لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

 ایک صاحب کا بھینسوں کا باڑا ہے، وہ ان کا دودھ نکالتے ہیں، کیا ان پر زکوۃ ہوگی؟ اسی طرح کچھ جانور آگے دیے ہوتے ہیں جن کے چارے اور جگہ کا خرچہ یہ دیتے ہیں یا کچھ جانور گابھن کرنے کےلیے دیے ہوتے ہیں تو کیا ان پر زکوۃ ہوگی یا نہیں؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

اگر کوئی تجارت کی نیت سے بھینس خریدے تو اس کی مالیت پر زکوۃ لازم ہوتی ہے،  سال پورا ہونے پر دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ اس کی زکوۃ بھی ادا کرنا لازم ہے۔ اگر دودھ کے لیے جانور خریدے گئے ہوں جیساکہ سوال میں مذکور ہےتو زکوۃ کا حکم یہ ہے کہ ان جانوروں کو سال کا اکثر چارہ خرید کر کھلایا جاتا ہو تو ان جانوروں کی مالیت پر زکوۃ لازم نہیں ، البتہ آمدنی میں سے جو بچت ہوگی اس کی زکوۃ لازم ہوگی۔ 

باب السائمة (هي) الراعية، وشرعا (المكتفية بالرعي) المباح، ذكره الشمني (في أكثر العام لقصد الدر والنسل) ذكره الزيلعي، وزاد في المحيط (والزيادة والسمن) ليعم الذكور فقط، لكن في البدائع لو أسامها للحم فلا زكاة فيها كما لو أسامها للحمل والركوب ولو للتجارة ففيها زكاة التجارة ولعلهم تركوا ذلك لتصريحهم بالحكمين (فلو علفها نصفه لا تكون سائمة) فلا زكاة فيها للشك في الموجب (الدر المختار، كتاب الزكاة، باب السائمة)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4431 :

لرننگ پورٹل