لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

سوال: السلام عليكم میرے والد کا انتقال 2020 میں ہوا تھا۔   ان  کی  وراثت سے متعلق میرے 2 سوالات ہیں۔

۱۔   تقریبا  ۴  سے  ۵  سال   پہلے ، میری والدہ کی میرے والد سے ان   کی چھٹی ہوئی نمازوں سے  متعلق گفتگو ہوئی  تھی۔ میرے والد باقاعدگی سے نماز نہیں  پڑھتے  تھے خاص کر جب وہ جوان تھے۔ میرے والد نے میری والدہ سے اپنی چھٹی  ہوئی نمازوں کے لئے فدیہ دینے کو کہا تھا۔ اب جب میرے والد نہیں رہے ، تو کیا  ہم (قانونی وارث) وراثت کے پیسوں سے اس فدیہ کی ادائگی کے ذمہ دار ہیں؟ اگر ہاں ، تو ہم اس رقم کا حساب کیسے  لگائیں گے کیوں کہ صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ ان  کی   کتنی  نمازیں  چھٹی   تھیں۔

۲۔   میرے  والد  کے   رمضان  میں  بھی   روزے  چھوٹ  گئے   تھے ۔   اگرچہ انہوں نے اس کے لئے کوئی وصیت  نہیں کی تھی ، لیکن کیا ہمیں  ان   کے  چھٹے  ہوئے   روزوں  کے  لیے  فدیہ  دینا   چاہئے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

 صورت مسئولہ میں اگر مرحوم نے اپنی فوت شدہ نمازوں کے فدیہ کی وصیت کی ہے تو مرحوم کے ورثاء پر لازم ہے کہ مرحوم کے مال کے ایک تہائی حصے میں سے مرحوم کی فوت شدہ نمازوں کے فدیے کی ادائیگی کریں جس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر فوت شدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو اندازہ کر کے ہر ایک نمازکے بدلے ایک صدقہ فطر کی مقدار (پونے دو کلو گندم یا ساڑھےتین کلو جو، یا کھجور،یا کشمش)یا اس کی قیمت صدقہ کریں اور اگر مرحوم کی نمازوں کا فدیہ ان کے تہائی مال سے ادا نہ ہو توبالغ  ورثاء اپنے مال سے مرحوم کی بقیہ نمازوں کا فدیہ ادا کردیں تو یہ تبرع اور احسان ہے اور اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ ورثاء کی طرف سے فدیہ کی ادائیگی کو قبول فرما کر مرحوم کی نمازوں کو معاف فرما دیں ۔

روزوں کے فدیے کی چونکہ وصیت نہیں کی ہے اس لئے روزوں کا فدیہ ورثا ء پر لازم نہیں ،تاہم چھوٹے ہوئے روزوں کا بھی اندازہ لگاکر ورثاء اپنی طرف سے فدیہ ادا کردیں تو اللہ تعالی کی ذات سے  امید ہے کہ قبول فرما کر مرحوم کو معاف فر ما دیں گے۔

وإن لم یوص و تبرع ولیہ بہ جاز إن شاء اﷲ ویکون الثواب للولی(الدرالمختار(۲:۴۶۷)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4908 :

لرننگ پورٹل