لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
لاگ ان / رجسٹر
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022
جمعہ 04 ربیع الاول 1444 بہ مطابق 30 ستمبر 2022

 کیا آن لائن ٹریڈنگ(آئی کیو آپشن) درست ہے نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب باسم ملهم الصواب

آئی کیو آپشن کی صورت میں رائج آن لائن ٹریڈنگ متنوع شکلوں اور پیشکشوں کے ساتھ میں رائج ہے، سب کا خلاصہ یہی ہے کہ خریدار (الف) کسی کمپنی  کے شیئرز (جن کی موجودہ مارکیٹ ویلیو مثلاً سو روپے ہے) کو (الف) سے سو روپے میں خریدنے کا آپشن یعنی حق خریداری حاصل کرلیتا ہے، اور اس کے عوض وہ کچھ رقم مثلاً دو روپے یا اس سے کم و بیش ادا کردیتا ہے۔ اس آپشن کی مدت بھی شرائط وغیرہ میں طے ہوتی ہے۔  پھر مدت کے پورا ہونے پر یا اس سے پہلے ہی وہ شیئر مارکیٹ میں خواہ ارزاں ہو یا گراں ، دونوں صورتوں میں (الف) کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ فریق (ب) سے وہی شیئر سو روپے میں خرید کر مارکیٹ میں بیچ دے  یا پھر اپنا آپشن استعمال ہی نہ کرے۔

یہ   قمار ہی کی ایک صورت ہے، جس کا عام حالات میں حقیقی خرید و فروخت سے تعلق ہی نہیں ہوتا۔ خریداری کا آپشن یا اختیار از روئے شرع ناقابل خرید و فروخت ہے۔ مذکورہ معاملے میں اصل  مقصد خطرے پر رقم لگا کر منافع حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے یہ ناجائز ہے، اس سے احتراز کرنا واجب ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَيْسِرِ قُلْ فِيْهِمَا اِثْمٌ كَبِيْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُهُمَا اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا (البقرة:219) ترجمہ: ’’ لوگ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ بھی ہے، اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے زیادہ بڑھا ہوا ہے‘‘۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: يٰٓاَيّهَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (المائدہ:90) ترجمہ:’’ اے ایمان والو ! شراب، جوا، بتوں کے تھان اور جوے کے تیرے   یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو‘‘۔ 

وفيها: وفي الأشباه: لايجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة، كحق الشفعة، وعلی هذا لايجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف. (رد المحتار، 4/518)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4399 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔


لرننگ پورٹل