لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022
منگل 23 شوال 1443 بہ مطابق 24 مئی 2022

سورہ ص میں ’’من روحی ‘‘ سے کیا مراد ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

 اللہ نے قرآن کریم میں فرمایا: {ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ} ترجمہ:’’ پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی‘‘ اسی طر ح سوره ص ميں فرمايا: { فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ} اللہ تعالیٰ نے روح کی نسبت اپنی طرف کرکے فرمایا اپنی روح میں سے پھونک دیا تو واضح رہے کہ روح ایک مخلوق ہے جس كے ذريعہ الله تعالی بندوں ميں حيات پيدا فرماتے ہيں، یہ اللہ تعالیٰ کی صفت نہیں اور روح کی نسبت جو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے یہ نسبت تشریفی ہے۔جیسے شھراللہ، بیت اللہ، عبد اللہ وغیرہ۔یہ تمام نسبتیں تکریم اور اعزاز کے لیے ہیں۔

تفسیر قرطبی میں ہے: النَّفْخُ إِجْرَاءُ الرِّيحِ فِي الشَّيْءِ. وَالرُّوحُ جِسْمٌ لَطِيفٌ، أَجْرَی اللَّهُ الْعَادَةَ بِأَنْ يَخْلُقَ الْحَيَاةَ فِي الْبَدَنِ مَعَ ذَلِكَ الْجِسْمِ. وَحَقِيقَتُهُ إِضَافَةُ خَلْقٍ إِلَی خَالِقٍ، فَالرُّوحُ خَلْقٌ مِنْ خَلْقِهِ أَضَافَهُ إِلَی نَفْسِهِ تَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا، كَقَوْلِهِ:" أَرْضِي وَسَمَائِي وَبَيْتِي وَنَاقَةُ اللَّهِ وَشَهْرُ اللَّهِ". وَمِثْلُهُ" وَرُوحٌ مِنْهُ(تفسير القرطبي، الحجر:۲۸،۲۹) ترجمہ:’’نفخ: کسی چیز میں پھونک مارنے کو کہتے ہیں اور روح ایک جسم لطیف ہے اللہ تعالیٰ کی عادت اسی طرح جاری ہے کہ وہ بدن کے اندر اسی جسم لطیف کے ساتھ حیات کو پیدا کرتے ہیں۔اور اس کی حقیقت مخلوق کی نسبت خالق کی طرف کرنا ہے۔پس ’’روح‘‘ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور اللہ تعالیٰ نے روح کی نسبت اپنی طرف اعزازوتکریم کے لیے فرمائی ہے۔جیسے فرمایا: میری زمین،میرا آسمان، میرا گھر، اللہ کی اوٹنی، اللہ کا مہینہ،اسی طرح اللہ کی روح بھی‘‘۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4086 :

لرننگ پورٹل