لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

عرض یہ ہے کہ ہماری برادری مل کر ایک ادارہ بنانا چاہتے ہیں، جو زکوٰۃ کی رقم سے اپنی برادری کے لوگوں کی مدد کرسکے۔ اس ادارےمیں زکوٰۃ دینے والے لوگ بھی چوڑی برادری کے لوگ ہیں اور زکوٰۃ لینے والے بھی چوڑی برادری کے لوگ ہوں گے۔اگر اضافی رقم ہوگی تو باہر کے لوگوں میں بھی دے دیں گے، مگر دیں گے انہی کو جن کو ہم بذات خود جانتے ہوں گے۔زکوٰۃ جن لوگوں کو دی جاسکتی ہے، اس کی بھی وضاحت فرمادیجیے۔ اور طریقہ کار بھی واضح کردیجیے۔ نیز کس کس مد میں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے، اس پر بھی رہنمائی فرمادیجیے۔جزاک اللہ خیراً

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر برادری کے مخیر حضرات کی طرف سے صرف اپنی سوسائٹی کے نادار افراد کو زکوۃ دینے کا التزام کیا جائے تو یہ درست ہے، البتہ زکوٰۃ كی رقم  برادری کے صرف ان لوگوں کو دی جاسکتی ہے جو مستحق زکوٰۃ  ہوں۔مستحق زکوٰۃ وہ شخص ہے جو سنی مسلمان ہو ، سید ہاشمی نہ ہو اور اس کی ملکیت میں قرض کو منہا کرکے سونا، چاندی، نقدی، سامان تجارت اور  غیر ضروری سامان سب ملا کر ساڑھے باون تولے چاندی (جس کی موجودہ قیمت تقریباً 51 ہزار روپے ہے) کے برابر نہ ہوں۔اسی طرح زکوٰۃ میں نقد رقم بھی دی جا سکتی ہے اور اس رقم سے کچھ سامان خرید کر بھی مستحق کو دیا جاسکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ مستحق کو نقد رقم ہی دے دی جائے، تاکہ اس کے لیے ہر طرح کی ضروریات پوری کرنے میں آسانی ہو۔مستحق کو زکوٰۃ دینے کا طریقہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم یا اس رقم سے جو چیز بھی خرید کر اسے دی جا رہی ہے اس رقم یا چیز کا مستحق کو خود مختار مالک بنا دیا جائے اور وه اسے جیسے چاہے اور جب چاہے استعمال کر سکے۔ لیکن اگر اسے خود مختار مالک نہ بنایا جائے بلکہ زکوٰۃ کی رقم سے مثلا کھانا خرید کر اسے یہ کہا جائے کہ ’’جتنا کھانا ہے کھا لو، ساتھ لے کر نہیں جا سکتے‘‘ تو مالک بنائے بغیر اس طرح کی اباحت سے  زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4390 :

لرننگ پورٹل