لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

 کیا دلہن کو خوبصورتی کےلیے نقلی بال، نقلی پلکیں، نقلی ناخن وغیرہ کچھ دیر کےلیے مثلا آٹھ گھنٹے کےلیے لگاسکتے ہیں جو انسانی بال سے بنے ہوئے نہ ہوں؟ مزید یہ کہ دلہن کے ساتھ ساتھ جو خواتین کسی فنکشن کےلیے نقلی بال، ناخن، پلکیں (جو انسانی بال سے نہ بنے ہوں) لگواتی ہیں کیا خوبصورتی کےلیے ان کا لگانا جائز ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

نقلی بال، ناخن اور پلکیں اگر غیر انسانی ہوں اور خنزیر سے حاصل نہ کیے گئے ہوں، تو دلہن کی تزئین کے لیے ان کا لگانا جائز ہے۔ البتہ شوہر کے لیے مزین ہونے کے علاوہ کسی اور غرض کے لیے ان چیزوں سے تزئین جائز نہیں۔

بخاری شریف میں ہے: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي غَيْرَ الَّذِي يُعْطِينِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: المُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ". (صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب المتشبع بما لم ينل) ترجمہ:’’حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میری ایک سوکن ہے، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہوگا کہ  ایسا بناؤ سنگھار شوہر کی طرف سے ظاہر کروں کہ وہ چیزیں اس نے مجھے دی نہ ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا  کہ جو ایسی نمود و آرائش کرے جو اس کے پاس نہ ہو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے شخص کی طرح ہے۔‘‘

واضح رہے کہ نقلی بال سر پر لگے ہونے کی صورت میں ان بالوں پر مسح کرنے سے وضونہیں ہوگا، لہذا ان بالوں کی اتار کر سر پر مسح کرنا ہوگا، اسی طرح نقلی پلکیں اور ناخن اگر اصلی پلکوں یا ناخنوں تک پانی کےسرایت کرنے سے مانع ہوں تو وضو سے پہلے انھیں بھی اتارنا ضروری ہوگا، بصورت دیگر وضو درست نہ ہوگا۔لہذا شادی کی رات عشاء کے بعد اگر لگالے اور فجر سے پہلے نقلی چیزیں بال وغیرہ اتارلیے جائیں، تو اس کی گنجائش ہوگی۔

(قوله: سواء كان شعرها أو شعر غيرها)؛ لما فيه من التزوير كما يظهر مما يأتي، وفي شعر غيرها انتفاع بجزء الآدمي أيضاً، لكن في التتارخانية: وإذا وصلت المرأة شعر غيرها بشعرها فهو مكروه، وإنما الرخصة في غير شعر بني آدم تتخذه المرأة لتزيد في قرونها، وهو مروي عن أبي يوسف، وفي الخانية: ولا بأس للمرأة أن تجعل في قرونها وذوائبها شيئاً من الوبر (قوله: «لعن الله الواصلة» إلخ) الواصلة: التي تصل الشعر بشعر الغير والتي يوصل شعرها بشعر آخر زوراً." فقط واللہ اعلم. (رد المحتار مع الدر المختار)

قال ابن عابدين: (قوله: ومسح ربع الرأس) المسح لغة إمرار اليد علی الشيء. وعرفا إصابة الماء العضو… وقال: (قوله: بخلاف نحو عجين) أي كعلك وشمع وقشر سمك وخبز ممضوغ متلبد جوهرة، لكن في النهر: ولو في أظفاره طين أو عجين فالفتوی علی أنه مغتفر قرويا كان أو مدنيا. اهـ. نعم ذكر الخلاف في شرح المنية في العجين واستظهر المنع؛ لأن فيه لزوجة وصلابة تمنع نفوذ الماء. (قوله: به يفتی) صرح به في الخلاصة وقال: لأن الماء شيء لطيف يصل تحته غالبا اهـ ويرد عليه ما قدمناه آنفا ومفاده عدم الجواز إذا علم أنه لم يصل الماء تحته، قال في الحلية وهو أثبت. (حاشية ابن عابدين، كتاب الطهارة، باب فرض الغسل)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4357 :

لرننگ پورٹل