لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

سوال : السلام علیکم!عورتوں کے لیے بہتر طریقہ تراویح پڑھنے کا دورۂ ترجمہ قرآن میں شرکت کے ذریعہ ہے یا گھر میں پڑھنا ہے ۔حافظہ قرآن نہیں ہے عورت تو کونسا طریقہ بہتر ہے ۔تراویح پڑھ کر ترجمہ خود گھر میں پڑھے یا دورہ ترجمہ قرآن میں شرکت کرے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

نماز پنجگانہ ،عیدین اور جمعہ کی جماعتوں میں رسول خدا ﷺ کے زمانے میں عورتیں جاتی اور شریک ہوتی تھیں اور یہ جماعتیں فرائض کی جماعتیں ہیں اور شعارِ اسلام میں سے ہیں ،مگر اختلافِ زمانہ اور تغیّرِ زمانہ کی وجہ سے صحابہ کرام ؓ اور ائمّہ عظام ؒ نے عورتوں کو ان جماعتوں میں شرکت کرنے سے روک دیا اور ائمّہ حنفیہ نے با لاتّفاق عورتوں کو جماعت میں جانے کو مکروہ قرار دیا(1) اور اس حکم فقہی کی دلیل یہ حدیث ہے :عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَوْ أَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ لَمَنَعَهُنَّ كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ (بخاری،کتاب الصلوٰۃ،باب خروج النساء الی المساجد بااللّیل)ترجمہ:’’حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ اگر عورتوں کی یہ حرکات جو انہوں نے اب اختیار کی ہیں رسول اللہ ﷺ ملاحظہ فرماتے تو انہیں مسجدوں میں آنےسے  روک دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئی تھیں  ۔‘‘

اس حدیث سے صاف طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اول زمانے میں ہی عورتوں کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ ان کا گھروں سے نکلنا اور جماعتوں میں جانا سبب فتنہ تھا اس وجہ سے حضرت عمر ؓ ،حضرت عائشہ ؓ اکابر صحابہ کرامؓ عورتوں کو جماعت میں آنے سے منع کرتے تھے ۔ عورتوں کا گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے افضل ہے ،جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا :

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا وَصَلَاتُهَا فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا(سنن ابی داود،کتاب الصلوٰۃ ،باب ماجاء فی خروج النساء الی المسجد)ترجمہ:’’فرمایا حضور ﷺ نے عورت کا کمرہ میں نماز پڑھنا گھر (آنگن) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (اندرونی) کوٹھڑی میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔‘‘

خلاصۂ کلام یہ کہ خواتین کو نماز تراویح گھر میں پڑھنی چاہئے،گھر میں بھی خواتین کی جماعت مکروہ ہے لہذا اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ خواتین کو اکیلے نماز پڑھنی چاہیے۔ اگر کوئی حافظہ نہیں ہے تو جو بھی سورتیں یاد ہیں وہ نماز تراویح میں پڑھے ،اسی طرح اولیٰ یہ ہے کہ گھر میں تراویح ادا کر کے کسی تفسیر کا مطالعہ کرلے ۔البتہ دورۂ ترجمہ قرآن کے اجتماعی پروگرام میں پردے اور دین کی حدود و قیود اور شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے شرکت کرنا بھی جائز ہے ۔

1 ۔( ويكره حضورهن الجماعة ) ولو لجمعة وعيد ووعظ ( مطلقا ) ولو عجوزا ليلا ( علی المذهب ) المفتی به لفساد الزمان(الدر المختارمع رد المحتار،کتاب الصلوٰۃ،باب الامامۃ )

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر710 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل