لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

سوال:برائے مہربانی رہنمائی فرمایئے گا کہ یہ حدیث قدسی ہے یا نہیں ۔لوگ اس کو حدیث قدسی کہہ کر پیش کرتے ہیں لیکن میں نے آج تک اس کا حوالہ نہیں دیکھا ۔اگر یہ حدیث ہے اور اس کا کوئی  حوالہ ہے تو برائے مہربانی مجھے بتا دیں اللہ آپ کو جزائے خیر عطا کرے۔ ’’اے  ابن آدم ایک میری  چاہت ہے اور ایک تیری چاہت ہے ہوگا وہی جو میری چاہت ہے اگر تو نے سپرد کردیا اپنے آپ کو اسے کے جو میری چاہت ہے تو وہ بھی میں تجھے دے دوں گا جو تیری چاہت ہے اگر تو نے مخالفت کی  اس کی جو میری چاہت ہے تو میں تھکا دوں گا اس کو جو تیری چاہت ہے  پھر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

آپ نے جس حدیث یا روایت کے بارے میں دریافت کیا ہے کافی عرصے سے یہ روایت حدیث ِ قدسی کے نام سے خوب شہرت حاصل کر چکی ہے۔یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ چند کتابوں میں موجود ہے جیسے:نوادر الاصول فی احادیث الرسول للحکیم الترمذی،مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃالمصابیح للعلامۃ علی القاری،احیاء العلوم للغزالی وغیرہ ۔نوادر الاصول میں اس حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:(( قال الله تعالی لداود عليه السلام تريد و أريد و يكون ما أريد فإذا أردت ما أريد كفيتك ما تريد و يكون ما أريد و إذا أردت غير ما أريد عنيتك فيما تريد و يكون ما أريد )) (نوادر الأصول فی احادیث الرسول للحکیم الترمذی،ص 107، الناشر دار الجيل،سنة النشر 1992م،مكان النشر بيروت)ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ نے داؤد ؑ سے فرمایا(اے میرے بندے) ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے، اگر تو میری چاہت پر اپنی چاہت کو قربان کردے تو میں تیری چاہت میں تیری کفایت کروں گا اور ہوگا وہی جو میں چاہوں گا۔ اور اگر تو میری چاہت پر اپنی چاہت کو قربان نہ کرے تو میں تم کو تیری چاہت میں تھکا دونگا اور ہوگا وہی جو میں چاہوں گا۔‘‘ملا علی قاری ؒ نے مرقات میں ایک جگہ  لکھا ہے’’ وفی بعض الکتب عبدی‘‘(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح،کتاب الدعوات،باب أسماء اللہ تعالیٰ) ترجمہ:’’یعنی بعض کتب میں عبدی کے الفاظ آئے ہیں۔‘‘اور تفسیر حقی میں اس طرح ہے کہ ’’ان اللہ تعالیٰ یقول ابن آدم‘‘(تفسیر حقی،سورۃ یوسف ،آیۃ 21 ) ترجمہ:’’یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم‘‘واضح رہے کہ جتنی کتبِ حدیث میں یہ روایت درج ہے ان میں سے کسی میں بھی اس حدیث کی سند درج نہیں ہے۔ مذکورہ کتابوں کے حوالوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس حدیث قدسی کی کوئی اصل وسند نہیں لہذا جب تک اس حدیث قدسی کی مقبول سند کا علم نہیں ہوجاتا ضروری ہے کہ اس سے پرہیز کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ پر افتراء وکذب بیانی سے بچا جا سکے، آپ ﷺ نے جس شدت کے ساتھ کذب بیانی سے روکا ہے کسی اور چیز سے اس قدر شدت کے ساتھ نہیں روکا۔لہذا روایات میں آتا ہے کہ :(( مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ)) (مسلم،مقدمۃ، باب تغليظ الكذب علی رسول الله) ترجمہ:’’جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ گھڑا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے‘‘یہ حدیث قدسی جن کتابوں میں ہے ان میں سب سے قدیم تالیف ’’نوادر الأصول‘‘ ہےبعد کی کتابوں میں یہ حدیث شاید اسی کتاب کے حوالہ سے آئی ہے’’ نوادر الأصول‘‘ حکیم ترمذی کی تالیف ہے، حکیم ترمذی کا نام سن کر یا پڑھ کر بعض حضرات کو اس سے شبہ ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد مشہور محدث امام ترمذیؒ ہیں  جن کی کتاب’’سنن الترمذی‘‘ پڑھی پڑھائی جاتی ہے لیکن واضح رہے کہ یہ دونوں شخصیات الگ الگ ہیں مشہور محدث کا نام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمذی ہے اور حکیم ترمذی کا نام ابو عبد اللہ محمد بن علی بن الحسن الحکیم الترمذی ہے اور یہ تیسری صدی کے مشہور محدث ہیں۔ان کا انتقال سن ۲۸۵ھ اور ۲۹۰ھ کے درمیان ہوا ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ تمام کتب حدیث میں یہ روایت  بلا سند درج ہوئی ہے ۔لہذا اس کی کوئی اصل نہیں ہے اس لئے اس کو حدیث ِ قدسی کہنا یا رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے ۔عوام الناس میں بھی اس بات کی تشہیر کرنی چاہیے کہ یہ حدیث نہیں ہے البتہ اس کی شہرت کافی ہوگئی ہے لیکن حقیقت میں یہ کوئی حدیث ہے ہی نہیں۔

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل