لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022
پیر 15 شوال 1443 بہ مطابق 16 مئی 2022

رزق حلال کمانا فرض ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ حرام کماتے ہیں وہ ہم سے مالی طور پر بہت آگے نکل جاتے ہیں، لوگ کہتے ہیں کہ رزق حلال میں برکت ہوتی ہے، جبکہ رزق حلال کمانے والوں کو کبھی فاقے سے گزرنا پڑتا ہے تو کبھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی مختلف مصیبتیں اٹھانی پڑتی ہیں، حالانکہ ہم نے سنا ہے کہ دنیا میں بندے کے آنے سے پہلے اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں بتائیے کہ یہ تضاد کیوں ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

حدیث شریف میں ہے: 

عن عبد الله، أن النبي صلی الله عليه وسلم قال: «طلب الحلال فريضة بعد الفريضة». المعجم الكبير للطبراني (10/ 74)

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی کریم ﷺ نے فرمایا رزق حلال کی تلاش فرائض کے بعد ایک فرض ہے۔

یعنی اللہ تعالی نے جو فرائض خمسہ ایمان، نماز، روزہ، زکوۃ ،حج لازم کئے ہیں ان کے بعد اہم ترین فرض زرق حلال کی تلاش ہے رزق کی تلاش انسان کی طبیعت میں شامل ہے کہ وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور اختیار کرتا ہے اس لئے اللہ تعالی نے رزق کے تلاش کی ترغیب نہیں بلکہ حلال کی ترغیب دی کہ وہ رزق کے حصول کے لیے کوئی غلط راستہ نہ چن لے۔ اسی طرح رزق حلال میں برکت ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ مال زیادہ ہو جائے،بلکہ برکت کا مطلب ہے کہ کم مال سے زیادہ ضروریات پوری ہوں اور انسان دلی طور پر اطمینان اور سکون میں ہو ، اس کو دین پر چلنے کی توفیق ملے۔ جہاں تک دنیاوی مصائب کا تعلق ہے اس کی مختلف حکمتیں ہیں مثلا اس کی برکت سے گناہوں کا معاف ہونا اور مصائب پر صبر کرنے کی وجہ سے درجات کا بلند ہوناوغیرہ ۔

التنوير شرح الجامع الصغير (7/ 135)

(طلب الحلال) من الرزق وفيه احتمال يأتي. (فريضة) أي واجب بإيجاب الله تعالی، قيل: وإنما لم يحث تعالی علی طلب الرزق؛ لأنه قد خلق في النفوس وازعاً قوياً علی ذلك وجبل الطباع عليه. (بعد الفريضة) قيل: واجب طلبه بعد أداء الفرائض الخمس فهي أهم منه، والظاهر أعم من ذلك، وأنه لم يرد بالبعدية إلا دفع توهم، أنه تقدم علی الفرائض التي أمر العبد فإنه لو أطلق عن القيد ربما آثرت النفوس طلب الرزق علی غيره من الفرائض لأنها تنضم فرضيته إلی ما في النفوس من الحرص عليه والداعي القوي إلی طلبه مقيد بذلك لدفع هذا.

اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صلی الله عليه وسلم وَهْوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ مَلَكًا بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ وَشَقِيٌّ ، أَوْ سَعِيدٌ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّی مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّی مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلاَّ ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُ النَّارَ. (بخاري، كتاب أحاديث الأنبياء، باب خلق آدم صلوات الله عليه وذريته)

ترجمه: ’’ہمیں رسول اللہ ﷺ (جو سراپا سچے ہیں) نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس روز رہتا ہے، پھر وہ جما ہوا خون بنتا ہے، پھر وہ اسی طرح گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے، پھر اللہ تعالی اس کی طرف چار چیزیں دے کر ایک فرشتہ بھیجتا ہے، جو اس کے اعمال، مدت، اس کا رزق اور اس کا نیک یا بدبخت ہونا لکھ دیتا ہے، پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، چنانچہ وہ آدمی (جس کا بدبخت ہونا لکھا جاتا ہے) جنتیوں والے اعمال کرتا رہتا ہےیہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن اس پر نوشتۂ تقدیر غالب آجاتا ہے اور وہ جہنمیوں والے اعمال کرنے لگتا ہے اور آخر کار جہنم ہی میں داخل ہوتا ہے‘‘۔

یعنی انسان کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے اور یہ اللہ کے علم میں ہے کہ کس کو کتنا رزق ملے گا اور اللہ نے جس کے لئے جتنا رزق متعین فرما دیا اس کو  اتنا ہی ملے گا چاہے وہ اس میں زیادتی کے لئے کوئی بھی راستہ اختیار کرے ، تو جب اللہ تعالی کے متعین کردہ رزق سے زیادہ کسی کو نہیں ملنا تو مال کمانے میں اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

حدیث شریف میں ہے: 

قال رسول الله – صلی الله عليه وسلم -: "أيها الناس، اتقوا الله وأجملوا في الطلب، فإن نفسا لن تموت حتی تستوفي رزقها، وإن أبطأ عنها، فاتقوا الله وأجملوا في الطلب، خذوا ما حل، ودعوا ما حرم (سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط (3/ 275)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ای لوگوں اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے (رزق)طلب کرو کیونکہ کوئی نفس اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنا رزق پورا پورا وصول نہ کر لے اگرچہ وہ رزق اس کو دیر سے ملے اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے (رزق)طلب کرو جو حلال ہے اس کو لے لو اور جو حرام ہے اس کو چھوڑ دو۔

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4294 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل