لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

سوال:اگر ایک بندہ اپنے حق کے لیے جھوٹ بولے؟اورمقصد سامنے والے سے صرف اپنے پیسے وصول کرناہو،اوراس کوكوئى نقصان بھی نہ ہو،

مثلاکوئی دکاندار مال كا آرڈركرے اور جب اس کومال بھیج دیاجائے،تودكاندار مال كى پىمنٹ ادانہ كرے،تو کیااس صورت مىں جھوٹ بول كر اس سے اپنے پىسے وصول كرنا جائز ہے؟جزاك اللہ خىرا ۔

الجواب باسم ملهم الصواب

جھوٹ بولناگناہ کبیرہ ہے اور جھوٹ بولنے والے پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،اس لیے مذكورہ صورت میں جھوٹبولناجائز نہیں،البتہ توریہ (یعنی ایسا ذومعنی کلام کہا جائےجس میں بولنے والے کی مراد کچھ اور ہولیکن سننے والااس سےکچھ اور سمجھے،یہ خالص جھوٹ نہیں ہوتا)سے كام لیا جاسكتاہے۔اورتوریہ سے بھی کام نہ چل سکتا ہوكہ  خریداركسی طرح رقم واپس كرنے پر راضی نہیں ہوتا،تو آپ بھی ہرجائزاورقانونی طریقہ اختیارکر کےان سے اپنی رقم کا مطالبہ کرنےاور وصول کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

نیز خریدوفروخت كےمعاملات میں آئندہ كےلیے بہتریہ ہےكہ جس خریداركے بارے میں یقین یا ظنِ غالب ہو كہ یہ مال لینے كے بعد پیمنٹ ادا نہیں كرے گا،یارقم اداكرنے میں ٹال مٹول كرے گا،تو ایسے خریدارسے پہلے آڈركیے ہوئے مال كی پیمنٹ وصول كرلی جائے اس كے بعد مال بھیجاجائے ،بغیر پیمنٹ وصول كیے مال نہ بھیجاجائے۔

واعلم أن الكذب قد يباح وقد يجب والضابط فيه كما في تبيين المحارم وغيره عن الإحياء أن كل مقصود محمود يمكن التوصل إليه بالصدق والكذب جميعا، فالكذب فيه حرام، وإن أمكن التوصل إليه بالكذب وحده فمباح إن أبيح تحصيل ذلك المقصود، وواجب إن وجب تحصيله كما لو رأى معصوما اختفى من ظالم يريد قتله أو إيذاءه فالكذب هنا واجب وكذا لو سأله عن وديعة يريد أخذها يجب إنكارها… قال -عليه الصلاة والسلام- «كل كذب مكتوب لا محالة إلا ثلاثة الرجل مع امرأته أو ولده والرجل يصلح بين اثنين والحرب فإن الحرب خدعة ، قال الطحاوي وغيره هو محمول على المعاريض، لأن عين الكذب حرام. قلت: وهو الحق قال تعالى -{قتل الخراصون} [الذاريات: ۱۰]- وقال -عليه الصلاة والسلام- «الكذب مع الفجور وهما في النار ولم يتعين عين الكذب للنجاة وتحصيل المرام(حاشية ابن عابدين،۶/۴۲۷)

ولم أجد فى فقھاء الحنفية القدامى من جوز صريح الكذب في حالة ما، إلا في حالة الاضطرار ولكن حكى الشيخ ظفر أحمد عثماني عن الإمام الشيخ أشرف علي التهانوي رحمه الله أنه قال: والحق جواز الكذب الصريح إذا لم يقدر علي التعريض في المواضع الثلاثة المذكورة في حديث أسماء وعدم جوازه إذا قدر عليه، وأما ما ذكره في شرح السير: أن الكذب المحض لا رخصة فيه فمبني الاحتياط. ويؤيد الشيخ رحمه الله ما روي عن بعض الصحابة: إن في معاريض الكلام مندوحة عن الكذب… وإنها تدل على أن الكذب إنما يحرم إذا كان عنه مندوحة بالمعاريض. وظاھر مفھومھا أنہ إن لم یکن عنہ مندوحۃ فالکذب لا یحرم عند حاجۃ معتبرۃ شرعًا، وھي التي وقع ذکرھا في حدیث أسماء من الأمور الثلاثۃ، ویؤیدہ أیضًا قصۃ الحجاج بن علاط التي أخراجھا النسائي والحاکم في استئذانہ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یقول عنہ ما شاء لمصلحۃ في استخلاص مالہ من أھل مکۃ، وأذن لہ النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم: فأخبر أھل مکۃ أن أھل خیبر ھزموا المسلمین؛ فإنہ لا یحتمل التعریض إلا أن یقال: إن الرواۃ تصرفوا في حکایۃ لفظہ، أو یقال: إنہ کان من مواضع الضرورۃ المبالغۃ إلی حد الاضطرار، واللّٰہ سبحانہ وتعالى أعلم (تکملۃ فتح الملھم،۳

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4664 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل