لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

سوال:میرےشادی شدہ بیٹےاور اس کی زوجہ کےصدقہ فطر کی ادائیگی کیا میرے ذمے ہے،جبکہ بیٹا ابھی بے روزگار ہےاور بہو گھریلو خاتون ہے؟ اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

صدقہ فطر ہراس شخص پر واجب ہے جس کی ملکیت میں پانچ چیزیں (سونا، چاندی، نقدی ، مالِ تجارت اور ضرورت سے زائدسامان) میں سے کوئی ایک یا ان پانچوں کامجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابرہو جائے، خواہ اس نصاب پر پورا سال گزرا ہویا نہ گزرا ہو،تو اس پر اپنی طرف سے اوراپنے نابالغ بچوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے۔نیزوالد کے ذمے نابالغ اولاد کے علاوہ کسی اور رشتے دار مثلا بیوی، بالغ اولاد، بہن، بھائی غرض کسی بھی دوسرے رشتے دار کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب نہیں اگرچہ یہ اس کے زیرِ کفالت ہوں ۔ البتہ اگر والد اپنی خوشی سے اپنی بالغ اولاد کی جانب سےصدقہ فطر ادا کرنا چاہے،تو والد کے لیے اپنی بالغ اولاد سے اجازت لینا، یا ان کے علم میں لانا شرعاً ضروری ہوتا ہے، بصورتِ دیگر صدقہ فطر ادا نہیں ہوگا۔

 لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرآپ کابیٹایابہوصاحبِ نصاب ہیں توان کا صدقہ فطر خود ان پرواجب ہے،کسی اورپرواجب نہیں(اگرچہ بیٹا بےروزگارہی کیوں نہ ہو)۔لیکن اگرآپ ان کی اجازت سے ان کاصدقہ فطر ادا کردیں تواداہوجائےگا۔البتہ اگروہ صاحبِ نصاب نہیں ہیں تو ان پر صدقہ فطر کی ادائیگی  کرنالازمی نہیں۔

(ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية) كدينه وحوائج عياله (وإن لم يتم) كما مر (وبه) أي بهذا النصاب(الدر المختار،۲/۳۶)

قلت: فلو كانا فقيرين لم تجب عليهما بل علی من يمونهما كما يأتي. والظاهر أنه لو لم يؤدها عنهما من ماله لا يلزمهما الأداء بعد البلوغ والإفاقة لعدم الوجوب عليهما (قوله: بعد البلوغ) أي بعد الإفاقة في المجنون ح. (قوله: وإن لم ينم) يقال نما ينمي وينمو كذا في الإسقاطي فهو مجزوم بحذف الياء أو الواو ط (قوله كما مر) أي في قوله: وغني يملك قدر نصاب وقدمنا بيانه ثمة (قوله: تحرم الصدقة) أي الواجبة أما النافلة فإنما يحرم عليه سؤالها، وإذا كان النصاب المذكور مستغرقا بحاجته، فلا تحرم عليه الصدقة ولا يجب به ما بعدها (قوله: كما مر) أي في قوله أيضا وغني (قوله: ونفقة المحارم) أي الفقراء العاجزين عن الكسب أو الإناث إذا كن فقيرات، وقيد بهم لإخراج الأبوين الفقيرين فإن المختار أنه يدخلهما في نفقته إذا كان كسوبا(رد المحتار،۲/۳۶۰)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4928 :

لرننگ پورٹل