لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : میں اپنی امت پر دو چیزوں کے بارے میں فکر مند ہوں۔ قرآن مجید اور دودھ۔ لوگ ہریالی، سبزہ تلاش کریں گے، خواہشات کی پیروی کریں گے، نمازیں چھوڑ دیں گے اور قرآن مجید منافق قسم کے لوگ سیکھیں گے اور اس کو ذریعہ بنا کر ایمانداروں سے جھگڑیں گے۔  

– دودھ ؟ اسکے تین مختلف معنی ہو سکتے ہیں۔ ١. دودھ سے مراد صرف دودھ ہی لیا جائے۔ یا ٢. اسکی تمام مصنوعات یا ٣. دودھ کو بطور مثال ذکر کیا گیا۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ لوگ ماکولات اور مشروبات کے پیچھے پڑ جائیں گے۔  اگر دودھ سے دودھ ہی مراد لیا جائے، تو ممکن ہے کہ ماضی میں ایسے لوگ رہے ہوں جنہوں نے دودھ کیوجہ سے مساجد سے بیزاری کا اظہار کیا ہو یا پھر مستقبل میں ایسے لوگوں کا وجود پایا جائے گا۔اگر عصر حاضر کے کرداروں پر نگاہ ڈالی جائے تو تیسرا معنی زیادہ مناسب معلوم ہو رہا ہے، کیونکہ لوگ ہوٹلوں، بالخصوص آبادی سے دور طعام گاہوں، آئس کریم مرکزوں اور کھیر گاہوں غرضیکہ زبان کے چسکوں اور دولت کی نمائش میں پڑ کر نماز اور جمعہ سے غافل ہو کر رہ گئے ہیں، ہر ایک مالدار کو بڑے بڑے ہوٹلوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کا علم ہے، جس کا وہ لحاظ بھی کرتا ہے، لیکن وہ جاہل ہو گا تو پانچ نمازوں کے اوقات سے، خطبہ جمعہ کی ابتدا کے وقت سے اور ان گھڑیوں کے تقاضے پورے کرنے سے۔ مساجد کے قریب واقع ہوٹلوں میں دودھ سوڈے کے بہانے آدھی آدھی رات تک بیٹھے رہیں گے، لیکن نماز عشاء پڑھنے کی توفیق نہیں ہو گی۔ – سبزہ تلاش کریں گے یعنی جنگلوں کیطرف نکل جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چراگاہوں میں جا کر دودھ تلاش کیا جائے۔

 سوال یہ ہے کہ روایت میں موجود  دودھ سے مراد کیا ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

مذکورہ حدیث میں  دودھ سے مراد دودھ ہی ہے البتہ اس میں دودھ پینے کی ممانعت یا پھر دودھ کو ناپسند نہیں کہا گیا سوال میں جو حدیث ذکر کی گئی ہے وہ دوسرے الفاظ کے ساتھ بھی مسند احمد میں مذکور ہے جس سے اس حدیث کی قدرے تشریح ہو جاتی ہے اور حدیث کا صحیح مفہوم سمجھنا آسان ہو جاتا ہے مسند احمد میں ہے: عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَلَاكُ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ؟ قَالَ: «يَتَعَلَّمُونَ الْقُرْآنَ فَيَتَأَوَّلُونَهُ عَلَی غَيْرِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ، وَيُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَدَعُونَ الْجَمَاعَاتِ وَالْجُمَعَ وَيَبْدُونَ (مسند الامام احمد، حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا:میں نے رسول اللہ ﷺ  کو یہ فرماتے ہوئے سنا  میری امت کی ہلاکت قرآن اور دودھ میں ہے صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کتاب اور دودھ میں ہلاکت کا کیا مطلب ؟تو حضور ﷺ نے فرمایا: لوگ قرآن کریم کو سیکھیں گے پھر اس میں اللہ تعالی کے نازل کردہ معانی کے خلاف تاویل کریں گے اور دودھ کو پسند کریں گے اور جماعت كي نماز اور جمعہ کی نماز كو چھوڑ کر دیہات میں قیام کر لیں گے۔

ان الفاظ میں صراحۃ  دودھ میں امت کی ہلاکت کا سبب بیان فرمایا کہ دودھ کی کثرت یا دودھ کے حصول کی خاطر   جماعت كي نمازکو ترک کر کے شہر سے دور دیہات کا رخ کیا جائے اور پھر دودھ کے حصول کے لیے جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہو کر نمازوں کو ترک کیا جائے ۔

أما اللبن فيبتغون الريف ويتبعون الشهوات ويتركون الصلوات. (الفتح الربانی لترتيب مسند الامام احمد بن حنبل، القسم الثالث من الكتاب فيما يختص بالقرآن الكريم)

