لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے جسم میں معاذ اللہ کیڑے پڑگئے تھے، جس کی وجہ سے انہیں کچرے میں پھینک دیا گیا تھا۔ یہ روایت بظاہر تو صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ اس کی تحقیق فرمادیں۔ جزاکم اللہ

الجواب باسم ملهم الصواب

  حضرت ايوب علیہ السلام کی بیماری کے حوالےسے جو روایت مشہور ہے کہ ان کے جسم میں کیڑے پڑگئے تھے اور معاذ اللہ انہیں کچرے کے میں پھینک دیا گیا تھا، روح المعانی میں علامہ آلوسی رحمہ اللہ تعالی نے اسے ذکر کرکے اسے محققین کے قول کے خلاف قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: 

لكن في بلوغ أمره إلى أن ألقي على كناسة ونحو ذلك فيه خلاف قال الطبرسي: قال أهل التحقيق أنه لا يجوز أن يكون بصفة يستقذره الناس عليها لأن في ذلك تنفيرا فأما الفقر والمرض وذهاب الأهل فيجوز أن يمتحنه الله تعالى بذلك. (روح المعاني، سورة ص: 41)

ترجمہ: حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کا اس قدر بڑھ جانا کہ انہیں کچرے میں ڈال دیا گیا تھا، اس میں اختلاف ہے۔ امام طبرسی فرماتے ہیں: محققین فرماتے ہیں کہ نبی ایسی صفت کے ساتھ متصف نہیں ہوسکتا جس سے  لوگ گِھن محسوس کریں، اس لیے کہ اس میں نفرت پیدا کرنے کا پہلو ہوتا ہے۔ رہی بات فقر، مرض اور اہل وعیال کے چلے جانے کی تو یہ ہوسکتا ہے، ممکن ہے اللہ اس کے ذریعہ اس کا امتحان لے رہے ہوں۔ 

انبیاء کرام علیہم السلام سے متعلق ایک اصول علامہ آلوسی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں:

وفي هداية المريد للفاني أنه يجوز على الأنبياء عليهم السلام كل عرض بشري ليس محرما ولا مكروها ولا مباحا مزريا ولا مزمنا ولا مما تعافه الأنفس ولا مما يؤدي إلى النفرة ثم قال بعد ورقتين، واحترزنا بقولنا ولا مزمنا ولا مما تعافه الأنفس عما كان كذلك كالإقعاد والبرص والجذام والعمى والجنون، وأما الإغماء فقال النووي لا شك في جوازه عليهم لأنه مرض بخلاف الجنون فإنه نقص، وقيد أبو حامد الإغماء بغير الطويل وجزم به البلقيني، قال السبكي: وليس كإغماء غيرهم لأنه إنما يستر حواسهم الظاهرة دون قلوبهم لأنها معصومة من النوم الأخف، قال: ويمتنع عليهم الجنون وإن قل لأنه نقص ويلحق به العمى ولم يعم نبي قط، وما ذكر عن شعيب من كونه كان ضريرا لم يثبت، وأما يعقوب فحصلت له غشاوة وزالت. (روح المعاني، سورة ص: 41)

اور تفسیر قرطبی میں علامہ قرطبی رحمہ اللہ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری سے متعلق روایات کے بارے میں فرماتے ہیں:

وَلَمْ يَصِحَّ عَنْ أَيُّوبَ فِي أَمْرِهِ إِلَّا مَا أَخْبَرَنَا اللَّهُ عَنْهُ فِي كِتَابِهِ فِي آيَتَيْنِ، الْأُولَى قَوْلُهُ تَعَالَى:" وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ" وَالثَّانِيَةُ فِي:" ص" "أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطانُ بِنُصْبٍ وَعَذابٍ". وَأَمَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصِحَّ عَنْهُ أَنَّهُ ذَكَرَهُ بِحَرْفٍ وَاحِدٍ إِلَّا قَوْلُهُ:" بَيْنَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ إِذْ خَرَّ عَلَيْهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ" الْحَدِيثُ. وَإِذْ لَمْ يَصِحَّ عَنْهُ فِيهِ قُرْآنٌ وَلَا سُنَّةٌ إِلَّا مَا ذَكَرْنَاهُ، فَمَنِ الَّذِي يُوصِلُ السَّامِعَ إِلَى أَيُّوبَ خَبَرُهُ، أَمْ عَلَى أَيِّ لِسَانٍ سَمِعَهُ؟ وَالْإِسْرَائِيلِيَّاتُ مَرْفُوضَةٌ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ عَلَى الْبَتَاتِ. (الجامع لاحكام القرآن للقرطبي، سورة ص: 41)

حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری سے متعلق تفسیر قرطبی اور تفسیر روح المعانی کی عبارات کی تلخیص کرتے ہوئے حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

’’قرآن کریم میں اتنا تو بتایا گیا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو ایک شدید قسم کا مرض لاحق ہوگیا تھا، لیکن اس مرض کی نوعیت نہیں بتائی گئی۔ احادیث میں بھی اس کی کوئی تفصیل آں حضرت ﷺ سے منقول نہیں ہے۔ البتہ بعض آثار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے جسم کے ہر حصے پر پھوڑے نکل آئے تھے، یہاں تک کہ لوگوں نے گِھن کی وجہ سے آپ کو ایک کوڑی پر ڈال دیا تھا۔ لیکن بعض محقق مفسرین نے ان آثار کو درست تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام پر بیماریاں تو آسکتی ہیں، لیکن انہیں ایسی بیماریوں میں مبتلا نہیں کیا جاتا جن سے لوگ گِھن کرنے لگیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری بھی ایسی نہیں ہوسکتی، بلکہ یہ کوئی عام قسم کی بیماری تھی۔ لہذا وہ آثار جن میں حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف پھوڑے پھنسیوں کی نسبت کی گئی ہے یا جن میں کہا گیا ہے کہ آپ کو کوڑی پر ڈال دیا گیا تھا، روایۃً ودرایۃً قابل اعتماد نہیں ہیں۔‘‘ (معارف القرآن، مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ، سورہ ص، آیت: 41) 

لہذا حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں یہ کہنا کہ ’’ان کے جسم میں کیڑے پڑگئے تھے یا انہیں کچرے میں ڈال دیا گیا تھا‘‘ کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4657 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل