لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

اسٹیٹ لائف انشورنس کے بارے میں علمائے کرام ومفتیان عظام کیا فرماتے ہیں؟ برائے مہربانی اس کا حکم شرعی بیان فرمادیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

موجودہ دور میں بیمہ (انشورنس) کی تمام صورتیں ناجائز ہیں۔ کیونکہ بیمہ کمپنی طالب ِ بیمہ سے ایک معینہ رقم بالاقساط وصول کرتی رہتی ہے اور پھر ایک معینہ مدت کے بعد وہ رقم اسے یا اس کے پس ماندگان کو (حسب ِ شرائط) واپس کردیتی ہے اور اس جمع شدہ رقم پر شرح فیصد کے حساب سے زائد رقم بھی دیتی ہے جوکہ سود ہے۔ کیونکہ بالاقساط جمع ہونے والی رقم کمپنی کے ذمہ قرض ہے اور قرض پر نفع لینا سود کے حکم میں ہونے کی بناء پر ناجائز اور حرام ہے۔

كل قرض جر منفعة فهو ربا (الاختیار لتعلیل المختار لعبد الله بن محمود بن مودود الموصلي، کتاب البیوع) 

اسی طرح بیمہ کمپنی غیر یقینی امر پر رقم کی ادائیگی کو معلق رکھتی ہے، یعنی وقت معین سے پہلے وہ شخص یا وہ چیز تلف ہوجائے تو مخصوص رقم جبکہ وقت معین کے بعد تلف ہو تو مختلف رقم ملے گی اور واضح رہے کہ تلف ہونا ایک غیر یقینی امر ہے اس لیے یہ معاملہ خالص قمار ہے جو کہ حرام ہے۔ اس لیے زندگی کا بیمہ، املاک کا بیمہ  یا ذمہ داریوں کا بیمہ غرض ہر طرح کا بیمہ (انشورنس) ناجائز اور حرام ہے۔

ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار قال ابن عباس إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال والزوجة وقد كان ذلك مباحا إلى أن ورد تحريمه (احکام القرآن للجصاص، ص11، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت ، 1405)

زندگی کے بیمہ میں مندرجہ بالا خرابیوں کے علاوہ ایک خرابی یہ بھی ہے کہ بیمہ کرانے کے بعد موت واقع ہونے کی صورت میں کل رقم صرف اسی شخص کو ملتی ہے جس کو طالب بیمہ نے نامزد کیا ہو۔ چنانچہ اس وجہ سے میراث کا شرعی حکم فوت ہوتا ہے کیونکہ مرنے والے کے تمام مال میں اس کے تمام ورثاء کا حق ہوتا ہے ۔لہذا لائف انشورنس کروانا ناجائز ہے البتہ بیمہ کرانے والے کی اصل جمع شدہ رقم حلال ہے اس کے انتقال کے بعد اس رقم کو ورثاء کے درمیان تقسیم کرنا اور زائد رقم کو بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا ضروری ہے۔

تفصیلات کے لیے حضرت مفتی شفیع صاحب ؒ اور حضرت مفتی ولی حسن صاحبؒ کے مضامین مطالعہ فرمائیں جو جواہر الفقہ جدید، جلد۴، ص ۴۵۴ تا۵۲۹ پر بیمہ اور اس کے عنوان کے تحت مذکور ہیں۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4673 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل