لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

سوال: قبر میں تین سوالات ہوں گے ان کے بعد چوتھا سوال کونسا ہوگا؟اس کا جواب عنایت فرمائیں۔  

الجواب باسم ملهم الصواب

بنیادی طور پر روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قبر میں تین سوال ہوں گے ایک رب سے متعلق ایک دین سے متعلق اور  ایک نبی ﷺ سے متعلق،  البتہ روایات میں ان سوالوں کی کیفیت اور الفاظ مختلف ہیں ۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے۔فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ، فَيُجْلِسَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولَانِ لَهُ: وَمَا عِلْمُكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ، فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ، فَيُنَادِي مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ: أَنْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَی الْجَنَّةِ ". قَالَ: «فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا، وَطِيبِهَا، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ»(مسند احمد،حديث البراء بن عازب) ترجمه:’’مردے کی روح لوٹا دی جاتی ہے اس کے بدن میں پس دو فرشتے آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں اس سے کہتے ہیں تیرا رب کون ہے وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے پھر وہ کہتے ہیں تیرا دین کیا ہے وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے پھر وہ کہتے ہیں یہ آدمی کون ہیں جو بھیجے گئے تمہاری طرف وہ کہتا ہے یہ اللہ کے رسول ہیں وہ کہتے ہیں کہ تجھے کیسے معلوم تو وہ کہتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی میں اس پر ایمان لایا اور میں نے تصدیق کی تو آسامن سے ایک آواز آتی ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا بستر بچھا دو اس کو جنت کا لباس پہنا دو اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دو راوی کہتے ہیں پھر جنت کی ہا اور خوشبو آنے لگتی ہے اور اس کے لئے قبر تا حد نگاہ وسیع کر دی جاتی ہے‘‘۔

اسی طرح صحیح بخاری میں آتا ہے:عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " العَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، وَتُوُلِّيَ وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّی إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ، فَأَقْعَدَاهُ، فَيَقُولاَنِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ: انْظُرْ إِلَی مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الجَنَّةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا، وَأَمَّا الكَافِرُ – أَوِ المُنَافِقُ – فَيَقُولُ: لاَ أَدْرِي، كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ: لاَ دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَقَةٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ، فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ(صحيح البخاری،كتاب الجنائز،باب: الميت يسمع خفق النعال) ترجمہ:’’حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور (اس کو دفن کرکے) پیٹھ پھیرلی جاتی ہے اور اس کے ساتھی رخصت ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ جوتوں کی آواز کو سنتا ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھا کر کہتے ہیں کہ اس شخص یعنی محمدﷺ کے متعلق تو کیا کہتا ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ تو اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنے جہنم کے ٹھکانے کی طرف دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں تجھے جنت کا ٹھکانہ عطاء کیا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ وہ ان دونوں چیزوں (جنت اور جہنم) کو دیکھے گا اور کافر یا منافق کہے گا کہ میں نہیں جانتا میں تو وہی کہتا ہوں جو لوگ کہتے تھے تو کہا جائے گا تو نے نہ جانا اور نہ سمجھا، پھر لوہے کے ہتھوڑے سے اس کے کانوں کے درمیان مارا جائے گا تو وہ چیخ مارے گا اور اس کی چیخ کو جن وانس کے سوا اس کے آس پاس کی چیزیں سنتی ہیں‘‘۔

لہذا معلوم ہوا کہ بنیادی طور پر تین ہی سوال ہیں اور ان سوالوں کی کیفیت مختلف ہے۔چوتھا کونسا ہوگا؟ ہوگا یا نہیں؟ اس بارے میں کوئی صریح روایت نہیں مل سکی۔ اس لیے تین سوالات کی تیاری جاری رکھی جائے۔ اللہ تبارک وتعالی صحیح جوابات تلقین فرمادے۔ 

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4007 :

لرننگ پورٹل