لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022
منگل 01 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 27 ستمبر 2022

ایک ویڈیو موصول ہوئی ہے جس میں درج ذیل روایات بیان کی گئی ہیں ان کی ا ستنادی حیثیت کیا ہے؟

۱۔ ایک مرتبہ حضور ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے ، حضرت فاطمہ روٹی بنارہی تھیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم تو ہرروز روٹی بناتی ہو آج میں روٹی بناتا ہوں، چنانچہ آپ نے بنانی شروع کی مگر روٹی نہیں بن رہی تھی ، آپ نے روٹی سے اس کی وجہ پوچھی تو روٹی نے کہا کہ مجھے آپ نے چھولیا ہے اب مجھے دنیا کی آگ کیا جہنم کی آگ بھی نہیں جلاسکتی۔ 

۲۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جتنی بڑی مشکل اور پریشانی ہو گھر سے نکلتے ہوئے روٹی کےایک ٹکڑے پر نمک لگا کر کھالو یہ ممکن ہی نہیں کہ مایوس ہوکر لوٹو۔

۳۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس شخص نے جمعہ کے دن صبح سے عشاء تک کثرت سے درود شریف پڑھا اس نے جنت خریدلی اور جس نے یہ خبر دوسروں تک پہنچائی وہ حضور ﷺ کے ساتھ جنت میں جائے گا۔ 

۴۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ہمیشہ سمجھوتا کرنا سیکھو کیونکہ تھوڑا سا جھک جانا کسی رشتے کے ہمیشہ کےلیے ٹوٹ جانے سے بہتر ہے۔ 

۵۔آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر تھوڑا سا جھک جانے سے تمھاری عزت میں کمی آئے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا۔

الجواب باسم ملهم الصواب

۱ تا۳۔ کتب حدیث میں ہمیں اس طرح کی کوئی روایت ان الفاظ سے نہیں ملی، لہذا اس طرح سنی سنائی باتوں کو حدیث کہ کر بیان کرنا درست نہیں۔ البتہ السنن الکبری للبیہقی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اكثروا علي من الصلاة في كل يوم جمعة فان صلاة امتي تعرض علي في كل يوم جمعة فمن كان اكثرهم علي صلاة كان اقربهم مني منزلة. (السنن الكبری للبيهقي، كتاب الجمعة، جماع أبواب الهيئة للجمعة)  ترجمہ: جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ ہر خوب درود پڑھا کرو، کیونکہ میری امت کا سلام ہر جمعہ مجھ تک پہنچایا جاتا ہے، تو جو شخص مجھ پر زیادہ درود پڑھنے والا ہوگا وہ مرتبہ میں قیامت کے دن مجھ سے اتنا ہی قریب ہوگا۔

۴ تا ۵۔ بعینہ ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں ملی ہے، البتہ مفہوم کے لحاظ سے یہ دونوں باتیں رسول اللہ ﷺ کے ایک فرمان کے موافق ہیں۔

مَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ. (مسلم، کتاب البر والصلة، باب استحباب العفو…) ترجمہ:’’ جو آدمی بھی اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4077 :

لرننگ پورٹل