لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022
ہفتہ 20 شوال 1443 بہ مطابق 21 مئی 2022

مجھے گیس کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے نماز پڑھنا، قرآن کی تلاوت کرنا مشکل ہوجاتا ہے، اسی طرح میرا باڈی ٹمپریچر کا بھی مسئلہ ہےکہ مجھے بہت زیادہ سردی لگتی ہے، مجھے پانی میں ہاتھ ڈالنا برتن دھونے کے لیے یا کسی بھی مقصد کے لیے انتہائی دشوار لگتا ہے، پھر آج کل جیسے مستقل نزلہ وغیرہ ہے تو اور بھی مصیبت ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں اکثر نمازیں فوت ہو جاتی ہیں، پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ پیشاب لیک ہو جاتا ہے کھانسی، ہنسی، چھینک وغیرہ کے دوران، جس کی وجہ سے مستقل میں ایک عجیب و غریب ٹینشن کا شکار رہتی ہوں پاکی اور ناپاکی کے مسئلے میں، کیونکہ کپڑے اور جسم اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کو وضو توڑنے والی چیزوں میں سے کوئی چیز مثلاً قطرہ، ریح، خون وغیرہ مسلسل آتا رہتا ہے اور ایک نماز کے مکمل وقت میں سے اتنا وقت بھی نہیں ملتا کہ وہ وضو اور پاکی کے ساتھ اس وقت کی فرض نماز ادا کرسکے تو وہ شرعا معذور ہے۔

معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد نیا وضو کرکے پاک کپڑا پہن کر یا جس جگہ پر نجاست لگی ہے اس کو دھو کر فرض، واجب، سنن ونوافل جو چاہے پڑھ سکتی ہے ليكن اگر پيشاب كے قطرے ركتے نہ هوں تو كپڑے دھونے كی ضرورت نهيں۔ جب تک اس نماز کا وقت باقی رہے گا وضو توڑنے والی چیز کے جاری رہنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ البتہ اس وضو توڑنے والی چیز کے علاوہ دوسری وضو توڑنے والی چیز پائی جانے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

اور اگر نماز کے مکمل وقت میں عذر نہیں رہتا بلکہ کچھ وقت ختم بھی ہوجاتا ہےتو یہ سائلہ شرعی طور پر معذور نہیں کہلائیں گی اور پھر ہر نماز کےلیے مکمل پاکی حاصل کرنا ضروری ہوگا یعنی جتنی بار بھی وضو ٹوٹے اتنی بار وضو کرنا اور کپڑوں کو پاک کرنا ضروری ہوگا۔ بہتر یہ  ہے کہ پیشاب کے مقام پر کوئی کپڑا وغیرہ رکھ لیں اور نماز کے وقت اس کپڑے کو نہا کر بدن کو پاک کرکے نماز ادا کریں۔

باقي سردی وغیرہ میں پانی کا استعمال مشکل ہو تو گرم پانی استعمال کریں لیکن اگر پانی کا استعمال کسی طرح ممکن نہ ہو یا پانی کے استعمال سے کسی بیماری کا خوف ہو تو ایسی صورت میں ہر نماز کے لیے تیمم کرنا جائز ہو گا۔

(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه (أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب ، وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث. (رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب فی احکام المعذور)

(وحكمه الوضو ء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض)۔۔۔(ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولی (فإذا خرج الوقت بطل) أي : ظهر حدثه السابق. (رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الحیض، مطلب فی احکام المعذور)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4368 :

لرننگ پورٹل