لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022
جمعہ 15 جمادی الاول 1444 بہ مطابق 09 دسمبر 2022

 میری جاب کچھ اس نوعیت کی ہے، جس میں بیرون ملک سفر رہتاہے۔ سفری ضرویات اور اخراجات کو پورا کرنے کے لیے میں نے ایک عدد کریڈٹ کارڈ رکھا ہوا ہے، جس کے ذریعے میں ہوٹل وغیرہ کی پیمنٹ کرتا ہوں،اگر کارڈ کی سہولت نہ ہو تو بیک وقت اتنی رقم جو کہ کم از کم پچاس سے پچھتر ہزار تک کی ضرورت ہو سکتی ہے اور اتنی رقم ضروی نہیں کیش کی صورت میں موجود ہو، میں نے کاکارڈ کا استعمال صرف بیرونی سفری اخراجات یاپھر انٹرنیٹ پیمنٹ کے لیے رکھا ہوا ہے، اور رقم کی واپسی مقرہ تاریخ سے پہلے کر دیتا ہوں تاکہ سود سے بچا جا سکے۔ مزید یہ کہ میں کارڈ پہ جمع شدہ پوائنٹس کو بھی استعما ل نہیں کرتا۔کیا میرے لیے اس صورتحال میں کریڈٹ کارڈ کے استعمال کی گنجائش بنتی ہے؟ اگر نہیں تو متبادل بھی بتلا دیجئے۔ جزاک اللہ

الجواب باسم ملهم الصواب

واضح رہے کہ ہر طرح کے سودی معاملے میں کسی بھی درجے کی شمولیت جائز نہیں ۔

حدیث ِ رسول ﷺ میں اسے اس طرح واضح کیا گیا ہے: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَاءٌ (صحیح مسلم، کتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا…) ترجمہ :’’رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے اور اس کے کاتب (لکھنے والے) نیز گواہوں سبھی پر لعنت کی ہے اور فرمایا کہ وہ سبھی برابر ہیں۔‘‘

کریڈٹ کارڈ کا اجراء جس معاہدے کی بنیاد پر ہوتا ہے اُس کی ایک لازمی شق یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر وقت گزر گیا تو میں سود ادا کروں گا۔ظاہر ہے کہ جس طرح کسی حرام کا ارتکاب حرام ہے اسی طرح حرام کے ارتکاب کا وعدہ بھی حرام ہے اور جب تک یہ معاہدہ نہ کیا جائے کریڈٹ کارڈ کا اجراء نہیں ہوتا۔

 جدید فقہی مباحث میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب فرماتے ہیں :’’حقیقت یہ ہے کہ قرض پر لی جانے والی زائد رقم سود میں داخل ہے ۔ سود کا لینا بھی حرام دینا بھی حرام ۔اس لئے کریڈٹ کارڈ کا حاصل کرنا اصولی طور پر جائز نہیں ہے اور اس سے جو سہولتیں متعلق ہیں وہ ڈیبٹ کارڈ سے حاصل ہوجاتی ہیں۔اس لئے عام حالات میں اس کارڈ کے حصول کو ضرورت قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ یہ خیال ہوسکتا ہے کہ اگر پندرہ دنوں کے اندر ہی رقم ادا کردی جائے جس پر کوئی سود نہیں لیا جاتا تو اس لحاظ سے اسے جائز ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بات درست نظر نہیں آتی کیونکہ معاملہ کے جائز ہونے اور ناجائز ہونے کا مدار صرف نتیجہ پر نہیں ہوتا بلکہ معاملہ طے پانے کی کیفیت پر ہوتا ہے۔‘‘(جدید فقہی مباحث ،جلد 24،ص 88، زیر عنوان:بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کا شرعی حکم،مطبع:ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)

لہذا عام حالات میں کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز نہیں البتہ ملک سے باہر رقم بھجوانے یا ملک سے باہر رہنے کی صورت میں خریداری وغیرہ کا کوئی انتظام سوائے کریڈٹ کارڈ کے نہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے کی گنجائش ہے بشرطیکہ تاریخ مقررہ سے پہلے رقم جمع کروادی جائے اور تاخیر کی صورت میں سود نہ لگنے پائے۔مگر اب ڈیبٹ کارڈ کی سہولت کے آجانے کے بعد یہ آخری صورت بھی باقی نہیں رہتی لہذا ڈیبٹ کارڈ استعمال کیا جائے اور کریڈٹ کارڈ سے ہر صورت اجتناب کیا جائے ۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4309 :

لرننگ پورٹل