لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

 درج ذیل فیصلہ حکومت پاکستان نے کیا ہے، اس فیصلے کی رو سے ہمیں یہ مسئلہ بتایا جائے کہ اگر کوئی فریق دوسرے فریق کے پاسپورٹوں پر کاروبار کےلیے گاڑیاں بھجوائے اور دوسرا فریق اس پر راضی ہو اور اسے اس کا معاوضہ بھی دیا جائے تو کیا اس رقم کا لینا دینا جائز ہے؟

’’حکومت پاکستان نے تین سالہ کاروں کی درآمدات کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے بیرون ملک مقیم پاکستانی مستفید ہوں گے جو ذاتی سامان کے تحت کاریں بھیجنے، رہائش گاہ کی منتقلی اور گفٹ اسکیموں کے تحت کاریں بھیجنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آٹھ ہزار کاروں کو بندرگاہوں سے آزاد ہونے کے لئے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ بیرون ملک کام کرنے والے ہزاروں پاکستانیوں خصوصاً یو اے ای اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ وہاں کار ڈیلرز اور پاکستان میں اکتوبر ۲۰۱۷ء سے ان مراعات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے جب سابقہ قواعد و ضوابط واپس لے لیے گئے تھے۔ اس فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانی خوش ہوں گے کیونکہ ان میں سے اکثر میزبان ملک سے واپسی پر گاڑی لانے کی خواہش رکھتے ہیں، یا پھر اپنے اہل خانہ کو تحفے کے طور پر گاڑی بھیجنا چاہتے ہیں۔ حکومت کی سابقہ پالیسیوں کے تحت ایسی کاریں درآمد کرنے والے ہزاروں پاکستانی ملک بھر میں یہ گاڑیاں چلاتے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت ۹،جنوری۲۰۱۸ ء سے قبل درآمد شدہ آٹھ ہزار نئی اور استعمال شدہ کاریں مستفید ہوں گی۔ یہ کاریں پاکستانی بندرگاہوں پر پھنس گئیں تھیں لیکن اب پاکستان کسٹم ڈیپارٹمنٹ کو کلیئر کردیا جائے گا۔ پاکستان حکومت نے درآمدات کو روکتے ہوئے کہا کہ کاریں درآمد کنندگان کے غیر ملکی بینکوں کی تفصیلات اور کاریں برآمد کرنے والوں سے دیگر معلومات فراہم کیے بغیر لائی گئیں۔ معاملہ فیڈرل بیورو آف ریونیو، وزارت خزانہ اور وزارت تجارت نے مشترکہ طور پر زیر بحث لایا۔ اس سے پچھلے طریقہ کار کو بحال کیا گیا۔‘‘ 

الجواب باسم ملهم الصواب

کسی دوسرے شخص کے پاسپورٹ پر گاڑی منگوانا مندرجہ ذیل صورتوں سے خالی نہیں: 

حکومتی سطح پر دوسرے کے پاسپورٹ پر گاڑی منگوانے کی اجازت ہوگی یا نہیں ۔ اگر دوسرے کے پاسپورٹ پر گاڑی منگوانے پر حکومت ی طرف سے پابندی نہیں تو کسی دوسرے کے پاسپورٹ کو استعمال کر کے اس سے گاڑی منگوانا جائز ہے۔لیکن اگر حکومت کی طرف سے اجازت نہیں یا اس کاروبار میں جھوٹ ، فریب و دھوکے سے کام لیا جاتا ہے تو قانون کی خلاف ورزی اور جھوٹ کے شامل ہونے کی وجہ سے یہ کاروبار جائز نہیں ہوگا ۔

طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض. (بدائع الصنائع، کتاب السیر، فصل في بيان أحكام البغاة)

اسی طرح پاسپورٹ حکومت کی طرف سے آمد و رفت اور درآمدات و برآمدات کا اجازت نامہ ہے یہ کوئی مال نہیں جس کو کرایے پر دیا جا سکے یا فروخت کیا جا سکے لہذا پاسپورٹ دینے والے شخص کے لئے اپنے پاسپورٹ کو استعمال کرنے کی اجازت دینا اور اس پر کمیشن وصول کرنا جائز نہیں۔ 

وفي الأشباه من البيوع: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة (رد المحتار،كتاب البيوع)

والاجارة لاتخلو من وجهين اما ان تقع علی وقت معلوم او علی عمل معلوم فان وقعت علی عمل معلوم فلا تجب الاجرة الا باتمام العمل۔۔۔واذا وقعت علی وقت معلوم فتجب الاجرة بمضي الوقت ان هو استعمله او لم يستعمله وبمقدار ما مضی من الوقت تجب الاجرة واذا وقعت علی عمل معلوم في وقت معلوم كقوله خط لي هذا الثوب الی طلوع الشمس او الی غروب الشمس او صلاة الظهر ونحوها فانها فاسدة في قول ابي حنيفة لانه لا يدري ايهما يسبق وفي قول ابي يوسف ومحمد الاجارة جائزة لانها وقعت علی العمل والوقت للتعجيل ما يجوز ولا يجوز في الاجارة من الاحكام. (النتف فی الفتاوی، کتاب الاجارة، ص559، الطبعة: مؤسسة الرسالة- بيروت، تاريخ الطبع: 1404هـ – 1984م)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4340 :

لرننگ پورٹل