لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

سوال نمبر:میں نے نئی کار خریدی ہے۔ کراچی کے حالات کے پیش نظر میں اس کی انشورنس کروانا چاہتا ہوں ، براہ مہربانی مجھے بتائیں کہ کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

اسلام میں انشورنس خواہ کسی بھی قسم کی ہو، نا جائز ہے۔ یہ سود اورجوئے میں داخل ہے۔قرآن حکیم میں سود خوری کو اللہ تعالیٰ سے جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے:
 ارشاد باری تعالیٰ ہے:يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ(۲۷۸)فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ(البقرة: 278، 279)ترجمہ:’’ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مومن ہو تو سود کا جو حصہ بھی (کسی کے ذمے) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو ۔  پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو۔‘‘
 اور جوئے کی بھی ممانعت وارد ہوئی ہے:يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(المائدة: 90)ترجمہ:’’ اے ایمان والو ! شراب ، جوا، بتوں کے تھان اور جوئے کے تیرے ، یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں ، لہذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔ ‘‘
 لہٰذا اس طرح کی کوئی بھی پالیسی خریدنا اسلامی رو سے جائز نہیں۔ متوقع نقصان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں ، اور اسی پر بھروسہ رکھیے ، دنیا میں اگر کوئی مالی نقصان وغیرہ ہو تو اس پر صبر کیجیے ، اللہ اس کے بدلے میں روز قیامت لاکھوں پالیسیوں سے بھی بہتر تلافی کرے گا۔  اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3442 :

لرننگ پورٹل