لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

مندرجہ ذیل مسئلے میں رہنمائی فرمائیں:

۱۔ ایک کمپنی کے پچاس فیصد شیئرز زید کے پاس ہیں اور پچاس فیصد بکر کے پاس ہیں،  دونوں میں یہ طے پایا  کہ کمپنی  میں شرکت کا معاملہ ختم کرتے ہوئے کوئی بھی ایک پارٹی کمپنی کی مکمل ملکیت حاصل کر لے اور اس کے لیے ضابطہ یہ مقرر کر دیا گیا کہ کمپنی کی ملکیت کا حقدار صرف وہی ہوگا جو شیئرز کی زیادہ سے زیادہ بولی دے گا ، جس کے اصول وضوابط بھی طے کرلیے گئے۔ اب زید فی شیئر سو روپے کی بولی دے کر جیت جاتا ہے جس کے بعد اس کے پاس ادائیگی کے لیے تین ماہ کا وقت ہوتا ہے۔ 

۲۔لیکن  کسی وجہ سے زید اس خریداری سے دستبردار ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں یہ ڈیل نہیں اٹھاسکتا تو جرمانے یا کسی بھی طور پر بکر اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ زید کے پاس موجود حصص دس فیصد کم رقم مثلا نوے روپے میں خرید لے اور اسے بھی اس رقم کی ادائیگی کے لیے تین ماہ کا وقت دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح دس فیصد کم کرنا شرعاً جائز ہے؟

۳۔ اب اگر بکر کہتا ہے کہ میرے پاس بھی رقم نہیں ہے اور میں یہ نہیں اٹھاسکتا تو سوال  یہ ہے کہ آغاز میں بولی جیتنے والی پارٹی زید نے جو دس فیصد بیعانہ دیا تھا جس پر وہ سو روپے میں خریدنے کا حقدار ہو گیا تھا تو کیا بکر اس بیعانے کو لوٹانے کا ذمہ دار ہے یا پھر بکر کے لیے یہ بیعانے کی رقم خود رکھ لینا بھی جائز ہے؟برائے مہربانی اس معاہدے کی تفصیلات کے متعلق شرعی حکم ذکر کر دیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

۲،۱۔صورت مسئولہ میں ذکر کردہ شرط عقد کے تقاضے کے خلاف ہونے کی بناء پر   فاسد ہے۔ اس شرط فاسد کی بنیاد پر دونوں کے درمیان خرید وفروخت کے جو معاملات ہوئے وہ معتبر نہیں، لہذا مال بدستوردونوں کی ملک میں ہے۔ باقی اب اگر دونوں فریق معاملہ ختم کرنا چاہیں تو موجودہ ریٹ پر جو فریق خریدنا چاہے اس کو دوسرا فریق اپنا حصہ فروخت کردے۔

۳۔پہلے فریق نے بیعانہ کے نام پر جو رقم ادا کی ہے، فریق ثانی پر اس کو واپس کرنا لازمی ہے۔

مسند احمد میں ہے:أَلَا لَا تَظْلِمُوا أَلَا لَا تَظْلِمُوا أَلَا لَا تَظْلِمُوا إِنَّهُ لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ. (مسند احمد، مسند البصريين، حديث عم أبي حرة الرقاشي عن عمه رضي الله تعالی عنهما) ترجمہ:’’خبردار کسی پر ظلم نہ کرو (تین مرتبہ فرمایا) کسی شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں ہے‘‘۔

زید عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ، قَالَ: «نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ» (سنن ابي داود، كتاب البيوع، ابواب الإجارة)

بکر ولا يصح التعليق عليه بأن يقول إن قدم زيد فقد بعتك أو آجرتك بسبب أن انتقال الأملاك يعتمد الرضی والرضی إنما يكون مع الجزم ولا جزم مع التعليق فإن شأن المعلق عليه أن يكون يعترضه عدم الحصول. (الفروق للقرافي، الشرط الخامس والأربعون)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4330 :

لرننگ پورٹل