لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

 بعض لوگ یہ نظریہ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی بندہ ایک فرض کا مستقل تارک ہے تو اس صورت میں اس کی دوسری عبادات و فرائض کی ادائیگی اکارت جائے گی بلکہ اس کے منہ پہ دے ماری جائے گی اور اللہ کے ہاں سے اسے اجر نہیں ملے گا۔ البتہ اس نظریے کے اثبات کے لیے عمومًا ایک روایت اس انداز میں بیان کی جاتی ہے:

’’رسول اللہ ﷺنےفرمایا: اللہ تعالیٰ نےجبرئیل کو حکم دیا کہ فلاں بستیوں کواُن کے رہنےوالوں سمیت اُلٹ دو! حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس پرحضرت جبرئیل ؑنےعرض کیا: اےمیرےربّ !ان میں توتیرافلاں بندہ بھی ہےجس نےچشم زدن کی مدت تک بھی تیری معصیت میں بسرنہیں کی! آنحضورﷺنے فرمایا کہ اس پراللہ تعالیٰ نےفرمایا کہ اُلٹ دو انہیں پہلے اس پر پھر دوسروں پر، اس لیےکہ اس کےچہرےکی رنگت کبھی میری (غیرت اورحمیت کی )وجہ سےمتغیرنہیں ہوئی۔غورکیجیےکہ اس بندہ عابدکی عبادت گزاری کی شہادت کون دےرہےہیں اورکیادےرہےہیں ؟گواہی دےرہےہیں حضرت جبرئیل امین ؑکوئی کرائے کا وکیل نہیں۔وہاں دےرہےہیں جہاں ابوجہل بھی جھوٹ نہیں بول سکےگا،اورگواہی یہ دی جارہی ہےکہ اس بندۂ عابد نے آنکھ جھپکنے کی مدت بھی اللہ تعالیٰ کی معصیت میں بسرنہیں کی ۔یہاں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ایک شخص کی ذاتی عبادت اورنیکی کا یہ عالم ہے۔لیکن بارگاہِ خداوندی سےحکم یہ صادرہواکہ ’’اُلٹوپہلےاس پرپھردوسروں پر‘‘۔کیوں ؟چہرےکارنگ میری (غیرت وحمیت )کی وجہ سےکبھی متغیرنہیں ہوا۔یہ لیےکہ اس بےغیرت اوربےحمیت انسان اسی سزاکامستحق ہےکہ عذاب پہلےاس پرنازل ہوپھردوسروں پر۔حمیت وغیرت دین دراصل ایمان باللہ کااہم ترین تقاضاہے۔اس حمیت و غیرتِ حق کےبغیرنہ ولایت کی کوئی ادنیٰ سی نسبت ہےنہ کوئی انفرادی عبادت، کوئی زہداورکوئی ریاضت اللہ تعالیٰ کےہاں مقبول ہے۔تواصی بالحق امربالمعروف نہی عن المنکر، دعوت الی اللہ، اعلائےکلمہ اللہ کی سعی وجہداسی غیرتِ حق اورحمیت دینی کےعملی مظاہرہیں ۔یہ دین کی پشت پناہی اورنصرت ہے۔ان چیزوں سےاگرزندگی خالی ہےاورانفرادی زہدوعبادت اوروظائف واَ ورادہیں توولایت کی نسبت کاکوئی سوال نہیں ۔ان تمام ریاضتوں کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرکاہ کےبرابربھی نہ وقعت ہےاورنہ وزن ہے۔کسی کی والدہ کی شان میں کوئی شخص کوئی گستاخانہ بات کہہ بیٹھےتواس کے پورےجسم کاخون چہرے پر جمع ہوجائےگا، وہ مرنے مارنے پرتل جائےگا۔لیکن اللہ اوراس کےرسول ﷺ کی شان میں گستاخی ہوتی رہے،اس کےدین کامذاق اڑتارہےاورکوئی اپنی نفلی عبادت وریاضت میں مگن رہےتواسےولایت سےکیانسبت ہوسکتی ہے؟یہ توابلیس کامشن ہےجسےعلامہ اقبال نےان الفاظ میں بیان کیاہے:

مست رکھوذکروفگرصبح گاہی میں اسے

پختہ ترکردومزاجِ خانقاہی میں اسے!

