لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

سوال:صحیح بخاری کے حوالے سے ایک روایت پڑھنے کو ملی، جس میں مؤمن کی مثال ذکر کی گئی ہے، اس کی تخریج درکار ہے: 

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مؤمن کی مثال لہلہاتی کھیتی کی طرح ہے، جسے (مصائب کی) آندھیاں اِدھر اُدھر جھکاتی رہتی ہیں، (مگر توڑ نہیں سکتیں)۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

یہ روایت صحیح ہے اور حدیث کی مستند اور معتبر ترین کتاب ’’صحیح بخاری‘‘ میں مذکور ہے۔ 

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وسلم قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفَيِّئُهَا الرِّيحُ مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا مَرَّةً وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَالأَرْزَةِ لاَ تَزَالُ حَتَّی يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً. (صحيح البخاري، كتاب المرضی، باب ما جاء في كفارة المرض)

حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مؤمن کی مثال لہلہاتی ہوئی کھیتی کی طرح ہے، جسے ہوا اِدھر اُدھر جھکاتی ہے، اور کبھی سیدھا کردیتی ہے۔ اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے جو ایک حالت پر رہتا ہے یہاں تک کہ (اللہ جب چاہتا ہے) ایک دفعہ میں ہی اسے اکھاڑ دیتا ہے۔

یعنی ایمان والے شخص پر مختلف حالات، پریشانیاں اور بیماریاں آتی رہتی ہیں، کبھی صحت اور کبھی ضعف وکمزوری کے حالات آتے ہیں، لیکن وہ مایوس نہیں ہوتا، بلکہ اللہ کے فیصلے پر راضی رہتے ہوئے اسے قبول کرتا ہے، اچھے حالات میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور ناموافق حالات میں صبر کرتا ہے، جبکہ کافر کو اللہ تعالی آسائشوں میں رکھتے ہیں، یہاں تک کہ ایک دفعہ میں ہی اسے سختی میں مبتلا کرکے ہلاک کردیتے ہیں۔ 

وقال المهلب: معنی هذا الحديث أن المؤمن من حيث جاءه أمر الله انطاع له ولان له ورضي به، وإن جاء مكروه رجا فيه الخير، وإذا سكن البلاء اعتدل قائما بالشكر لربه علی البلاء، بخلاف الكافر فإن الله عز وجل لا يتفقده باختبار بل يعافيه في دنياه وييسر عليه أموره ليعسر عليه في معاده حتی إذا أراد الله إهلاكه قصمه قصم الأرزة الصماء ليكون موته أشد عذابا عليه وألما. (عمدة القاري، كتاب المرضی، باب ما جاء في كفارة المرض)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4890 :

لرننگ پورٹل