ تو عرض كیا گیا كہ نہیں، پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا كہ كیا جاہلیت كی رسموں میں سے كوئی رسم عید كے طور پر منائی جاتی تھی؟ تو  عرض كیا گیا كہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا كہ اپنی نذر اسی جگہ پوری كرو، كیونكہ جو نذر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہو اور جس چیز کا وہ مالک نہیں، اس کو پورا نہ کیا جائے“۔

اور نذر كے پورا ہونے كے لیے تعیینِ مكان وغیرہ كا لازم نہ ہونا بھی سنن ابی داؤد كی روایت سے معلوم ہوتا ہے: 

عن جابر بن عبد الله: أن رجلا قام يوم الفتح، فقال: يا رسول الله، إني نذرت لله إن فتح الله عليك مكة أن أصلي في بيت المقدس -قال أبو سلمة مرة:- ركعتين، قال: "صل ها هنا" ثمأعاد عليه، فقال: "صل ها هنا" ثم أعاد عليه، فقال: شأنك إذن". ( سنن أبي داود، ت: الأرنؤوط (۵/ ۱۹۳) )(قال الشيخ شعيب الأرنؤوط : إسناده قوي من أجل حبيب المعلم فهو صدوق لا بأس به. . . .وفي هذا الحديث دليل علی أن من جعل لله عليه أن يصلي في مكان، فصلی في غيره أجزأه ذلك.

ترجمہ: ”ایك آدمی فتح كے مكہ كے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوا اور عرض كیا اے اللہ كے رسول میں نےیہ نذر مانی تھی كہ اگر اللہ نے آپ كو مكہ كی فتح عطا فرمائی تو میں بیت المقدس میں دو رکعت پڑھوں گا، تو آپ ﷺ نے اس شخص سے تین مرتبہ فرمایا کہ یہیں پڑھ لو۔

مذكورہ بالا دونوں حدیثوں كو حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمہ اللہ نے (اعلاء السنن) میں ذكر كرنے كے بعد فرمایا: قد دل الحديث الأول من الباب علی اعتبار تعيين موضع النذر، والثانی علی التخيير بين ذلك الموضع وغيرہ، فيحمل الأول علی الاستحباب والثانی علی الإباحة. (إعلاء السنن، ۱۱/۴۳۹) كہ اس باب كی پہلی حدیث (بوانہ میں اونٹ ذبح كرنے سے متعلق) اس بات كی دلیل ہے كہ  نذر ماننے میں جس چیز كی نذر مانی ہے، تو اسی كا پورا كرنا مستحب ہے اور دوسری حدیث (بیت المقدس میں نماز پڑھنے سے متعلق) اس بات كی دلیل ہے كہ نذر میں تعیین كے باوجود اسی كو پورا كرنا لازمی نہیں، بلكہ مباح ہے۔ لہذا اولی اور مستحب یہی ہے كہ جس چیز كی نذر مانی ہے اس كوپورا كرے، البتہ اس كے بدل (مثلا: قیمت وغیرہ) كی ادئیگی بھی جائز اور مباح ہے۔   

لہذا سوال میں مذكور صورت میں چونكہ میٹھے چاول كی نذر مانی ہے تو اولی یہی ہے كہ میٹھے چاول كی دیگ پكاكر طلبہ كو كھلائے، كیونكہ میٹھے چاول كے بدلے سادے چاول بنانے میں فقط ذائقے كی تبدیلی ہے، جبكہ منفعت میں دونوں برابر ہیں۔ البتہ اگر نذر كو تبدیل كرنے میں فقراء كا فائدہ زیادہ ہو تو اس میں اولی یہ ہے كہ وہاں فقراء كی حاجت كو مد نظرركھتے ہوئے نذر كی ادائیگی ایسی چیز سے كرے جس میں فقیر كا فائدہ زیادہ ہو، جیساكہ صدقہ فطر میں گندم كی ادائیگی سے زیادہ اولی قیمت كی ادائیگی كو كہا گیا ہے، اسی طرح اگر كوئی دس درہم كی روٹی فقراء پر صدقہ كرنے كی نذر مانے توروٹی كے بجائے اس كی قیمت دے كر نذر پوری كرنا اولی ہوگا۔

(قوله: والنذر) هو بأن نذر التصدق بهذا الدينار فتصدق بعدله دراهم أو بهذا الخبز فتصدق بقيمته جاز عندنا أو نذر التصدق بشاتين وسطين فتصدق بشاة تعدلهما جاز وليس منه ما لو نذر أن يهدي شاتين وسطين أو يعتق عبدين وسطين فأهدی شاة أو أعتق عبدا يساوي كل منهما وسطين، فإنه لا يجوز؛ لأنه التزم إراقتين وتحريرين فلا يخرج عن العهدة بواحد بخلاف التصدق بشاة تعدل شاتين نذر التصدق بهما؛ لأن المقصود إغناء الفقير وهو يحصل بالقيمة كما في فتح القدير (درر الحكام شرح غرر الأحكام (۱/ ۱۷۸)

وأفاد ببيان الأدنی أنه لو قال لله علي أن أهدي ولا نية له فإنه يلزمه شاة لأنها الأقل، وإن عين شيئا لزمه؛ ولو أهدی قيمتها جاز في رواية، وفي أخری لا وهي الأرجح، ولا كلام فيما لو كان مما لا يراق دمه من المنقولات، فلو عقارا تصدق بقيمته في الحرم أو غيره لأنه مجاز عن التصدق أفاده في البحر واللباب (الدر المختار وحاشية ابن عابدين,۲/ ۶۱۴)

(نذر أن يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغيره جاز إن ساوی العشرة) كتصدقه بثمنه. (الدر المختار ، ۳ / ۷۴۱)

(قوله جاز) أشار إلی أن تعيين ما يشتری به مثل تعيين الزمان والمكان. (حاشية ابن عابدين ، ۳ / ۷۴۱)

(نذر لفقراء مكة جاز الصرف لفقراء غيرها) لما تقرر في كتاب الصوم أن النذر غير المعلق لا يختص بشيء (الدر المختار، ۳ / ۷۴۱)

 (قوله لما تقرر في كتاب الصوم) أي في آخره قبيل باب الاعتكاف وعبارته هناك مع المتن: والنذر من اعتكاف أو حج أو صلاة أو صيام أو غيرها غير المعلق ولو معينا لا يختص بزمان ومكان ودرهم وفقير فلو نذر التصدق يوم الجمعة بمكة بهذا الدرهم علی فلان فخالف جاز. . . وكذا يظهر منه أنه لا يتعين فيه المكان والدرهم والفقير لأن التعليق إنما أثر في انعقاد السببية فقط، فلذا امتنع فيه التعجيل، وتعين فيه الوقت أما المكان والدرهم والفقير فهي باقية علی الأصل من عدم التعيين، ولذا اقتصر الشارح في بيان المخالفة علی التعجيل فقط حيث قال: فإنه لا يجوز تعجيله فتدبر (حاشية ابن عابدين، ۳ / ۷۴۰)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4585 :

لرننگ پورٹل