چنانچہ ولایت کاحقیقی مفہوم ہےغیرتِ حق ‘حمیت دینی ‘دین کی پشت پناہی ‘اس کی کےغلبہ واقامت کےلیےجہاد و قتال۔ اگر ولی کایہ تصورآپ نےجان لیاتواس نصرت ‘اس کامنطقی نتیجہ بھی سمجھ میں آجائےگاکہ :’’جس نےمیرےکسی ولی سےعداوت رکھی اُس کےخلاف ہیں ااعلانِ جنگ ہے!‘‘جوشخص ولی ہےہمہ تن میرےدین کاحمایتی بناہواہےاُسےمیں چھوڑدوں ‘یہ کیسے ممکن ہے! جو اللہ کاولی ہے اللہ بھی تو اس کا ولی ہے۔پس فرمایا کہ جس شخص نےمیرےولی کےساتھ دشمنی رکھی تواس کے بارے میں فرمایا گیا۔ ’’خلاف میں اعلانِ جنگ کرچکاہوں۔‘‘  برائے مہربانی راہنمائی فرمائیں کہ:

1۔ کسی ایک فرض عین کے تارک کی دوسری عبادات مقبول ہیں یا نہیں مثلا کیا زکٰوۃ نہ دینے والے کی نماز قبول ہو گی یا نہیں؟

2۔  فرض کفایہ جیسے دعوت وتبلیغ، جہاد فی سبیل اللہ کے تارک کے دوسرے معمولات اور عبادات قبول کی جائیں گی یا وہ مردود ہیں؟

الجواب باسم ملهم الصواب

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَه وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ. (الزلزال7-8) 

ترجمہ:’’ اور جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لےگا او رجس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی وہ اسے بھی دیکھ لے گا‘‘۔

 ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ. (فصلت:46) ترجمہ:’’جس نےنیک عمل کیا تو اس نے اپنی ہی ذات کے ( نفع کے) لیے کیا اور جس نے گناہ کیا سو (اسکا وبال ) اسی کی جان پر ہے اور آپکا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے‘‘۔

ان آیات کے اطلاق سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک کسی عبادت کا دوسری عبادت سے شرط یا علت کا تعلق نہ ہو اس کی عبادت از روئے شرع درست اور معتبر کہلائے گی۔شریعت میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں جو اس نظریے پر دلالت کرے کہ کسی ایک فرض کو ترک کر دینے والے شخص کا کوئی بھی نیک عمل یا فرض قبول نہیں ہوتا۔ 

سوال میں مذکور تقریر بلا شبہ عوامی انداز کی وجہ سے انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے لیکن علمی اصول و دلائل کے اعتبار سے انتہائی کھوکھلی تحریر ہے۔ اور اس میں دعوے کی مکمل بنیاد قلم یا تقریر کے زور پر رکھ دی گئی ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ غیرت ایمانیہ ولایت تو کیا بلکہ ایمان کے لیے بھی شرط کے درجے میں ہے، لیکن مذکورہ روایت کو  اس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر دعویٰ کچھ اور کر دیا گیا ہے۔روایت اس بات پر صریح ہے کہ اللہ کی نافرمانیاں دیکھ کر اس عابد کے چہرے پر شکن بھی نہ آئی، چہرے پر شکن کا آنا کسی کی دلی نا پسندیدگی پر دلالت کرتا ہے، تو مطلب یہ ہوا کہ اس عابد کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی دلی طور پر بھی کبھی بری نہیں لگی، لہذا (ظاہری عبادت کی صورت میں) اس کی محبت کے تمام تر دعوےمحض جھوٹے ہیں اور یہ میرا ولی نہیں، چنانچہ سب سے پہلے اسے ہی ہلاک کرنے کا حکم دیا گیا۔ 

ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ. (صحيح مسلم، كتاب الإيمان) ترجمہ: پھر میرے بعد کچھ لوگ ایسے آئیں گے جن کا قول عمل کے موافق نہیں ہوگا اور وہ ایسے کام کریں گے جن کا انھیں حکم نہیں دیا جائے گا، تو جو شخص اپنے ہاتھوں سے ان کا مقابلہ کرے وہ مومن ہے اور جو شخص اپنی زبان سے ان کا مقابلہ کرے وہ بھی مومن ہے اور جو شخص اپنے دل سے ان کا مقابلہ کرے(یعنی دل میں برا جانے) وہ بھی مومن ہے اور اس کے بعد (یعنی اگر دل میں بھی برا نہ جانے تو) رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان نہیں۔ اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ  تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے مٹادے، اگر اس کی وسعت و طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے مٹا دے (یعنی اپنی زبان سے برائی کے ارتکاب سے روکے) اور اگر اس کی بھی وسعت نہ ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے)۔ اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔ غور کریں خود رسول اللہ ﷺ تو عملی مظاہر کے بغیر بھی ایک شخص کو مومن فرماتے ہیں جب کہ مذکورہ اقتباس سے یہ ظاہر ہوتا ہے  کہ معاصی کے خلاف عملی مظاہرے کے بغیر کسی عبادت و ذکر کی حیثیت پرکاہ کے برابر نہیں۔ یہ واضح تضاد ہے۔اور مذکورہ حدیث میں اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں۔

