لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

 سورۃ النساء  آیت نمبر۵۹ کے ذیل میں یہ واضح فرمائیے کہ کیا ’’اولوا الامر‘‘ سے مراد حکمران وقت ہیں؟ مزید یہ کہ اختلاف کی صورت میں جو معاملے کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹانے کو کہا گیا ہے تو کیا یہ اختلاف مسلمانوں کا حکمران وقت سے ہے یا مسلمانوں کے درمیان کسی فقہی مسئلے میں اختلاف مراد ہے؟یہ بھی واضح کیجیے کہ اس آیت سے حکمران وقت کے خلاف بغاوت کی کیا صورت ہوسکتی ہے اس پر بھی روشنی ڈالیے، برائے مہربانی اگر تفصیلی جواب ابھی ممکن نہ ہو تو اس حوالے سے مطالعہ کرنے لیے کسی مفصل کتاب کا نام بتادیجیے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

راجح قول کے مطابق ’’اولوا الامر‘‘ سے مراد علماء اور فقہاء ہیں جن کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔ بعض مفسرین اس سے حکمران وقت مراد لیتے ہیں، لیکن اصل حکم کے اعتبار سے علماء اور فقہاء کو ہی ’’اولوالامر‘‘ ہونا چاہیے۔ موجودہ زمانہ میں سیاست کو دین  سے جدا کردیا گیا ہے اس لیے حکمران وقت کو ’’اولوالامر‘‘ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ نیز دینی مسائل میں ان سے رہنمائی لینے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔آيت ميں مذكور اختلاف سے مراد يه هے كه اگر مسلمانوں میں کسی دینی مسئلے میں اختلاف ہوجاتا ہے تو انہیں چاہیے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ  کی طرف رجوع کرکے اس سے رہنمائی حاصل کریں۔ اگر قرآن پاک یا سنت خیر الانام سے صراحتا مسئلہ کا حل مل جاتا ہے تو  اسے قبول کرلینا چاہیے وگرنہ علماء وفقہاء کے سپرد کردیا جائے، پھر وہ کتاب وسنت میں غور وخوض کرکے مسئلہ کا جو حل بتادیں اسی کے مطابق عام مسلمانوں کو ان پر اعتماد کرتے ہوئےعمل کرلینا چاہیے۔اگر اس مسئلہ میں علماء کے مابین  نصوص کے فہم میں اختلاف ہوجاتا ہے تو ان میں سے جس  کی بات، تقوی اور دینداری  پر اطمینان   ہو   تو اس کی بات  کو لے لیا جائے۔ جہاں تک سوال  کی تیسری شق یعنی حکمران وقت کے خلاف بغاوت کی بات ہے تو یہ بات واضح رہے کہ اس آیت میں اولوالامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، حكمران وقت كے خلاف بغاوت سے اس آيت كا كوئی تعلق نهيں ہے۔

(الف) قَالَ تَعَالَی{وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ} – فَالرَّافِعُ هُوَ اللَّهُ فَمَنْ يَضَعْهُ يَضَعْهُ اللَّهُ فِي جَهَنَّمَ وَهُمْ أُولُو الْأَمْرِ عَلَی الْأَصَحِّ وَوَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ بِلَا خِلَافٍ. (الدر المختار، مسائل شتی)

(ب) وقوله: {فإن تنازعتم في شيء فردوه إلی الله والرسول} قال مجاهد وغير واحد من السلف: أي: إلی كتاب الله وسنة رسوله. وهذا أمر من الله، عز وجل، بأن كل شيء تنازع الناس فيه من أصول الدين وفروعه أن يرد التنازع في ذلك إلی الكتاب والسنة، كما قال تعالی: {وما اختلفتم فيه من شيء فحكمه إلی الله} فما حكم به كتاب الله وسنة رسوله وشهدا له بالصحة فهو الحق، وماذا بعد الحق إلا الضلال (تفسير ابن کثير، سورة النساء، الاية: 59)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3799 :

لرننگ پورٹل