لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022
بدھ 17 شوال 1443 بہ مطابق 18 مئی 2022

 ایک عالم رسول اللہ ﷺ کا نسب مبارک حضرت آدم علیہ السلام تک بیان کرتے ہیں، جبکہ ایک دوسرے عالم فرماتے ہیں کہ آپﷺ کا نسب عدنان تک ثابت ہے، لہذا  حضرت آدمؑ تک نسب بیان کرنا درست نہیں۔ اس بارے میں رہنمائی فرمادیجیے۔

الجواب باسم ملهم الصواب

’’رسول اللہ ﷺکا نسب مبارک صحیح احادیث میں جو منقول ہے وہ یہ ہے ۱۔ حضرت محمد ﷺ ۲۔ بن عبد اللہ ۳۔ بن عبد المطلب ۴۔ بن ھاشم ۵۔ بن عبد المناف ۶۔ بن قصی ۷۔ بن کلاب ۸۔ بن مرہ ۹۔ بن کعب ۱۰۔ بن لوی ۱۱۔ بن غالب ۱۲۔ بن فہر۱۳۔ بن مالک۱۴ بن نضر ۱۵۔ بن کنانہ ۱۶۔ بن خزیمہ ۱۷۔ بن مدرکہ ۱۸۔ بن الیاس ۱۹۔ بن مضر ۲۰۔ بن نزار ۲۱۔ بن معد ۲۲۔ بن عدنان۔ (بخاری ۔ ج۱۔ باب مبعث النبی ﷺ)  

عدنان تک سلسلہ نسب تمام نسابین کے نزدیک مسلّم ہے، کسی کا اس میں اختلاف نہیں، اور عدنان کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سےہونا بھی سب کے نزدیک مسلم ہے۔اختلاف اس میں ہے کہ عدنان سے حضرت اسماعیل علیہ السلام تک کتنی پشتیں ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نسب شریف بیان فرماتے تھے تو عدنان سے تجاوز نہ فرماتے ،عدنان تک پہنچ کر رک جاتے اور یہ فرماتے"کذب النسابون" ( نسب بیان کرنے  والوں نے غلط کہا) یعنی ان کو تحقیق نہیں، جو کچھ کہتے ہیں وہ بے تحقیق کہتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پہلے یہ آیت تلاوت فرماتے: وَعَادًا وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِهِمْ لَایَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللهُ(ابراهيم:9) ترجمہ:’’ عاد اور ثمود اور ان کے بعد کی قومیں ان کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں‘‘،اور پھر یہ فرماتے "کذب النسابون" (نسب دان غلط کہتے ہیں) یعنی نسابین کا یہ دعوی کہ ہم کوآدم علیہ السلام تک تمام انساب کا علم ہے، بالکل غلط ہے۔اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں۔

علامہ سہیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ کسی شخص کا اپنے نسب کو آدم علیہ السلام تک پہنچانا کیسا ہے؟تو نا پسند فرمایا۔سائل نے پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام تک سلسلہ نسب پہنچانے کے متعلق دریافت کیا تو اس کوبھی نا پسند فرمایا اور یہ کہا "من يخبره به"؟ کس نے اس کو خبر دی؟ (ماخوذ از سیرۃ مصطفی)

اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ کا نسب شریف معد بن عدنان تک ہی بیان کرنا چاہیے، اس سے آگے حضرت آدم علیہ السلام تک کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے،  اس لیے اس کو بیان نہیں کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4438 :

لرننگ پورٹل