لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

سوال: کیا کوئی ایسی روایت ہے جس میں یہ ذکر ہو کہ مزدور کی اجرت دو حصے اور سرمایہ دار کی اجرت ایک حصہ ہوتی ہے۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

ایسی کوئی روایت ذخیرہ احادیث میں نہیں مل سکی، اس لیے اس کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرکے روایت کرنا جائز نہیں ہے۔ تاہم حلال کسبِ معاش کی ذخیرہ احادیث میں فضیلت وارد ہوئی ہے، اور کسبِ معاش کے ذرائع میں سے تجارت، محنت اور ہاتھ کی کمائی کو سب سے افضل اور زیادہ پاکیزہ  ذریعہ معاش قرار دیا گیا ہے، چنانچہ مسند احمد کی روایت ہے: 

عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ». (مسند احمد، مسند الشاميين، حديث رافع بن خديج)

ترجمہ: حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا :   انسان کے ہاتھ کی مزدوری اور ہر سچی خرید وفروخت (یعنی جس تجارت میں جھوٹ، فریب وغیرہ نہ ہو ۔)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4917 :

لرننگ پورٹل