اسی طرح ایک بات یہ بھی سمجھنی چاہیے کہ ہر شخص پر بیک وقت  تمام کے تمام  دینی امور لازم یا واجب نہیں ہوجاتے بلکہ اگر مسلمانوں کی ایک جماعت کسی ایک کام مثلا جہاد میں مشغول ہو اور ایک جماعت علم کے سیکھنے سکھانے میں اور ایک جماعت ذکر و اذکار کی ترویج میں مصروف ہو تو اس طریقے سے بھی تمام فرائض مسلمانوں کے ذمے سے ادا ہو جاتے ہیں۔ جہاد جیسا اہم ترین فریضہ کہ جسے ترک کرنا منافقین کا شیوہ تھا اس کے بارے میں بھی فرمان باری تعالیٰ ہے: {وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ}   ترجمه:  اور مسلمانوں کے لیے یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ وہ (ہمیشہ) سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں۔ لہٰذا ایسا کیوں نہ ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک گروہ (جہاد کے لیے) نکلا کرے، تاکہ ( جو لوگ جہاد میں نہ گئے ہوں وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، اور جب ان کی قوم کے لوگ (جو جہاد میں گئے ہیں) ان کے پاس واپس آئیں تو یہ ان کو متنبہ کریں،  تاکہ وہ (گناہوں سے) بچ کر رہیں۔

اب سوالوں کے جواب ذکر کیے جاتے ہیں:

1۔ شریعت مطہرہ میں ہر عبادت کی کچھ نہ کچھ شرائط مقرر ہیں، ان شرائط کے مفقود ہونے کی صورت میں عبادت بھی درست نہ ہوگی۔ مثلًا نماز کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انسان مکلف (عاقل، بالغ اور مسلم) ہو، اور سات شرائط موجود ہوں، پھر نماز میں بھی کچھ فرائض اور واجبات ہیں جن پر اپنی شرائط کے ساتھ عمل پیرا ہونا ضروری ہے، سب کچھ تفصیل کے ساتھ کتب فقہیہ میں مذکور ہے۔ اگر نماز کو اس کی تمام شرائط اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے تو ایسی نماز از روئے شرع درست ہے۔ اور چونکہ دلائل شرعیہ میں کہیں بھی نماز کی قبولیت کے لیے زکوٰۃ کی ادائیگی کو شرط قرار نہیں دیا گیا اس لیے اس کی نماز کو غیر مقبول نہیں کہا جائے گا، قبولیت کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، وہ چاہے تو قبول کرے اور چاہے تو رد کر دے۔یہی حکم اس شخص کا ہے جو فروض کفایہ کا تارک ہو ، اس کی دیگر عبادات وغیرہ کے بارے میں ان ہی عبادات کی شرائط اور احکام لاگو ہوں گے، اگر وہ پائی جائیں تو عبادات درست ہوگی ورنہ درست نہیں۔

البتہ یہاں ایک تنبیہ ضروری ہے، بعض مقامات پر خود رسول اللہ ﷺ نے ایک عبادت کی قبولیت کو دوسری عبادت پر موقوف فرمایا ہے۔ مثلا سنن ابی داود میں ہے: مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ. (سنن أبي داود، کتاب الصیام، باب الغيبة للصائم)

ترجمہ:’’ جو شخص بحالت روزہ جھوٹ بولنا اور اس پر برے عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالی کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے‘‘۔

تو ایسی جگہ علماء کے نزدیک روزے کی عدم مقبولیت سے مراد اس کے اجر و ثواب سے محرومی ہے، اس عدم قبولیت سے مراد یہ نہیں کہ اس كا روزه معتبر نہیں یا وہ روزہ کو لوٹا ئے یا اس کی قضاء کرے،کیونکہ حقیقتا اس کا روزہ صحیح ہے اگرچہ اجر وثواب میں کمی کا امکان ہے۔ پھر بھی ترک نماز کا عذاب بہت شدید ہے اور اگر اللہ تعالی کی طرف سے معافی نہ ہوئی تو قیامت کے دن یہ میزان میں ظاہر ہوگا۔

2۔ اسی طرح کسی ایک فرض کفایہ کے تارک کی دوسری عبادات بھی از روئے شرع درست ہیں۔

وكأن هذا مأخذ من قال: إن التوبة عن بعض المعاصي غير صحيحة، والصحيحة صحتها كما هو مقرر في محلها بناء علی الفرق بين الصحة والقبول، فإنه لا يلزم من عدم القبول عدم الصحة بخلاف العكس…فعدم الحاجة عبارة عن عدم الالتفات والقبول…ويؤخذ منه أن يتأكد اجتناب المعاصي علی الصائم كما قيل في الحج، لكن لا يبطل ثوابه من أصله بل كماله، فله ثواب الصوم وإثم المعصية، وأما ما نقله البيهقي عن الشافعي واختاره بعض أصحابه من أنه يبطل بذلك ثوابه من أصله فيحتاج إلی دليل معين، وعليل مبين، وأما قول ابن حجر: يتأكد علی الصائم أي من حيث الصوم فلا ينافي كونه واجبا من جهة أخری أن يكف لسانه وسائر جوارحه من المباحات. (مرقاة المفاتیح، کتاب الصوم، باب تنزيه الصوم)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4243 :

لرننگ پورٹل