لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022
جمعہ 11 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 07 اکتوبر 2022

میرے ساس سسر زندہ ہیں، ان كے چار بیٹے ہیں اور ایك بیٹی ہے، سسر صاحب كا ایك مكان ہے جس كی مالیت اسی لاكھ ہے، تو اب وہ مكان بیچ كر اپنی جائداد تقسیم كرنا چاہتے ہیں تویہ تقسیم كیسے ہوگی۔ بیٹی اوربیٹوں كو كتنا حصہ دیا جائے گا؟

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے كہ ہرشخص اپنی زندگی میں اپنے مال وجائداد کا تن تنہا مالک ہے اور مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلےاس میں ہر جائز تصرف کرنے کاحق اسے حاصل ہے، چنانچہ کسی کو کوئی چیز تحفے کے طور پر دینا بھی جائز ہے۔ لہذامذكورہ صورت میں اگر سسر صاحب اپنی جائداد كواپنی زندگی میں اپنی اولاد كےدرمیان تقسیم كرنا چاہتے ہیں، توانہیں اس كا پورا حق حاصل ہے، لیكن زندگی میں جائداد تقسیم كرنا ہبہ كہلاتا ہے، اور بطور ہبہ جائداد تقسیم  كرنے سے پہلے مستحب یہ ہے كہ اپنا قرض ادا كردیں،اوراپنی اور اپنی بیوی كی ضرورت کے بقدر كچھ مال رکھ کربقیہ مال لڑکوں اور لڑکیوں میں برابر برابر تقسیم کردیں۔ تاہم اگر میراث کے اصول کے مطابق بیٹی کو بیٹے سے نصف دے دیں، تو اس کی بھی گنجائش ہے، اسی طرح اگراولاد میں سے کسی کو اس کی ضرورت، خدمت، یا نیکی کی بناء پر زیادہ دے دیں، تو یہ بھی درست ہے، لیکن کسی کو نقصان پہنچانے كےلیے دوسرےکو سارا یا زیادہ مال دینا گناہ ہے۔

لہذا مذكورہ صورت میں آپ كے سسر مكان كو فروخت كركے اس كی رقم بیان كردہ طریقوں میں سے كسی بھی طریقے كے مطابق تقسیم كرسكتےہیں، البتہ ہبہ مکمل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایك كو اس كا حصہ قبضے میں دے کر مالک بنادیا جائے۔

وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحل لقوله سبحانه وتعالی { إن الله يأمر بالعدل والإحسان } وأما كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر علی الأنثی وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم علی سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيينب(بدائع الصنائع،١٣/٢٨٥)

يكره تفضيل بعض الأولاد علی البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله لواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط.ب(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،۷/ ۲۸۸)

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.ب(الدر المختار وحاشية ابن عابدين،۵/ ۶۹۰)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4642 :

لرننگ پورٹل