لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

میری ایک كزن كو اس كے شوہر نے جھگڑے كے دوران كہاكہ ”میں تم كو تین طلاقیں دیتاہوں“، لیكن بعد میں ان كو بہت افسوس بھى ہوا اور انہوں نے كہاكہ میرا طلاق دینے كا كوئی ارادہ نہیں تھا، ان كے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اورایک بیٹی تین ماہ کی ہے، اس مسئلے كے بارے میں ہم نے اہل حدیث مسلک كے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے كہا كہ اس طرح کی طلاق طلاقِ رجعی ہوتی ہے اور یہ ایک ہی طلاق شمار ہوتى ہے، شوہر كو اس میں رجوع كرنےكاحق حاصل ہوتاہے۔ ہمارى رہنمائى فرمائیں كہ كیایہ بات درست ہے؟ ان كے فتوے كے مطابق عمل کیا جاسكتا ہے یانہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں دینا خواہ ایک جملہ سے دی جائیں یا الگ الگ جملوں سے،خلافِ سنت اور ناجائز ہے،تاہم اگر کسی نے اس طریقے سےتین طلاقیں دیں، تو یہ تین طلاقیں ہی شمار ہوں گی اور تینوں طلاقیں واقع ہوجائىں گی، یہ موقف قرآنِ کریم اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے اور اسی پر جمہور صحابہ،تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین،اور چاروں ائمہ یعنی حضرت امام ابوحنیفہ،حضرت امام مالک،حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ کا اتفاق ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے تین طلاقیں صریح دیں ہیں،اوركہہ دىاكہ ”میں تم كو تىن طلاقیں دیتاہوں“ تو شرعاً تینوں طلاقیں واقع ہو کر نکاح ختم ہو گیا ہے، اہلِ حدىث مسلك كے لوگوں كا یہ كہناكہ اس طرح كى طلاق طلاقِ رجعى ہوتى ہے، شوہركو رجوع كرنےكاحق حاصل ہے، توىہ بات قرآن وسنت واجماع صحابہ كے خلاف ہونے كى وجہ سے غیر معتبر ہے ۔اس لیے خاتون کے لیے حلالۂ شرعیہ کے بغیر اس مرد کے ساتھ ازدواجی زندگی قائم کرنا حرام ہے۔

عن عائشة أن رجلا طلق امرأته ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبي صلى اللہ عليہ وسلم أتحل للأول قال لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول.(صحيح البخاري،2/791)

ولو قال ظننت أنها تحل لي لا يحد لأن الظن في موضعه لأن أثر الملك قائم في حق النسب والحبس والنفقة فاعتبر ظنه في إسقاط الحد.(الهداية في شرح بداية المبتدي،2/345)

ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا. وفي البزازية: طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل.(رد المحتار،3/518)

والله أعلم بالصواب

فتوی نمبر4784 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل