لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں رہتاہوں اور بلڈنگ کی مینٹینس کمیٹی کا حصّہ ہوں۔ بلڈنگ کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے ہمیں فنڈز درکار ہوتے ہیں، جو کہ رہائشی کمیٹی کے لیے طے شدہ ضابطے کے مطابق ادا کرتے ہیں۔ بروقت فنڈز کی وصولی کے لیے کوشش کی جاتی ہے، لیکن ایسے رہائشی جو بروقت رقم ادا نہیں کرتے یا نہیں کرپاتے ان سے جرمانہ لیا جاتا ہے۔ جرمانہ کی رقم بلڈنگ ہی کی انتظامی معاملات میں خرچ ہو تی ہے،کسی تنخواہ کی مد میں نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جرمانہ لینا درست ہے؟ اگر جرمانہ عائد نہ کیا جائےتو رہائشی وقت پر ادائیگی نہیں کرتے جس کی وجہ سے شدید مالی بحران کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیے۔ 

الجواب باسم ملهم الصواب

ہر رہائشی پر لازم ہے کہ بروقت مینٹیننس ادا کردیا کرے۔ تاہم انتظامی اخراجات کی ادائیگی میں تاخیر پر اضافی جرمانہ مقرر کرنا یا وصول کرنا شرعًا جائز نہیں۔ اس لیے تاخیر کی صورت میں بھی متعین اخراجات وصول کرنا ہی ضروری ہے۔ البتہ شدید بحران سے بچنے کے لیے یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ تاخیر کرنے والے افراد کو ملنے والی جو سہولیات منقطع کرنا ممکن ہو منقطع کر دی جائیں۔ مثلا بجلی، گیس، پانی اور جنریٹر وغیرہ اور پھر جب وہ واجب الاداء مینٹننس اخراجات کی ادائیگی کر دیں تومذکورہ سہولیات  بحال کردیں۔ اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے۔ 

وفي البحر: ولا يكون التعزير بأخذ المال من الجاني في المذهب. (مجمع الأنهر، كتاب الحدود، فصل في التعزير)

والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال. (رد المحتار، كتاب الحدود، باب التعزير)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4314 :

لرننگ پورٹل