لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022
جمعہ 26 شوال 1443 بہ مطابق 27 مئی 2022

ایک شخص کے پاس گابھن بکری ہے جو دودھ بھی دیتی ہے، ایک دوسرا شخص اس سے بکری دودھ کی غرض سے اس شرط پر لے جاتا ہے کہ جب دودھ ختم ہو گا تو بچہ جننے سے پہلے ہی بکری واپس کر دوں گا۔ بلا معاوضہ یہ معاملہ کرنا کیسا ہے؟ اور اگر بکری کا مالک ماہانہ کچھ رقم مقرر کر لے جو دودھ پینے والا، بکری کے مالک کو ادا کرے گا تب یہ معاملہ کیسا ہے نیز کیا کسی حدیث میں جانور دودھ پر دینے کا ثواب بیان کیا گیا ہے ؟ 

الجواب باسم ملهم الصواب

صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ معاملہ بغیر کسی عوض کے ہوا تو یہ عاریت ہے اور جانور کو دودھ یا سواری وغیرہ کے لئے عاریت پر دیناجائز ہے۔اور اگر عوض کے ساتھ یہ معاملہ طے پایا تو یہ اجارہ ہے اور اجارے میں اجرت ،عمل، مدت اجارہ کا متعین ہونا ضروری ہے ۔جبکہ مذکورہ صورت میں دودھ کی مقدار معلوم نہیں، نیز اجارے کی مدت بھی مجہول ہے، کیونکہ اس معاملے میں یہ طے کیا گیا کہ جب دودھ ختم ہو جائے گا تو میں بکری واپس کر دوں گا  ۔اس لئے اس طرح مجہول طور پر اجارے پر دینے کا یہ عمل جائز نہیں ہوگا۔

بکری کو دودھ استعمال کرنے کے لئے کسی غریب کو عاریۃًدے دینے کی فضیلت سے متعلق متعدد روایات ہیں۔

 ان میں ایک یہ روایت ہے: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أربعون حسنة، أعلاها منحة العنز، ما منها حسنة يعمل بها عبد رجاء ثوابها وتصديق موعودها، إلا أدخله الله بها الجنة (مسند أحمد ط الرسالة ، 11/ 440) ترجمہ:’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چالیس نیکیاں ہیں ان میں سے سب سے بڑی نیکی کسی کو دودھ استعمال کرنے کے لئے بلا عوض بکری دے دینا ہے بندہ جس نیکی پر بھی اللہ کے وعدے کی تصدیق اور ثواب کی امید کے ساتھ عمل کرتا ہے اس کے بدلے اللہ تعالی اس کو جنت میں داخل فرما دیتا ہے ‘‘۔

ومنحتك هذا الثوب: أي أعطيتك المنحة وهي الناقة: أي أو الشاة يعطي الرجل الرجل ليشرب من لبنها ثم يردها إذا ذهب درها ثم كثر حتى قيل في كل من أعطي شيئًا منح (العناية شرح الهداية، کتاب العارية)

ولو استأجر شاة ليحلب لبنها أو صوفها لا ينعقد وفي المحيط لو استأجر حائطا ليضع عليها جذعا أو يبني عليها سترة أو يضع فيه وتدا لا يجوز.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، 8/ 24)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4471 :

لرننگ پورٹل