لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022
ہفتہ 16 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 10 دسمبر 2022

سوال:پہلے روزےکو میری اہلیہ کےسرمیں شدید تکلیف ہوئی،تکلیف اتنی شدیدتھی کہ وہ برداشت نہ کرسکی،اورروزہ توڑنےپر مجبورہوگئی اورگولی کھالی،گولیاں کھانےکےبعدبےتحاشاالٹیاں بھی کیں۔سوال یہ ہےکہ کیا ایسی صورت میں ان پرروزہ توڑنےکی وجہ سےقضاء وکفارہ  دونوں لازم ہیں،یاصرف روزےکی قضاء کرنالازم ہے؟اس مسئلےمیں ہماری رہنمائی فرمائیں۔جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

روزےدار کوکوئی ایسی بات پیش آجائےجس میں روزہ باقی رکھنامشکل ہوتو ایسی صورت میں خود فیصلہ کرنے کےبجائےڈاکٹرسے رجوع کرنا چاہیے،اگرانجکشن سےکام چل جائےتوروزہ نہیں توڑناچاہیے۔صورتِ مسئولہ میں اگرواقعی سرمیں اتنی شدید تکلیف ہوئی جوناقابلِ برداشت تھی کہ خاتون روزہ توڑنےپر مجبورہوگئی، تو ایسی صورت  میں روزہ توڑنےکی وجہ سےصرف قضاء لازم ہے،كفارہ نہیں۔

الأعذار التي تبيح الإفطار)… (ومنها المرض) المريض إذا خاف علی نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق كذا في فتح القدير. والصحيح الذي يخشی أن يمرض بالصوم فهو كالمريض هكذا في التبيين(الفتاوی الهندية،۱/۲۰۶)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4932 :

لرننگ پورٹل