لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022
جمعہ 19 شوال 1443 بہ مطابق 20 مئی 2022

میں شیعہ فیملی سے تعلق رکھتی ہوں، آج سے دس بارہ سال پہلے میری شادی اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے شخص سے ہوگئی، نکاح کے وقت میرے والدین نے یہ شرط رکھی کہ نکاح اہل تشیع کے مطابق ہوگا، میرے سسرال والوں نے یہ بات مان لی، پچھلے سال میرے شوہر نے ایک اسٹامپ پیپر پہ لکھی ہوئی طلاق دی جس پر گواہوں کے دستخط بھی تھے اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی اس پر لگی ہوئی تھی، یہ پچھلے سال فروری میں انہوں نے یونین کونسل کے بجائے خود میرے والدین تک پہنچائی، والدین نے سمجھایا اور صلح کرادی، مگر اس نے خاندان میں یہ بات مشہور کردی کہ یہ میری بیوی نہیں ہے، میں نے اسے طلاق دےدی ہے۔ اس کے بعد میں نے اپنا بیڈ روم اس شخص سے الگ کرلیا، اس کے بعد میرے اور اس کے درمیان میاں بیوی والا تعلق نہیں رہا، پھر اسی سال جون میں اس نے مجھے طلاق دی، اسٹامپ پیپر تھا جس پر گواہوں کے دستخط اور میرے شوہرکے دستخط اور اس کا شناختی کارڈ نمبر وغیرہ سب درج تھا اور نوٹری پبلک والوں کی مہر بھی لی ہوئی تھی۔ یہ طلاق نامہ بھی یونین کونسل کے بجائے اس نے خود آکر میری والدہ کو دی۔ دوسری طلاق کے بعد میں اپنے والدین کے پاس آگئی اور میرا اس شخص سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اب اس بات کو چھ سات ماہ ہوچکے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ آپ آپس میں صلح کرلیں، آپ مجھے یہ بتائیں کہ ہم دونوں کا اب کوئی تعلق ہے یا نہیں؟ 

میں نے اپنا معاملہ ایک شیعہ عالم کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ مرد سنی ہے ، اس نے طلاق بھی اہل سنت والجماعت کے مطابق دینی ہے اس لیے آپ اہل سنت والجماعت کے کسی عالم، مفتی سے مسئلہ پوچھیں۔ اس کے بعد میں نے قانونی چارہ جوئی کرنے کا ارادہ کیا اور وکیل سے رابطہ کیا، وکیل نے نوٹری پبلک والوں سے ریکارڈ نکالنے کا کہا مگر ان کے پاس یہ طلاق رجسٹرڈ ہی نہیں ہوئی تھی، تو وکیل نے مجھے کہا کہ شریعت پاکستان کے قانون سے بلند ہے اس لیے آپ کسی مفتی سے رابطہ کریں، پاکستانی قانون کے مطابق تو طلاق نہیں ہوئی کیونکہ اس نے یونین کونسل کے تھرو یہ طلاق نہیں بھجوائی اور نوٹری پبلک والوں سے بھی اس نے رجسٹرڈ نہیں کرائی۔ 

اس ساری صورت حال کو دیکھتے ہوئے آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا میرایہ مسئلہ کوئی اہل سنت والجماعت کا عالم حل کرے گا یا اہل تشیع کا عالم؟ اور دوسرا مجھے یہ بتائیں کہ دو طلاقوں کے بعد ہمارا کوئی تعلق اور کوئی رشتہ ہے یا نہیں؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

جو لوگ مندرجہ ذیل عقائد میں سے کسی بھی عقیدے کے قائل ہیں، یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ خدائی اختیارات کے مالک تھے یا حضرت جبریل علیہ السلام وحی خداوندی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بجائے غلطی سے محمد ﷺ کی طرف لے آئے، یا قرآن میں کسی بھی قسم کی تحریف ہوئی ہے، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بدکاری کا الزام درست ہے، نعوذ بالله من ذلك، وہ کافر اور دین اسلام سے خارج ہیں، ان کا نکاح کسی سنی مسلمان سے منعقد نہیں ہوتا۔ اگر آپ ان عقائد میں سے کسی عقیدے کی قائل ہیں تو آپ کا نکاح اس سنی مرد سے منعقد ہی نہیں ہوا۔ اور نکاح منعقد نہ ہونے کی وجہ سے طلاق بھی درست نہیں۔ابھی تک میاں بیوی کی حیثیت سے جو زندگی گزاری ہے، یہ گناہ کی زندگی ہے اور اس سے توبہ لازم ہے۔ اسی طرح آپ دونوں کا آئندہ میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا بھی جائز نہیں۔ مذکورہ عقائد سے توبہ کی توفیق ہو جائے اور سابقہ مسلک سے براءت کا اعلان ہوجائے تو اس کے بعد اس شخص سے باقاعدہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔اور اگر آپ ان کفریہ عقائد میں سے کسی عقیدے کی قائل نہیں ہیں تو پہلی طلاق کے بعد چوں کہ عدت میں(تین ماہواری مکمل ہونے سے پہلے) رجوع نہیں ہوا ہے، اس لیے عدت ختم ہوتے ہی نکاح ختم ہوگیا اور اس کے بعد دوسری طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا آپ دونوں کا آپس کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔

وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة، بخلاف ما إذا كان يفضل عليا أو يسب الصحابة فإنه مبتدع لا كافر كما أوضحته في كتابي تنبيه الولاة والحكام عامة أحكام شاتم خير الأنام أو أحد الصحابة الكرام عليه وعليهم الصلاة والسلام. (رد المحتار، كتاب النكاح، فروع طلق امرأته تطليقتين ولها منه لبن)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4267 :

لرننگ پورٹل