لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

سوال:کیا اسلام نے ان بچوں کے لئے کوئی احکامات دیے ہیں ۔جب ان کا کوئی legal status نہیں ہے تو ولدیت نہیں ہوگی ۔وہ معاشرے میں فعال کردار کیسے ادا کرسکتا ہے ورنہ اس مسئلے کو حل نہ کرنے پر تومعاشرہ مجرم پیدا کرنے کا ذمہ دار ہوا۔ایسے بچوں کے ساتھ معاشرے کا سلوک کیسا ہونا چاہیے ۔کیا یہ ماں کے مال میں وراثت کا حصہ پا سکتے ہیں اور ان سے شادی کے سلسلے میں عام مسلمان کے لئے کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

شرع میں ثبوت نسب کے معاملے میں حتی الامکان نسب کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جہاں پر نسب کے ثبوت کا امکان بھی ہو وہاں پر بھی نسب کوثابت کیا گیا ہے تا کہ کوئی آدمی بغیر نسب کے نہ رہے جیسے کہ مشرق میں رہنے والے آدمی نے مغرب میں رہنے والی عورت سے نکاح کیا اور پھر عورت کے ہاں بچہ ہوا تو یہ بچہ بھی ثابت النسب ہوگا اگرچہ حقیقۃً دخول نہ پایا گیا ہو ۔اگر بچے کے نسب کا ثبوت نہ ہوسکے تو ایسے بچے کے چند احکامات کو ذکر کیا جاتا ہے:

1۔شرع نے اس کو زندہ رہنے کا حق دیا ہے مارنے کا حکم نہیں ہے ۔جب زندہ رہا تو یہ بھی معاشرے کا ایک فرد ہے تاکہ عام مسلمانوں کی طرح اپنی زندگی گزار سکے اور عام مسلمانوں کی طرح اپنی ضروریات پوری کرسکے  اور معاشرے میں لوگوں کو اس کے ساتھ اچھا برتاؤ اور حسن سلوک کرنا چاہیے کیونکہ اس کے عدم ثبوت نسب میں اس کی طرف سے کوئی غلطی نہیں ہے اور شرع میں ان سے قطع تعلق رکھنے اور شادی کرنے کی ممانعت کاکوئی ذکر نہیں ہے۔

2۔اسی طرح جیسے ثابت النسب بچے کی پرورش کا حق ماں کو ملتا ہے ایسے ہی غیر ثابت النسب کی پرورش کا حق بھی ماں کو ہی ملے گا جب تک کہ ماں مرتدہ اور فاجرہ نہ ہو۔

3۔جب بچے کا نسب ماں سے ثابت ہوا تو یہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوگا اور ماں کی میراث کا حقدار ہوگا ۔

4۔جب یہ معاشرے کے افراد میں سے ایک فرد ہے تو جس طرح دنیاوی امور میں کردار ادا کرسکتا ہے تو شرع نے اس کو دینی امور میں بھی کردار ادا کرنے کی اجازت دی ہے ۔اس سے معلوم ہوا کہ معاشرے میں ہرشعبہ میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

5۔اسی طرح اس کے لئے عالم مسلمانوں کی طرح رضاعت اور حرمت مصاہرت کے احکام بھی ثابت ہوں گے ۔

6۔جب اس کا نسب باپ سے ثابت نہ ہوسکے تو غیر باپ کی طرف اپنے نسب کو منسوب کرنا بالکل جائز نہیں کیونکہ حدیث پاک میں غیر باپ کی طرف اپنے نسب کو منسوب کرنے والوں کے لئے جنت کے حرام ہونے کی سخت وعید آئی ہے۔

7۔ایسے بچے کو منہ بولا بیٹابنانے سے وہ بیٹا نہیں ہوسکتا جب بڑا ہوگا تو اجنبی ہونے کے احکامات جاری ہوں گے ۔

قرآن  میں ہے:وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ(الاحزاب:4) ترجمہ :اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنایا۔

مسلم شریف میں ہے:مَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ(بخاری،کتاب المغازی،باب غزوة الطائف۔۔۔) ترجمہ:جوشخص  اپنے آپ کو غیر باپ کے منسوب کرے باوجود یہ کہ اسے علم ہے تو اس پر جنت حرام ہے۔

سنن ابی داؤد میں ہے:مَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَی إِلَی غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ(سنن ابی داؤد، کتاب الأدب،باب في الرجل ينتمي إلی غير مواليه) ترجمہ: جس نے غیر باپ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کیا یا غیر مولیٰ کی طرف منسوب کیا تو اس پر مسلسل پے درپے اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے قیامت کے روز تک۔

ومنها ثبوت النسب ، وإن كان ذلك حكم الدخول حقيقة لكن سببه الظاهر هو النكاح لكون الدخول أمرا باطنا ، فيقام النكاح مقامه في إثبات النسب ، ولهذا قال النبي : صلی الله عليه وسلم { الولد للفراش ، وللعاهر الحجر } وكذا لو تزوج المشرقي بمغربية ، فجاءت بولد يثبت النسب ، وإن لم يوجد الدخول حقيقة لوجود سببه ، وهو النكاح(بدائع الصنائع،کتاب النکاح، فصل ،ثبوت النسب)

وأما صفة النسب الثابت فالنسب في جانب النساء إذا ثبت يلزم حتی لا يحتمل النفي أصلا ؛ لأنه في جانبهن يثبت بالولادة ولا مرد لها(بدائع الصنائع،کتاب الدعویٰ،فصل فصل فی صفۃ النسب الثابت)

الحضانۃ للام ۔۔۔إلا أن تكون مرتدة أو فاجرةفجوراً یضیع الولد بہ کزنا وغناء وسرقۃ کما فی البحر(الدر المختار،ص556، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1386،مكان النشر بيروت)

رجل زنی بامرأة فولدت منه فأرضعت بهذا اللبن صغيرة لا يجوز لهذا الزاني ولا لأحد من آبائه وأولاده نكاح هذه الصبية كذا في فتاوی قاضي خان۔۔۔ وعلی هذا كل من ثبت نسبه من الواطئ ثبت منه الرضاع وفي كل موضع لا يثبت نسب الولد منه ثبت الرضاع من الأم(فتاویٰ ھندیۃ،ص 343، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ – 1991م)

وتجوز إمامة الأعرابي والأعمی والعبد وولد الزنا والفاسق كذا في الخلاصة إلا أنها تكره هكذا في المتون(فتاویٰ ھندیۃ،ص 85، الناشر دار الفكر،سنة النشر 1411هـ – 1991م)

ویکرہ امامۃ عبد الی قولہ الاان یکون غیر الفاسق اعلم القوم فھو اولیٰ وفی رد المحتار( قوله أي غير الفاسق ) تبع في ذلك صاحب البحر : حيث قال : قيد كراهة إمامة الأعمی في المحيط وغيره بأن لا يكون أفضل القوم ، فإن كان أفضلهم فهو أولی ا هـ ثم ذكر أنه ينبغي جريان هذا القيد في العبد والأعرابي وولد الزنا۔۔۔ لكن ما بحثه في البحر صرح به في الاختيار حيث قال ولو عدمت أي علة الكراهة بأن كان الأعرابي أفضل من الحضري والعبد من الحر وولد الزنا من ولد الرشدة والأعمی من البصير فالحكم بالضد (حاشیۃ ابن عابدین،ص560،الناشر دار الفكر للطباعة والنشر،سنة النشر 1421هـ – 2000م،مكان النشر بيروت)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل