لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

عرض یہ ہےکہ ایک شخص سنت ”ختنہ“ کی خوشی میں دعوتِ طعام میں اپنے دوست واحباب عزیز و اقارب کو مدعو کرسکتا ہے، یا نہیں؟ جیسا کہ شادی وغیرہ میں ہوتا ہے، جواب قرآن و سنت کی روشنی عنایت فرمائیں۔  

الجواب باسم ملهم الصواب

ختنہ  سنتِ مؤکدہ ہے اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، لیكن ختنہ کی دعوت کرنا شریعت میں ثابت نہیں ہے، بلكہ ایک روایت کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس دعوت  میں جانےكے بارے میں ناپسندیدہ ہونا بھی منقول ہے، چنانچہ مسند احمد میں ہے: عن الحسن، قال: دعي عثمان بن أبي العاص إلی ختان، فأبی أن يجيب، فقيل له، فقال: «إنا كنا لا نأتي الختان علی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم ولا ندعی له» (مسند أحمد مخرجا ،۲۹/ ۴۳۶) ترجمہ: ”حضرت عثما ن بن ابی العا ص رضی اللہ عنہ کو ختنہ كے كھانے کی دعوت دی گئی، تو انہوں نے شركت كرنے سے انكار كردیا، پھر کسی نے ان سے اس دعوت كے انكار كے بارے میں سوال كیا، تو انہوں نے فرمایاكہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كےزمانے میں ایسی دعوت پر نہیں جاتے تھے، اور نہ ہمیں اس كی دعوت دی جاتی تھی‘‘۔ 

اسی حدیث كو امام طحاوی رحمہ اللہ نے شرح مشكل الآثار میں ذكركرنے كے بعد فرمایا: قال: فدل ذلك أن الذي كانوا يدعون إليه من الأطعمة علی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم فما كانوا يأتونه علی وجوب إتيانه عليهم إنما هو خاص من الأطعمة لا علی كل الأطعمة، ولما كان طعام الوليمة مأمورا به كان من دعي إليه مأمورا بإتيانه, ولما كان ما سواه من الأطعمة غير مأمور به, كان غير مأمور بإتيانه. (شرح مشكل الآثار ،۸/۳۰)

كہ یہ حدیث اس بات كی دلیل ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں صحابہ كرام رضی اللہ عنہم ہر قسم كے كھانے كی دعوت پر نہیں جاتے تھے، بلكہ اگر كھانے كی خاص دعوت دی جاتی، مثلا ولیمہ وغیرہ كی دعوت توجایا كرتے تھے، ورنہ نہیں، اور ختنہ کی دعوت ایسی دعوت ہے جس میں شركت كرنا نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لازمی یا ضروری نہیں سمجھا جاتاتھا۔

لہذاختنہ كے موقع پر دعوت كو لازم وضروری سمجھتے ہوئے اس كا اہتمام كرنا، بے جااسراف كرنا، تحفہ تحائف كا باقاعدہ لین دین كرنا یہ مزاج شریعت كے خلاف ہے اس سے بچنا لاز م ہے۔ البتہ لازم وضروری سمجھے بغیر كسی بچے كے ختنہ كی خوشی میں كچھ كھانے كا انتظام كرلیا، بعض قریبی رشتہ داروں كو جمع كركے كھلادیا، تواس كی گنجائش ہے، لیكن اس كو باقاعدہ رسم نہ بنایا جائے كہ خاندان كے ہر بچہ كے ختنہ كے موقع پر دعوت كا اہتمام ہونے لگے۔

والأصل أن الختان سنۃ کما جاء فی الخبر وھو من شعائر الإسلام وخصائصہ فلو اجتمع أھل بلدۃ علی ترکہ حاربھم الإمام فلا یترک إلا لعذر (الدرالمختار،۶؍۷۵۱)

في البدائع ينبغي أن تجوز إذا كان أحدهم يری الوليمة يؤيده ما في المبتغي من التنصيص علی أنها سنة حيث قال الوليمة طعام العرس والخرس طعام الولادة والمأدبة طعام الختان والوكيرة طعام البناء(درر الحكام شرح غرر الأحكام،۱/ ۲۶۶)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4640 :

لرننگ پورٹل