لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

سوال:ہمارے آفس میں دو بڑے ہال ہیں،جو مسجد كےطور پر وقف كیےہوئے ہیں،جس میں ایك حصہ مردوں كے لیےاور دوسرا حصہ عورتوں كےنمازپڑھنےكےلیےہے،اذان بھی ہوتی ہےاورباجماعت نماز بھی پڑھی جاتی ہے،عورتیں اپنی سہولت سے جیسے گھر میں نماز پڑھتی ہیں اسی طرح یہاں بھی پڑھ لیتی ہیں،اورلوگ اس مسجد میں سوتے بھی ہیں،كھانا بھی كھاتے ہیں،موبائل پر ڈرامے وغیرہ بھی دیكھتےہیں،گپ شپ بھی كرتے ہیں،ایسے سمجھ لیں جیسے كسی كالج وغیرہ كافیملی روم ہوتاہے۔یہ سب اسی طرح چلتاہے،لیكن یہ مسجدہی ہے،اس میں صف وغیرہ بھی بچھی ہوئی ہے،قرآن مجید بھی الماری میں ركھے ہوئےہیں،اسی طرح امام كے لیےمصلی كی جگہ بھی ہے۔معلوم یہ كرنا ہے كہ كیا ہم اس جگہ اس طرح كے دینی اور دنیاوی كام كرسكتےہیں؟دوسرا یہ كہ كیا ناپاكی كی حالت میں وہاں بیٹھنایا لیٹناجائز ہے؟اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں؟جزاك اللہ خیراً۔

الجواب باسم ملهم الصواب

سوال كی تحریر سے معلوم ہوتاہےكہ آفس كےجس ہال كو نماز پڑھنے كےلیے مسجد كےنام پر مختص كیا گیا ہےوہ شرعی مسجد نہیں،بلكہ(مصلی)جائے نماز ہے ۔یعنی اس میں با جماعت نماز ادا كرنے سے جماعت كا ثواب مل جائے گا،لیكن مسجد میں نماز پڑھنے كا ثواب نہیں ملےگا۔كیونكہ شرعی مسجد وہ ہوتی ہے کہ کوئی ایک شخص یا چند اشخاص اپنی مملوکہ زمین کو مسجد کے نام سے اپنی ملک سے جدا کرکےاللہ كے نام پروقف کر دیں،اور لوگوں كو بتادیں كہ یہ جگہ ہمیشہ كے لیے نماز كے لیے مختص ہے،تو وہ جگہ شرعی مسجد کہلاتی ہے،جس كا حكم یہ ہےكہ اب یہ جگہ زمین سے لے کر آسمان تک مسجد ہی کےلیےاستعمال ہوگی، کسی دوسرے کام کےلیے استعمال كرنا جائز نہیں ۔ یعنی شرعی مسجد بننے کے لیے ضروری ہے کہ جس جگہ مسجدبنانےکاارادہ ہواس جگہ کو مسجد کے لیےمذکورہ تمہید کے مطابق باقاعدہ طور پر وقف کر دیا جائے،البتہ وقف کیےبغیرمحض نماز پڑھنے کے لیے کسی جگہ کو خاص کرنے سےوہ جگہ شرعی مسجد نہیں بنے گی،بلکہ وہ صرف مصلی ہو گا،جیساكہ آج كل فلیٹ یاشاپنگ مال وغیرہ میں مساجد ہوتی ہے جن كے اورپر یا نیچے دكانیں اور رہائش گاہیں ہوتی ہیں،یہ بھی جائے نماز(مصلی )كے حكم میں ہیں ،شرعی مسجد كے حكم میں نہیں۔لیكن نماز كے لیے مختص ہونے كی وجہ سے اس كا ادب واحترام ضروری ہے۔

لہذا آفس كی جگہ كو نماز اور عبادت وغیرہ كے لیے مختص كیاگیا ہے،اس كا احترام بھی مسجدِ شرعی كی طرح كیا جاناچاہیے،اس لیے مردوں کا حالتِ جنابت اورعورتوں کا اپنی ماہواری کے ایام میں اس جگہ داخل ہونایا اس جگہ کھانے پینے كی عادت بنانابہتر نہیں۔نیز میوزك سننا، سنانا،یاڈرامے وغیرہ دیكھناگناہ ِكبیرہ ہےاور یہ كام ہروقت ہر جگہ ممنوع وناجائز ہے،چہ جائیكہ ان كو مسجد ومصلی جیسے مقدس مقام پر كركےاس جگہ كاتقدس مجروح كیا جائے، لہذا اس سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔

قال في البحر وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالی {وأن المساجد لله } الجن۱۸بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية (حاشية ابن عابدين،۴/۳۵۸)

(ويزول ملكه عن المسجد والمصلی) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والإمام (الصلاة فيه)بجماعة وقيل: يكفي واحد وجعله في الخانية ظاهر الرواية. (الدر المختار،۴/۳۵۵)

(قوله: بجماعة) لأنه لا بد من التسليم عندهما خلافا لأبي يوسف، وتسليم كل شيء بحسبه، ففي المقبرة بدفن واحد وفي السقاية بشربه وفي الخان بنزوله كما في الإسعاف، واشتراط الجماعة لأنها المقصودة من المسجد، ولذا شرط أن تكون جهرا بأذان وإقامة وإلا لم يصر مسجدا(حاشية ابن عابدين،۴/۳۵۶)

(و) كره تحريما (الوطء فوقه، والبول والتغوط) لأنه مسجد إلی عنان السماء(الدر المختار،۱/۶۵۶)

(قوله إلی عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلی تحت الثری كما في البيري عن الإسبيجابي… (قوله لا يكره ما ذكر) أي من الوطء والبول والتغوط نهر (قوله فوق بيت إلخ) أي فوق مسجد البيت: أي موضع أعد للسنن والنوافل، بأن يتخذ له محراب وينظف ويطيب كما أمر به -صلی الله عليه وسلم- فهذا مندوب لكل مسلم، كما في الكرماني وغيره قهستاني، فهو كما لو بال علی سطح بيت فيه مصحف وذلك لا يكره كما في جامع البرهاني معراج.(قوله: به يفتی. نهاية) عبارة النهاية: والمختار للفتوی أنه مسجد في حق جواز الاقتداء إلخ، لكن قال في البحر: ظاهره أنه يجوز الوطء والبول والتخلي فيه، ولا يخفی ما فيه فإن الباني لم يعده لذلك فينبغي أن لا يجوز وإن حكمنا بكونه غير مسجد، وإنما تظهر فائدته في حق بقية الأحكام، وحل دخوله للجنب والحائض. اهـ. (حاشية ابن عابدين، ۱/۶۵۶)

إن الملاهي كلها حرام.(الدر المختار ،٩/٥٧٦)

واستمتاع ضرب الدف والمزمار وغیر ذلك حرام، وإن سمع بغتة یكون معزورًا، ویجب أن یجتهد أن لایسمع، قهستاني.(رد المحتار،۹/٦٥١)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4715 :

لرننگ پورٹل