لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

میں ایک نجی کمپنی میں نوکری کرتا ہوں۔ میں وہاں سے پراویڈنٹ فنڈ نہیں لیتا، کیوں کہ میرے علم کے مطابق وہ سودی اداروں میں انویسٹ کرتے ہیں۔ اب انہوں نے ایسے لوگوں کے لیے جو پراویڈنٹ فنڈ نہیں لیتے، ایک نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے کہ ہم غیر سودی اداروں میں انویسٹمنٹ کریں گے توجو لوگ اب پراویڈنٹ فنڈ لینا چاہیں وہ تصدیق نامہ جمع کرادیں۔ رہنمائی فرمائیں کہ ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

پراویڈنٹ فنڈ عام طور پر تین طرح کی رقوم کا مجموعہ ہوتا ہے: 

 1۔ ملازم کی بنیادی تنخواہ سے کاٹی گئی رقم۔

 2۔ ادارے کی طرف سے کٹوتی کے بقدر ملایا گیا عطیہ۔

 3۔ ان دونوں رقموں کو کسی سودی / غیر سودی بینک یا کسی جائز / ناجائز کاروبار میں لگا کر حاصل کیا گیا نفع۔ 

پہلی اور دوسری قسم کی رقم (یعنی کٹوتی کی اصل رقم اور ۲۔ وہ اضافی رقم جو محکمہ نےاپنی طرف سے شامل کی ہے) وصول کرنا تو بلاشبہ جائز ہے، بشرطیکہ ملازم کی اصل ملازمت جائز ہو۔ البتہ تیسری قسم کی رقم (مذکورہ بالادونوں قسم کی رقموں پر ملنے والے نفع) کا حکم اداروں کے صورتحال کے لحاظ سے مختلف ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ:

 (الف) جن اداروں میں پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ادارے کے اپنے اکاؤنٹ کے بجائے الگ ٹرسٹ میں رکھی جاتی ہے اور یہ ٹرسٹ قانونا مستقل مالی حیثیت کا مالک ہو، جس کی حیثیت مستقل شخصِ معنوی کی ہو، ادارے کا مملوک اور اس کا ذیلی شعبہ نہ ہواور ملازمین ہی کےنمائندے اس کے ٹرسٹی ہوں، نیز ادارہ نے ملازمین کی درخواست پر ہی پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ٹرسٹ کی تحویل میں دی ہو تو اس صورت میں یہ ٹرسٹ ملازمین کا وکیل اور نمائندہ سمجھاجائےگا اور ٹرسٹ کا قبضہ ملازمین کا قبضہ سمجھاجائےگا، اور اس کے تصرفات خود ملازم کے تصرفات سمجھے جائیں گے، لہذا اس صورت میں یہ تیسری قسم کی رقم اگر کسی ناجائز کاروبار سے حاصل کی گئی ہو یا کسی سودی بینک سے سود (مارک اپ) کے طور پر حاصل کی گئی ہو تو اس صورت میں ملازم کے لیے یہ رقم وصول کرنا جائز نہیں۔ اور اگر یہ رقم کسی جائز کاروبار میں لگا کر حاصل کی گئی ہو یا مستند غیر سودی بینک میں رکھ کر حاصل کی گئی ہو تو پھر اسے وصول کرناجائز ہے۔

(ب) البتہ جن اداروں میں پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ملازم کی اجازت کے بغیر ٹرسٹ کی تحویل میں دے دی جاتی ہو یا ٹرسٹ میں رکھوانے کے بجائے ادارے کے اپنے اکاؤنٹ میں ہی رکھی جاتی ہو اور اس کا نفع بھی ادارے کے مرکزی اکاؤنٹ میں ہی جمع ہوتاہو، جس میں عموماً حلال رقم غالب ہوتی ہے تو اس صورت میں اگر پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتی اختیاری ہوتو مشابہت ربا کی وجہ سے اس رقم کو یاتو وصول ہی نہ کیا جائے اور اگر وصول کرلی ہو تو صدقہ کردی جائے۔

البتہ اگر پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتی جبری کی گئی ہو تو اس (ب) والی صورت میں نفع کی رقم ملازم کے لیے ادارے سے وصول کرنےکی گنجائش ہے، اگرچہ ادارے نے خود یہ نفع کسی ناجائز کاروبار یاسودی بینک میں رکھ کر حاصل کیا ہو (لان قبول الهدية من المال المخلوط جائز اذا كان بقدرالحلال أولا یعلم قدر حلال ولم يتقن كونه من الحرام) مگر ادارے کی انتظامیہ کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ ادارے کی رقوم کی ناجائز جگہوں میں سرمایہ کاری نہ کرے۔

والخلاصة أن الغاصب إن خلط المغصوب بماله، وملكه وحلَّ له الانتفاع بقدر حصته على أصل أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى. فإن باعه أو وهبه بقدر حصته، جاز للآخذ الانتفاع به. أما إذا باع أو وهب بعد استنفاد حصته من الحلال، فيدخل في الصورة الثانية التي كل المخلوط فيها مغصوب، ولا يحل له الإنتفاع به، ولا للذي يشتري أو يتهب منه حتى يؤدى البدل إلى المغصوب منه. فأما إذا لم يعلم الآخذ منه كم حصة الحلال في المخلوط، يعمل بغلبة الظن، فإن غلب على ظنه أن قدر ما يتعامل به حلال عنده، فلا بأس بالتعامل…. وبما أنه قد يتعسر معرفة قدر الحلال في المال المخلوط، أو معرفة أن الغاصب استنفد ما فيه من الحلال، فلاشك أن الورع الاجتنابإلا إذا كان الغالب فيه حلالا، ولكنه من باب الورع، لا الفتوى. والله سبحانه وتعالى أعلم. (فقه البیوع، الجزء الثانی، الصفحۃ: 1037، 1038 المبحث العاشر فی الاحکام المال الحرام)

غصب عشرة دنانير، فألقى فيها دينارا، ثم أعطى منه منه رجلا دينارا، جاز، ثم دينارا آخر، لا. (الفتاوى التتارخانیه، كتاب الغصب، الفصل الخامس) 

والتصرف في الأثمان قبل القبض والديون استبدالا سوى الصرف والسلم جائز عندنا كذا في الذخيرة وذكر الطحاوي أنه لا يجوز التصرف في القرض قبل القبض قال القدوري في كتابه هذا سهو والصحيح أنه يجوز كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الباب الثاني، الفصل الثالث)

قوله (وصح التصرف في الثمن قبل قبضه) …. وأشار المؤلف بالثمن إلى كل دين فيجوز التصرف في الديون كلها قبل قبضها من المهر، والإجارة، وضمان المتلفات سوى الصرف والسلم كما قدمناه، وأما التصرف في الموروث، والموصى به قبل القبض فقدمنا جوازه. (البحر الرائق، كتاب البيع، باب المرابحة والتولية)

(ومنها) أن يكون رأس المال عينا لا دينا فالمضاربة بالديون لا تجوز ….ولو كان الدين على ثالث فقال له اقبض مالي على فلان فاعمل به مضاربة جاز كذا في الكافي. إذا كان لرجل على آخر ألف درهم دين فقال الآخر اقبض ديني من فلان واعمل به مضاربة فقبض بعضه وعمل فيه جاز…. في فتاوى رشيد الدين لو قال لمديونه ادفع الدين الذي لي عليك إلى فلان ليشتري فلان كذا ويبيع على أن ما يحصل من الربح بيننا نصفين فدفع صح ذلك مضاربة كذا في الفصول العمادية…. (الفتاوى الهندية، كتاب المضاربة، الباب الاول)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3722 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل