لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

کیا فرماتے ہیں علما ءکرام اس بارے میں کہ آج کل جو حضرات کیٹل فارمنگ کررہے ہیں، وہ اپنے کاروبار میں جب کسی دوسرے شخص کے مال سے جانور شامل کرتے ہیں تو ان سے یہ معاہدہ طے کرتے ہیں کہ اس جانور سے پیدا ہونے والا ایک بچہ وہ خود رکھیں گے اور اس کے عوض ماہانہ جانور پر ہونے والے اخراجات وصول نہیں کریں گے ۔ اس طرح کا کاروباری معاہدہ درست ہے یا نہیں ۔ اس طرح کے کاروباری معاملہ میں بہتر معاہدہ کیا ہونا چاہئے ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔ جزاک اللہ خیرا

الجواب باسم ملهم الصواب

 جانور پر کیے جانے والے ماہانہ اخراجات کا اس جانور کےبچے سے تبادلہ کرنا جائز نہیں۔کیونکہ جانور پر کس قدر اخراجات آئیں گے یہ متعین نہیں، اور اس جانور کا بچہ جسے اجرت میں متعین کیا جا رہا ہے وہ بھی فی الحال موجود نہیں۔ اس لیے یہ بیع المجہول بالمعدوم یعنی نا معلوم چیز کو غیر موجود چیز سے بیچنے کے مترادف ہے۔ جو از روئے حدیث ممنوع ہے۔اس کی درست صورت یہ ہے کہ ادارہ مال لگانے والے شخص سے جانور کو پالنے کی ایک خاص اجرت ماہانہ یا سالانہ بنیادوں پر متعین کر لے، اور بعد ازاں جب اس جانور کا بچہ پیدا ہو جائے تو باہمی رضامندی سے متعین اجرت کے بدلے اس بچے کا تبادلہ کر لیا جائے۔

بخاری شریف میں ہے:ابْنَ عَبَّاسٍ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ أَمَّا الَّذِي نَهَی عَنْهُ النَّبِيُّ صلی الله عليه وسلم فَهْوَ الطَّعَامُ أَنْ يُبَاعَ حَتَّی يُقْبَضَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَلاَ أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ. (بخاري، باب بَيْعِ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ وَبَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ) 

وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع والثمر قبل ظهوره وهذا العبد فإذا هو جارية. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 505)

وشرطها (الإجارة) كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلی المنازعة. (الدر المختار)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4421 :

لرننگ پورٹل