لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
لاگ ان / رجسٹر
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022
پیر 22 شوال 1443 بہ مطابق 23 مئی 2022

پھانسی کے ذریعے موت کی سزا کےلیے کچھ شرائط ہیں یا پھانسی کی سزا سرے سے جائز ہی نہیں؟ مزید یہ کہ سولی اور پھانسی میں کیا فرق ہے؟

الجواب باسم ملهم الصواب

۱۔حدود و قصاص میں شریعت کے متعین کردہ طریقہ پر عمل کرنا ضروری ہے، ان کے علاوہ جرائم میں حاکم مسلم تعزيري سزا جاری كرنا چاہے تو اس کی مقدار و طریقہ حاکم کی صوابدید پر ہے کہ صحابہ و تابعین کے فیصلوں سے اخذ کر کے کوئی سزا جاری کرے۔ اس لیے اگر مسلمان حاکم کسی مجرم کو تعزیرًا پھانسی کی سزا دینے کا فیصلہ کرے تو یہ جائز ہے۔

(عن المغيرة، عن الشعبي، عن علي أن يهودية كانت تشتم النبي -صلی اللَّه عليه وسلم- وتقع فيه، فخنقها رجل حتی ماتت) فيه: جواز ‌القتل بالخنق لمن أهدر دمه. «شرح سنن أبي داود لابن رسلان» (١٧/ ٢٤٩)

 البتہ اگر حدود و قصاص میں متعین سزاؤں کو چھوڑ کر پھانسی دی جائے تو یہ شرعی حد یا قصاص نہیں ہوگا۔

۲۔پھانسی گلے میں پھندا ڈال کر مارنے کو کہتے ہیں، جبکہ سولی میں ملزم کو تختہ دار پر باندھ کر معلق کر دیا جاتا ہے اور پھر اس کے پیٹ اور بائیں چھاتی پر نیزے مار کر اسے قتل کیا جاتا ہے۔

(ولا يقاد إلا بالسيف) وإن قتله بغيره خلافا للشافعي. وفي الدرر عن الكافي: المراد بالسيف السلاح. قلت: وبه صرح في حج المضمرات حيث قال: والتخصيص باسم العدد لا يمنع إلحاق غيره به، ألا تری أنا ألحقنا الرمح والخنجر بالسيف في قوله – عليه الصلاة والسلام – «لا قود إلا بالسيف» فما في السراجية: من له قود قاد بالسيف، فلو ألقاه في بئر أو قتله بحجر أو بنوع آخر عزر وكان مستوفيا يحمل علی أن مراده بالسيف السلاح والله أعلم. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، کتاب الجنایات)

الفرق بين الحد والتعزير أن الحد مقدر والتعزير مفوض إلی رأي الإمام، وأن الحد يدرأ بالشبهات والتعزير يجب معها، وأن الحد لا يجب علی الصبي والتعزير شرع عليه. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، باب التعزیر)

(قوله وكيفيته في الجوهرة) وهي أن تغرز خشبة في الأرض ثم يربط عليها خشبة أخری عرضا فيضع قدميه عليها ويربط من أعلاها خشبة أخری ويربط عليها يديه (قوله ويبعج بطنه برمح) كذا في الهداية وغيرها. وفي الجوهرة: ثم يطعن بالرمح ثديه الأيسر ويخضخض بطنه إلی أن يموت، وفي الاختيار تحت ثديه الأيسر. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين، کتاب السرقۃ، باب قطع الطریق)

والله أعلم بالصواب

فتویٰ نمبر4367 :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

لرننگ پورٹل