جیسا کہ ایک روایت میں دیہات میں مستقل قیام کو ناپسند قرار دیا گیا ہےمسند احمد میں ہے: من سكن البادية جفا، ومن اتبع الصيد غفل، ومن أتی السلطان افتتن (مسند احمد، مسند عبد الله بن العباس بن عبد الطلب عن النبي ﷺ) ترجمہ : جس نے دیہات میں مستقل سکونت اختیار کی وہ سخت دل ہوا اور جو شکار کے پیچھے پڑا وہ غافل ہوا اور جو بادشاہ کے پاس آیا وہ فتنے میں مبتلا کیا گیا ۔من جملہ یہ تینوں چیزیں جائز ہیں البتہ ان میں انہماک اور زیادتی نقصان کا باعث ہے ۔

(الف) جفا الرجل إذا غلظ قلبه وقسا ولم يرق لبر وصلة رحم، وهو الغالب علي سكان البوادي لبعدهم عن أهل العلم وقلة اختلاطهم بالناس، فصارت طباعهم كطباع الوحوش، وأصل التركيب للنبو عن الشيء، وغفلة التابع للصيد إما لحرصه الملهي أو لتشبهه بالسبع وانجذابه عن الترحم والرقة، وافتنان المتقرب إلي السلطان مما لا يخفي؛ فإنه إن وافقه فيما يأتيه ويذره، فقد خاطر علي دينه، وإن خالفه فقد خاطر علي روحه. (شرح المشكاة للطيبي، كتاب الإمارة والقضاء)

(ب) وفيه الإرشاد إلی عدم سكون البادية لأن الجفاء يجتنب. (التنوير، حرف الميم، من مع التاء المثناة)

(ج) ونص أحمد – في رواية مهنا – علی كراهية الخروج إلی البادية لشرب اللبن ونحوه تنزها لما به من ترك الجماعة؛ إلا أن يخرج لعلة، يعني: إنه إذا خرج تداويا لعله به جاز، كما أذن النبي صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ للعرنيين لما اجتووا المدينة أن يخرجوا إلی البادية ليشربوا من ألبان الإبل وأبوالها قال أبو بكر الأثرم: النهي عن التبدي محمول علی سكنی البادية والإقامة بها، فأما التبدي ساعة أو يوما ونحوه فجائز. (فتح الباري لابن رجب، كتاب الايمان، من الدين الفرار من الفتن)

لہذا سوال میں مذکور حدیث کا بھی مفہوم اصلا یہی ہے کہ  مال ومویشی کی محبت میں مبتلا ہوکر گاؤں دیہات میں سکونت اختیار کرے یاجماعت کی نماز اور جمعہ کی نماز میں حاضری سے اور دین کی تعلیم سے محروم ہوجائے تو یہ انسان کےلیے دینی اعتبار سے ہلاکت ہے، آخرت کے اعتبار سے ہلاکت ہے۔ سوال میں جومطلب بیان کیا گیا وہ اس لیے درست نہیں کیونکہ دودھ سے بنی ہوئی اشیاء کے علاوہ دیگر کھانے پینے کی دکانوں پر بھی کہیں زیادہ رش ہوتا ہے تو اس سے کھانے پینے کی اشیاء کو ناجائز یا ناپسندیدہ نہیں کہا جا سکتا کونکہ کسی بھی جائز کام میں بہت زیادہ انہماک کے ساتھ مشغول ہو کر نماز چھوڑنا انسان کا ذاتی فعل ہے اس سے کسی چیز کو ناجائز نہیں کہا جا سکتا اس لئے مذکورہ حدیث میں دودھ کی کوئی ممانعت یا حرمت کا بیان نہیں بلکہ اس کے حصول کی خاطر یا اس کی کثرت کی خاطر دینی امور میں غفلت برتنے کی ممانعت ہے

 (1) أي يتركون الأمصار ويسكنون البوادي لتوفر اللبن فيها فيحرمون من الجماعات والجمعات (تخريجه) أورده الهيثمي وقال رواه احمد وفيه ابن لهيعة وفيه كلام اهـ (قلت) فيه كلام اذا عنعن وقد صرح بالتحديث في هذا الحديث فحديثه حسن (2) (سنده) حدثنا أبو عبد الرحمن (يعني عبد الله بن يزيد المقري) ثنا ابن لهيعة عن ابي قبيل قال لم أسمع من عقبة بن عامر الا هذا الحديث قال ابن لهيعة وحدثنيه يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخيرعن عقبة بن عامر قال سمعت رسول الله صلی الله عليه وسلم الخ (غريبه) (3) أي يخرجون إلی البدو (تخريجه) أورده الهيثمي وقال رواه (حم عل) وفيه ابن لهيعة وقال أبو قبيل لم أسمع من عقبة إلا هذا الحديث(بلوغ الاماني من اسرار فتح الرباني)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر3860 :

لرننگ پورٹل