لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

سوال:اپنے اپنے ملکوں میں چاند دیکھنے کے حوالے سے شریعت کی کیا رہ نمائی  ہے؟جیسے ہمارے ہاں پاکستان میں علیحدہ چاند دیکھا جاتا ہے ، سعودیہ میں علیحدہ وغیرہ۔دلیل کے ساتھ رہنمائی فرمادیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اکابر علمائے کرام کے فتاویٰ جات میں رؤیت ہلال سے متعلق بہت سے فتاویٰ موجود ہیں ۔آپ فتاویٰ دار العلوم زکریا ،جلد3،زمزم پبلشر ، اسی طرح فتاویٰ محمودیہ ،جلد 10،مکتبہ ادارۃ الفاروق اور فتاویٰ رحیمیہ ،جلد 7مطبوعہ دار الاشاعت میں اس مسئلے سے متعلق تفصیلی فتاویٰ دیکھ سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ مفتی محمد شفیع صاحب ؒ مفتی ٔ اعظم پاکستان کا ایک رسالہ ’’رؤیت ہلال ‘‘کے نام سے موسوم ہے اس کا مطالعہ بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

فتاویٰ رحیمیہ میں جو رؤیت ہلال سے متعلق فتویٰ ہے وہ نہایت عام فہم اور ہر ایک کو سمجھ میں آنے والا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔

رمضان المبارک عید الفطر ،عید الاضحی  دوسری اقوام کے تہوار کی طرح محض قومی تہوار نہیں بلکہ عبادات بھی ہیں اور ان کے اوقات بھی متعین ہیں۔قبل از وقت ادا کرنا درست نہیں اور اوقات کا دارو مدار ’’رؤیت ہلال ‘‘پر ہے ۔چنانچہ فرمان نبویﷺ ہے : لَا تَصُومُوا حَتَّی تَرَوْا الْهِلَالَ وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّی تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ(بخاری،کتاب الصوم،باب قول النبي إذا رأيتم الهلال۔۔۔) ترجمہ: جب تک چاند نہ دیکھو روزہ شروع نہ کرو ، اسی طرح جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ موقوف نہ کرو اور اگر بادل چھا جائے تو تیس دن پورے کر لو ۔

فقہی مسئلہ ہے کہ کچھ لوگ اندھیرے میں کسی نامعلوم جگہ میں قرائن و تحری سے کعبہ شریف کی سمت متعین کریں ،چار آدمی میں سے ہر ایک اپنے اپنے گروہ کے ساتھ مختلف سمت کی طرف نماز پڑھتا ہے اور ہر ایک عقیدہ رکھتا ہے کہ صحیح سمت یہی ہے جس کی طرف رخ کر کے وہ نماز پڑھ رہا ہے تو چاروں کی نماز ہوجائے گی۔

غرض کہ شرعی فیصلے کے مطابق جس دن آپ لوگ روزہ رکھیں گے اور عید کریں گے وہی دن آپ لوگوں کے حق میں رمضان اور عید کا دن ہوگا۔جو ثواب و برکات خداوند قدوس نے رمضان کے ایام اور عید کے دن میں رکھے ہیں  وہ آپ لوگوں کو حاصل ہوں گے ذرہ برابر کمی نہ ہوگی ۔پھر افواہوں پر پریشان ہونے اور بے صبر بننے کی کیا ضرورت ہے۔

بناء علیہ اگر امسال سعودی عرب میں بطریق موجب جمعہ کو عید ہوتی اور بغداد میں ہفتہ کو اور پاکستان میں اتوار کو اور ہندوستان میں اکثر جگہ پیر کو عید ہوئی تو سب کی عید صحیح اور عند اللہ مقبول ہیں اور جن لوگوں نے شرعی ضابطہ و شہادت کی پرواہ کئے بغیر اور حجت ِ شرعیہ کے خلاف عید منائی وہ مشکوک ہوگی۔

فاذا کان اربعۃ انفس یصلی کل واحد بطائفۃ الی اربع جھات لاعتقادہم ان الکعبۃ ذلک فان صلٰوۃ الاربعۃ صحیحۃ(فتاویٰ ابن تیمیۃ، جلد 21،ص 202)

والله أعلم بالصواب

لرننگ پورٹل