لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022
ہفتہ 02 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 26 نومبر 2022

سوال: السلام علیکم!کیا بالوں کو کالے رنگ سے رنگنا منع ہے؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

بالوں میں خالص سیاہ رنگ کرنا مکروہ تحریمی ہے۔البتہ خالص سیاہ کے علاوہ دیگر رنگوں سے بالوں کو رنگنا جائز ہے۔

صحيح مسلم میں ہے: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ، وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ».(مسلم، کتاب اللباس والزينة، باب في صبغ الشعر)ترجمه:’’حضرت حضرت جابر بن عبد اللہ رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس ابوقحافہ (حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد) کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کی ڈاڑھی اورسر کے بال ثغامہ کی طرح سفید تھے، اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس (سفیدی) کو کسی دوسرے رنگ سے تبدیل کر دو اور کالے رنگ سے پرہیز کرو‘‘۔

يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح، والأصح أنه – عليه الصلاة والسلام – لم يفعله، ويكره بالسواد… (قوله والأصح أنه -عليه الصلاة والسلام – لم يفعله) لأنه لم يحتج إليه، لأنه توفي ولم يبلغ شيبه عشرين شعرة في رأسه ولحيته، بل كان سبع عشرة كما في البخاري وغيره. وورد: أن أبا بكر – رضي الله عنه – خضب بالحناء والكتم مدني (قوله ويكره بالسواد) أي لغير الحرب.(الدر المختار مع الرد، كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغيره، فصل في البيع)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4173 :

لرننگ پورٹل