لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

سوال:  اکثر عمر رسیدہ افراد روزے کا فدیہ ادا کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اس فدیہ کی ادائیگی کا تعلق کیا انسان کی مالی حیثیت سے ہے، یعنی ایک انسان غریب بھی ہو سکتا ہے، امیر بھی اور متوسط بھی، کیا یہ فدیہ اسی طرح ادا کرے گا جو طریق صدقہ فطر ادا کرنے کا ہے، یا ایک امیر انسان اپنا فدیہ اس ریٹ پر ادا کر سکتا ہے جو ایک ایورج ریٹ ہے۔

اسکے علاوہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کے مشکل سے گزارا کرتے ہیں، یعنی یا تو ای او بی آئی کی طرف سے ملنے والی رقم یا اولاد کفالت کر رہی ہے، ان کا فدیہ کس طریقے پر ادا کیا جائے گا؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

جو شخص بڑھاپے یا مسلسل کسی بیماری کی وجہ سے روزے پر قادر نہیں ، نہ ہی مستقبل میں اس کی کوئی امید ہے کہ صحت نصیب ہو گی تو ہر روزے کے بدلے میں اپنی مالی حیثیت اور استطاعت کے مطابق  پونے دو کلو گندم یا ساڑھے تین کلو جو یا کھجور یا کشمش یا ان کی قیمت بطور فدیہ دے سکتا ہے ،امیر آدمی بھی اگر اوسط درجہ کا فدیہ دے تو فدیہ ادا ہو جائے گا البتہ بہتر یہ ہے کہ مالی حیثیت کے مطابق فدیہ ادا کرے  ، فدیے کی ادائیگی  کے بعد صحت یاب ہوگیا تو دوبارہ قضا کرنا ضروری ہے ۔نیز واضح رہے کہ زندگی میں نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کی اجازت نہیں اگر کوئی زندگی میں نمازوں کا فدیہ ادا کرے تو فدیہ ادا نہیں ہوگا ۔

اگر کسی شخص کے پاس اپنی ملکیت میں اتنا مال نہ ہو کہ وہ اپنے روزوں کا فدیہ ادا کر سکے تو  اس کے ذمہ فدیہ کی ادائیگی لازم نہیں وہ توبہ و استغفار کرے اگر کوئی اس شخص کی اجازت سے اس کے روزوں کا فدیہ ادا کردے تو فدیہ ادا ہو جائے گا ۔

 فالشيخ الفاني الذي لا يقدر علی الصيام يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا كما يطعم في الكفارة كذا في الهداية. والعجوز مثله كذا في السراج الوهاج. وهو الذي كل يوم في نقص إلی أن يموت كذا في البحر الرائق. ثم إن شاء أعطی الفدية في أول رمضان بمرة، وإن شاء أخرها إلی آخره كذا في النهر الفائق.ولو قدر علی الصيام بعد ما فدی بطل حكم الفداء الذي فداه حتی يجب عليه الصوم هكذا في النهاية.( الفتاوی الهندية (1/ 207)

ولو فدی عن صلاته في مرضه لا يصح بخلاف الصوم. (قوله ولو فدی عن صلاته في مرضه لا يصح) في التتارخانية عن التتمة: سئل الحسن بن علي عن الفدية عن الصلاة في مرض الموت هل تجوز؟ فقال لا. وسئل أبو يوسف عن الشيخ الفاني هل تجب عليه الفدية عن الصلوات كما تجب عليه عن الصوم وهو حي؟ فقال لا. اهـ. وفي القنية: ولا فدية في الصلاة حالة الحياة بخلاف الصوم. اهـ.

أقول: ووجه ذلك أن النص إنما ورد في الشيخ الفاني أنه يفطر ويفدي في حياته، حتی إن المريض أو المسافر إذا أفطر يلزمه القضاء إذا أدرك أياما أخر وإلا فلا شيء عليه، فإن أدرك ولم يصم يلزمه الوصية بالفدية عما قدر، هذا ما قالوه، ومقتضاه أن غير الشيخ الفاني ليس له أن يفدي عن صومه في حياته لعدم النص ومثله الصلاة؛ ولعل وجهه أنه مطالب بالقضاء إذا قدر، ولا فدية عليه إلا بتحقيق العجز عنه بالموت فيوصي بها، بخلاف الشيخ الفاني فإنه تحقق عجزه قبل الموت عن أداء الصوم وقضائه فيفدي في حياته، ولا يتحقق عجزه عن الصلاة لأنه يصلي بما قدر ولو موميا برأسه، فإن عجز عن ذلك سقطت عنه إذا كثرت، ولا يلزمه قضاؤها إذا قدر كما سيأتي في باب صلاة المريض، وبما قررنا ظهر أن قول الشارح بخلاف الصوم أي فإن له أن يفدي عنه في حياته خاص بالشيخ الفاني تأمل.( الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 74)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4921 :

لرننگ پورٹل